جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

آج مولانا انظر شاہ کل کون؟ 

علمائے دین کی گرفتاریوں کے نئے سلسلے اور انہیں غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کے نتیجے میں اُٹھنے والا ایک بڑا سوال
*شکیل رشید(فیچر ایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز،گروپ ایڈیٹر بصیرت ا ٓن لائن) 
یہ کیسی تصویر ہے!
دِل دہلانے اور جگر پارہ پارہ کرنے والی ۔
مولانا انظر شاہ قاسمی کوئی ثابت شدہ دہشت گرد نہیں ہیں لیکن دہلی پولس کے بدنام زمانہ ’اسپیشل سیل‘ کے چار سادہ لباس اہلکاروں نے انہیں یوں نرغے میں لے رکھا ہے جیسے کسی انتہائی خطرناک مجرم یادہشت گرد کو نرغے میں لیا جاتا ہے ۔ باریش مولانا انظر شاہ کی گرفتاری کی دلخراش تصویر کا سب سے دِل دہلانے والا پہلو ان کا ’بِنا ٹوپی‘ ہونا ہے ۔ ایک ایسی شخصیت ،جس کا سر ہمیشہ ٹوپی سے ڈھکا رہا ہو اسی وقت بغیر ٹوپی کے ہوسکتی ہے جب یا تو ٹوپی کی کوئی شرعی ضرورت نہ ہو یا پھر اس وقت جب وہ انتہائی پریشانی اور بے بسی کے عالم میں ہو۔ اور اس تصویر میں مولانا کے چہرے سے دکھ اور غم اوروہ پریشانی اور بے بسی جھلکتی ہوئی صاف محسوس ہورہی ہے جو گرفتاری وہ بھی بیجا گرفتاری کے بعد ایک باعزت اور باغیرت شخص محسوس کرتا ہے ۔
مولانا انظر شاہ کی بنگلور میں ان کے مکان سے گرفتاری نے صرف کرناٹک ہی کو نہیں سارے ملک کو دہلادیا ہے ۔ ملک بھر کے مسلمانوں نے اس گرفتاری پر شدیدردّعمل کا اظہار کیا ہے ۔ دینی ، مذہبی اور ملّی حلقوں نے گرفتاری پر گہرے رنج والم کے اظہار کے ساتھ اس کی بھرپور مذمت بھی کی ہے ۔ ایک جانب جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی قانونی امداد کی فراہمی کا اور دوسری طرف دیگر مسلم تنظیموں اور جماعتوں نے مولانا انظر شاہ کی حمایت میں میدان میں اترنے کا اعلان کیا ہے ۔۔۔ گرفتار ی کے اس عمل کو اور گرفتاری کی بیان کردہ وجوہ کو ’ قبول‘ کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے ۔۔۔۔ ’ اسپیشل سیل‘ نے گرفتاری کی جو وجوہ بتائی ہیں ان میں سے ایک مولانا کا ’القاعدہ‘ سے ’رابطہ‘ ہے ۔ دوسری طرف ’القاعدہ‘ میں ’بھرتی‘ کے لئے نوجوانوں کو اکسانا ہے ۔ مزید یہ الزام ہے کہ ’ القاعدہ‘ نے ملک بھر میںدہشت گردی کا ’ منصوبہ ‘ تیار کررکھا تھا اور کئی سیاست دان اس کے نشانے پر تھے ۔ باالفاظ دیگر یہ کہ مولانا انظر شاہ قاسمی القاعدہ کے منصوبوں سے باخبر تھے ۔۔۔ یعنی ’ اسپیشل سیل‘ کے دعوے کو اگر سچ مانا جائے تو مولانا انظر شاہ قاسمی ’القاعدہ‘ کے ذریعے ملک بھر میں دہشت گردی اور سیاست دانوں کو (یہاں سیاست دانوں سے مراد بی جے پی اور ’ ہندوتو‘ پر عمل کرنے والے قائدین ہیں) نشانہ پر لینے کے منصوبوں میں شامل تھے ۔۔۔
جہاں تک دہلی پولس کے ’ اسپیشل سیل‘ کا معاملہ ہے تو یہ اس ملک کے مسلمانوں کی نظر میں بھی اور حقوقِ انسانی کی ان تنظیموں کی نظر میں بھی جن کے کرتا دھرتا غیر مسلم ہیں اعتبار کے لائق نہیں ہے ۔ ’ اسپیشل سیل‘ کو ’مسلمانوں کو ٹارچر کرنے کا سیل‘ قرار دیا جاتا رہا ہے ۔ بٹلہ ہاؤس اس کا ’ کارنامہ‘ ہے ۔ آج تک بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر مشتبہ اور مشکوک بنا ہوا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ کی ایسوسی ایشن نے تو ’ اسپیشل سیل‘ کا سارا کچّا چٹھا کتابی شکل میں انگریزی اور ہندی زبانوں میں شائع کردیا ہے ۔ یہ وہ ’ سیل‘ ہے جس پر ، مسلمانوں کو بیجا طور پر گرفتار کرکے انہیں دہشت گردی کے معاملات میں ملوث کرنے اور پھر ان کے خلاف شہادتیں گڑھنے کے الزامات نہ صرف لگے بلکہ ثابت بھی ہوئے ہیں ۔ عدالتوں نے ’اسپیشل سیل‘ کی کئی بارسرزنش کی ہے ، اس کے اہلکاروں پر مقدمے قائم ہوئے ہیں اور حکومت کو باربار یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ’ اسپیشل سیل‘ کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ، مگر آج تک نہ ’ اسپیشل سیل‘ کے خلاف کارروائی کی گئی اور نہ ہی اس پر قدغن لگانے کی کوئی ضرورت محسوس کی گئی۔۔۔۔ وجہ صاف ظاہر ہے ، وہ جو اقتدار کی مسندوں پر متمکن ہیں اس ’سیل‘ کو مسلمانوں کو قابو میں کرنے کے لئے استعمال کرتے رہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ دہلی پولس کے ’ اسپیشل سیل‘ کے یوں تو کئی گھناونے کارنامے ہیں لیکن ایک کارنامہ ایسا ہے جس نے گھناونے پن کی تمام حدیں توڑ دی ہیں ، یہ ہے کمسن محمد عامر کی گرفتاری کا ۔ نابالغ محمد عامر کو بیجا طور پر دہشت گردی کے الزام میںگرفتار کرکے ۱۴؍ سال تک سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا اور جب عدالت نے اسے باعزت بری کیا تو وہ جوان ہوچکا تھا۔ اس کی زندگی کے وہ قیمتی سال جو تعلیم کے حصول میں گذرتے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گذر گئے تھے ۔۔۔ تو یہ ہے وہ ’ اسپیشل سیل‘ جس نے مولانا انظر شاہ قاسمی کو گرفتار کیا اور’ القاعدہ‘ سے تعلق کی ایک ایسی ناقابل یقین اسکرپٹ لکھی جو پہلے بھی کئی بار لکھی جاچکی ہے ۔۔۔ اور ہربار عدالت میں ’غلط‘ ثابت ہوچکی ہے ۔۔۔
دہلی پولس اور ’ اسپیشل سیل‘ نے گذشتہ دنوں تین افراد ، محمد آصف ، مولانا عبدالرحمٰن اور مسعود ظفر کو ’القاعدہ‘ سے تعلق اور رابطے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔۔۔ اِن تینوں سے مولانا انظر شاہ قاسمی کا تعلق تھا لہٰذا دہلی پولس اور ’اسپیشل سیل‘ کو ان کے ساتھ ہی مولانا بھی ’القاعدہ‘ کے رکن نظر آئے اور گرفتار کرلئے گئے ۔۔۔۔ مذکورہ تینوں افراد کی گرفتاریاں بھی ہنوز ’ شک وشبہے‘ کے گھیرے میں ہیں ، ابھی تک نہ ہی دہلی پولس اور نہ ہی ’ اسپیشل سیل‘ ان کے القاعدہ سے تعلق کو ثابت کرسکی ہے ، لہٰذا ان افراد سے مولانا کے تعلق اور اُن کے ’القاعدہ‘ سے ’رابطے‘ کو ثابت کرنا ’ اسپیشل سیل‘ کے لئے آسان نہیں ہوگا ۔ عدالت میں مولانا پر لگائے گئے الزامات اسی طرح ریت کے محل کی طرح ڈھیر ہوجائیں گے جیسے اب تک ڈھیر ہوتے چلے آئے ہیں ۔
لیکن یہ تو عدالت میں ہوگا ، سوال یہ ہے کہ مولانا انظر شاہ کی گرفتاری اس موقعے پر کیوں کی گئی ؟ اس سوال سے ایک سوال مزید جڑا ہوا ہے ، کیا ان دنوں علمائے دین خفیہ ایجنسیوں کے نشانے پر ہیں اور کیا واقعی اس ملک میں القاعدہ اور داعش نے جڑیں پکڑلی ہیں ؟ مزید ایک سوال ہے ، کیا پٹھانکوٹ دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں مولانا انظر شاہ کی گرفتاری کوئی معنیٰ رکھتی ہے ۔ باالفاظ دیگر کیا مولانا کی گرفتاری کا پٹھانکوٹ حملے سے کوئی تعلق ہے ؟
مذکورہ تمام سوالات ایک دوسرے سے مربوط ہیں اس لئے ان کے جوابات بھی ایک دوسرے سے مربوط ہونگے ۔۔۔ جہاں تک مولانا انظر شاہ کی گرفتاری کا تعلق ہے تو اس کی ’خفیہ ایجنسیوں‘ کی نظر میں اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا نام ’القاعدہ‘سے ملوث کیا گیا ہے ۔ ان دنوں خفیہ ایجنسیاں ایڑی چوٹی کا زور لگاکر یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ ’ القاعدہ‘ اور ’داعش‘ اِن دنوں ہندوستان میں سرگرم ہیں اور ہندوستانی مسلمان بالخصوص مسلم نوجوان ان کے ’بہکاوے‘ میں آرہے ہیں اور ان دونوں خطرناک دہشت گرد تنظیموں میں ’بھرتی‘ ہورہے ہیں ۔۔۔ ممبئی کے مالونی اور مہاراشٹر کے شہر پونے سے ابھی گذشتہ دنوں ’داعش‘ کے حوالے سے کچھ مسلم نوجوانوں کے نام سامنے آئے تھے اور پولس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ نوجوا ن ’ریڈیکلائزڈ‘ ہیں یعنی یہ ’ مذہبی طور پر جنونی‘ ہیں لہٰذا ان کی ’ ذہن سازی‘ کی جائے گی ۔۔۔ اس سے قبل ممبئی کی مضافاتی بستی کلیان سے تین مسلم نوجوانوں کے ’داعش‘ میں شامل ہونے کی خبر آئی تھی جن میں سے ایک اریب مجید آ ج بھی پولس کی حراست میں ہے ۔۔۔ ’داعش اور القاعدہ‘ کے ہندوستان میں قدم جمانے کی خبر عام مسلمانوں کے لئے حیرت انگیز بھی ہے اور ناقابلِ یقین بھی۔ خود ملک کے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کا یہ ماننا ہے کہ ملک کے مسلمان نہ ’ القاعدہ‘ کے ساتھ ہیں اور نہ ہی ’ داعش‘ کے ساتھ۔ پھر یہ ’ داعش‘ اور ’ القاعدہ‘ کا نام ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کے پس پشت کیا کھیل ہے ؟ یہ وہی بہت پرانا کھیل ہے جو کبھی ’ انڈین مجاہدین‘ کے نام پر اور کبھی ’لشکر طیبہ‘ اور ’ حرکت الجہاد الاسلامی‘ کے نام پر کھیلا گیا اور ملک کے بے شمار مسلم نوجوانوں کی زندگیاں برباد کرکے عام مسلمانوں کو خوف وہراس کی نفسیات میں مبتلا کیا گیا ۔۔۔۔ ایک مقصد تو سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔۔۔ یعنی مسلم دہشت گردی کے نام پر ہندوؤں کو متحد کرنا ۔۔۔۔ اور دوسرا مقصد ان تمام دہشت گردانہ وارداتوں کا الزام ’القاعدہ‘ ’ داعش‘ اور ’ دوسری غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے سر منڈھنا تھا ، جن میں اندرون ملک کے دہشت گرد ملوث ہوں ۔ اب پٹھانکوٹ حملے کے فوراً بعد ’ القاعدہ‘ کے نام پر مولانا انظر شاہ کی گرفتاری بھی اسی لئے شک وشبہے کے گھیرے میں ہے اور یہ اندیشہ سراٹھارہا ہے کہ کہیں اس گرفتاری کی بنیادی وجہ ان افراد کو ، جن میں پولس اور سیکوریٹی کے اہلکاران بھی شامل ہیں ’ کلین چٹ‘تو نہیں دینا ہے جن کے نام پٹھانکوٹ حملے کے دہشت گردوں کے حوالے سے سامنے آئے ہیں ۔۔۔ جیسے کہ فضائیہ کا افسر رنجیت سنگھ اور وہ ایس پی سلویندرسنگھ، جسے اغوا کیا گیا تھا؟ مزید ایک وجہ ہے، مسلم نوجوانوں کو ’ ڈی ریڈیکلائزڈ کرنا یعنی انہیں ’مذہب بیزار‘ بنانا۔
جہاں تک ’ القاعدہ‘ اور ’داعش‘ کے ہندوستان میں بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں میں ’مقبول‘ ہونے کی بات ہے یا ان میں نوجوانوں کے بھرتی ہونے کا سوال ہے ، تو یہ محض مفروضے ہیں ۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان حالات کے جبر کے ایسے شکار ہیں کہ انہیں ان دہشت گرد تنظیموں کے وجود اور عدمِ وجود کی کوئی فکر نہیں ہے ۔۔۔ مسلمانوں کے لئے یہ تمام دہشت گرد تنظیمیں اسی قدر’پرائی‘ ہیں جس قدر ’پرائی‘ ان کے لئے بجرنگ دل اور آر ایس ایس ہیں ۔ مسلمان خالص قوم پرست ہیں ۔ لہٰذا یہ دعویٰ کرنا کہ ہندوستانی مسلمان ’ داعش ‘ اور’القاعدہ‘ میں ’بھرتی‘ ہورہے ہیں مسلمانوں کی سراسرتو ہین ہے ۔۔۔ ویسے یہ توہین دانستہ کی جارہی ہے ۔ جانچ ایجنسیاں پہلے عام مسلمانوں کو ،پھر تعلیم یافتہ مسلمانوں کو نشانہ بناتی رہیں اور اب یہ علمائے دین کو نشانہ بنارہی ہیں ۔۔۔۔ دانشور اور صحافی حضرات پکڑے جارہے ہیں ۔۔۔ مولانا انظر شاہ کو گرفتار کرکے ایجنسیوں اور پولس نےصاف صاف دیگر ’علمائے دین‘ کو یہ پیغام دےدیا ہے کہ ’ آج ان کی کل تمہاری باری ہے ‘ ۔۔۔۔ مولانا انظر شاہ جنوبی ہند کی انتہائی باوقار شخصیت ہیں اس لئےیہ گرفتاری پوری قوم کے لئے ایک طرح کا چیلنج ہے ۔۔۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر ( ارشد مدنی) نے اس چیلنج سے نمٹنے کا عزم کیا ہے ۔ یہ وہ تنظیم ہے جس نے ایک عالم دین مفتی عبدالقیوم کی قانونی امداد کی تھی اور انہیں پھانسی کے پھندے سے باعزت بری کروایا تھا۔۔۔۔ یہ وہ تنظیم ہے جو مولانا عبدالرحمٰن سمیت کئ علمائے کرام اور کئی باعزت شہریوں کے مقدمے بھی دیکھ رہی ہے ۔۔۔ آج جب جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد سیل کے سکریٹری گلزار اعظمیٰ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرے ہاتھ میں ایڈوکیٹ ایم ایس خان کا فون پکڑا دیا جو دوسری طرف سے بتارہے تھے ’ میں بس ابھی مولانا انظر شاہ کے پاس جارہا ہوں ، انہوں نے قرآنِ پاک اور تسبیح منگوائی ہے ، انشاء اللہ وہ جلد بری ہونگے ۔‘ انشاء اللہ ، وہ بری ہونگے ، مگر سوال یہی ہے کہ ایسی گرفتاریاں کب تک ہوتی رہیں گی اور کب تک بے قصوروں کو عمر قید اور پھانسی کے پھندے سے بچانے کے لئے قانونی لڑائیاں لڑی جائیں گی؟ حکومت اس پر غور کرے اور سوچے ، اپنی ایجنسیوں کو لگام لگائے اور مسلمانوں کو اپنی اور ملک کی ترقی کے لئے جدوجہد کرنے کی کچھ توآزادی دے ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker