شاہد انجینئر : تیری یاد آئی تو آتی چلی گئی

شاہد انجینئر : تیری یاد آئی تو آتی چلی گئی

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
رابطہ نمبر:09431402672
آج جالے میں ماتمی سناٹا چھایا ہوا تھا ,ہرگھر گویا ماتم کدہ تھا ,ایسی آنکھیں جس نے اپنی پلکوں کو بہت کم نم کئے تھے لیکن آج ان آنکھوں سے آنسووں کا سیل رواں تھا , کسی زندگی کو قرار نہیں تھی ,جوان زندگیاں بوجھل بنی ہوئی تھی ,عورتوں کی آہ بکا سے موسم بھی اشکبار ہوا جاتا تھا , یہ غم کا ماحول نہ تو کسی پیر مغاں کی موت پر تھا اور نہ ہی کسی شاہ کے گذرنے پر تھا ,یہ ماحول خوش اخلاق خوبصورت اور خوبرو نوجوان شاہد انجنیر کی موت پر واقع ہوا تھا ,بڑی بڑی سیاہ ڈور لئے خوبصورت آنکھیں ,گورارنگ,خوبصورت بھرا ہوا چہرہ ,جس پر لالی کا اثر ہمیشہ نمایاں رہتا ,کھڑی ناک ,چوڑی پیشانی ,جس پر اپنے اور پرایوں سے خوب محبت کئے جانے کی لکیریں ابھری ہوئی ہوتیں ,سرپر سیاہ بال چند بال چاندی کی طرح چمکدار ,عام دنوں میں مدھوبنی کھادی کا خوبصورت رنگین کپڑا زیب تن کئے ہوئے اور شلوار مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح تنگ ,نواب زادوں کی طرح نوک دار جوتی ,کسی سے بھی ملاقات کے وقت چہرہ مسکراتا اور کھلا ہوا کیا اپنا کیا پرایاملاقات کے وقت سرخی لئے گال پر مسکراہٹ کے آثار ,غریبوں کے درد میں شرکت کو سعادت جانتا بھائی بہنوں سے بڑا ہونے کے باوجود دوستانہ تعلق رکھتا ,والد کے کاموں میں (جب کہ والد بھی باہوش سنجیدہ فکر اورمتانت وسنجیدگی کا پیکر اپنی آبادی میں قائم تمام اسکول ومدارس اور کالج کے سرپرست قاضی مولانا مجاہدالاسلام قاسمی کے دست راست اور انکے اہم کاموں میں شریک ماسٹر الحاج خواجہ محمدجابر صاحب )مشیر ,باتیں فکروں کی غماز ,سادگی اور شائستگی کا پیکر جس نے اپنی عمر کے صرف 42/بہاروں کو ہی دیکھے تھے ,کی موت پر ہرشخص سوگوار نظر آتا تھا۔
موت بھی سات سمندر پار سعودی عرب کے دمام میں واقع ہوئی جاتے ہوئے پیغام دے گیا کہ موت کا نہ کوئی وقت ہے اور نہ ہی کوئی مقام وہ تو جہاں چاہتا ہے آدبوچتا ہے ,کوئے یار میں ہر ایک کو دوگز زمیں میسر آجائے دوست واحباب اپنے اور پرائے تربت پر دو مٹھی مٹی ڈال کر دل کے بھراس اور گرماتی محبت کی انگیٹھی کو سرد کرلے بسا اوقات کچھ باضمیر لوگ اس طرح بھی رخصت ہوجاتے ہیں کہ کسی کا احسان بھی سر پر لینا نہیں چاہتے ۔گذرے زمانے کے بعض ایام جو مرحوم کے ساتھ بیتے تھے وہ کچوکے لگانے کو کافی تھے ,اچانک رات کے گیارہ بجے حافظ سفیان نے مرحوم کے موت کی اطلاع دی توآنکھوں کے سامنے اس کے ساتھ گذرے لمحات یکے بعد دیگرے دستک دینی شروع کردی ,وہ دن بھی یاد آئے جب ہم اور مرحوم دارالعلوم سبیل الفلاح جالے میں ہونے والے پہلے اجلاس عام میں احباب کو دعوت دینے کی غرض سے وایہ مسلم نگر ریوڑھا جاتے ہوئے کھیت کی پکڈنڈی پر گذرتے ہوئے راجدود موٹرسائیکل سے گرکر کھیت کے دھول میں مٹی مٹی ہوگئے تھے ,ہم دونوں ہی ایک ساتھ دھول جھاڑتے اور آگے ییچھے یہ دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ کوئی ایسی آنکھ تو نہیں جو ہمیں دیکھ رہی ہو ,اس درمیان جب کہ ہم اپنے کپڑوں پر سے دھول جھاڑ رہے تھے تو مرحوم نے کہا نہ جانے اس پگڈنڈی پر سے کتنی دفعہ گذرے ہیں لیکن کبھی خطا نہیں ہوا لیکن آج محسوس ہوا کہ دین کے کاموں میں دشواریاں زبردستی آپہونچتی ہے خدا کرے کہ یہ دھول ہمارے لئے ذخیرہ آخرت ہو,ہم دونوں ہی خوش گپی کرتے ہوئے یہ کہتے وہیں بیٹھ گئے کہ شیطان بھاگ جائے تو سفر کو تکلیف دیں گے ,میں نے کہا کہ ایک دن سب کو اس مٹی کے نیچے جاناہے وہ بہت دیر تک متفکر بیٹھا کچھ سوچتا رہا اور اچانک اٹھا گاڑی اسٹارٹ کی چلتا بنا ہمیں کیا معلوم تھا کہ میرا ہمدم میرا دوست اس طرح روٹھ کر چلاجائیگا ,اور اس طرح کہ ایک مٹھی تربت بھی میسر نہیں آئیگی ,وہ قاضی مولانا مجاہد کے ساتھ علمائ￿ برادری سے بے حد محبت کرتا تھا ,اس نے ایک موقعہ پر مجھ سے کہا دوست (وہ اکثر مجھے دوست ہی کہتا یاپھر مظفر کہ کر بلا تکلف آواز دیتا میں چونکہ ان کے دوچھوٹے بھائیوں حافظ مولانا ساجد مظاہری اور حافظ ثاقب کے ساتھ دونوں عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں حیدرآباد کے معروف دینی جامعہ دارالعلوم سبیل السلام میں گذارا تھا اور چونکہ حضرت استاد فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے میں بہت قریب اس لئے ان کے گاؤں کے بچوں جیسے مولانا نصیر سبیلی ,مولانا شمشاد سبیلی اور حافظ مولانا طارق سبیلی سے تعلق فطری تھا ,اسی نسبت سے جالے میں ان گھروں سے بھی شروع دن سے قربت رہی ان کے بڑوں آج بھی ہم بڑا جانتے ہیں ) حضرت قاضی صاحب مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں مرحوم نے کہا کہ جب ہم بنگلور میں غوثیہ کالج کے انجنیرنگ کے طالب علم تھے جہاں ہمارا داخلہ قاضی صاحب سے قربت کی وجہ آسانی سے ہوگیا تھا ,جب وہاں قاضی صاحب پہونچے تو مجھے بلوایا اس علمی پروگرام میں بڑے بڑے مقامی علما کے ساتھ دانشوروں کی بڑی جماعت موجود تھی ,میرا ہاتھ پکڑے ہر ایک کو یہ کہتے ہوئے تعارف کراتے کہ یہ میرا پوتا ہے ان کے اس انداز نے مجھے کتنا خوش کیا اور میں ان کا ہمیشہ احسان مند رہونگا اس وقت سے ان کی قدر میرے دل میں اور بڑھ گئی۔ ادھر کئی سالو ں سے مرحوم سعودی میں ملازم تھے اور اپنے شعبے میں کامیاب ہونے کی وجہ سے اہم عہدے پر فائز ہوتے تھے اس لئے اپنے بال بچوں (بیوی, دولڑکی اور ایک لڑکا ) کے ساتھ وہیں مقیم تھے ,جب وہ آتے تو مجھ سے ملاقات کو وہ قرض گردانتے تلاش کرتے ملاقات ہوتی گذشتہ سفر میں بعض اہم امور پر تبادلہ خیال بھی یہ کہتے ہوئے کیا کہ دل میں کوئی بات ہوتو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے ,دوست تم کیا گئے کہ یادوں کا ایک تسلسل اپنے ساتھ لے گئے۔ شاہد انجینئر علم وادب کی بستی جالے میں علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ان کے والد الحاج خواجہ محمد جابر کا شمار اس پورے علاقے میں دانشوروں میں شمار ہوتا ہے ,وہ شروع سے ہی تعلیم وتعلم سے جڑے ہونے کی وجہ کر علاقے میں ایک اچھے استاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ,ابتدائی تعلیم اپنے والد سے اور دینی تعلیم مولانا قطب الدین صاحب سے خصوصی طور پر حاصل کیا ,میٹرک جالے ہائی اسکول اور انٹر قاضی احمد انٹرکالج اور انجنیرنگ غوثیہ کالج سے حاصل کیا ,اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے بڑی خوبیوں کے مالک تھے اور اللہ ان کے ماں باپ قرابت داروں متعلقین محبین کو صبرجمیل عطا فرمائے ۔
( مضمون نگار جالے جامع مسجد کے امام وخطیب اور دارالعلوم سبیل الفلاح جالے کے مدرس ہیں )




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *