شمع فروزاں

کرونا وائرس اور شرعی نقطۂ نظر

شمع فروزاں : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
ترجمان وسکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں ایک اہم نعمت صحت وتندرستی ہے؛ البتہ دنیا وآخرت کی نعمتوں میں بنیادی فرق فنا وبقاء کا ہے، آخرت میں جن لوگوں کو جنت میں جگہ ملے گی، اور بے شمار نعمتیں ان کے لئے مہیا کی جائیں گی، وہ ہمیشہ ہمیش باقی رہیں گی، دنیا کی نعمتیں فانی اور ناپائیدار ہیں، یا تو نعمت سے فائدہ اُٹھانے والا موجود رہتا ہے اور نعمت اس سے چھین لی جاتی ہے، یا نعمت باقی رہتی ہے اور انسان خود اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، صحت بھی ایسی ہی نعمتوں میں ہے، کوئی مخلوق نہیں جو بیماری سے دوچار نہ ہو، انسان وجاندار ہی نہیں ، بے جان چیزوں میں بھی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیںویہ بیماریاں بنیادی طور پر دوطرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ ہے جن میں پھیلاؤ نہیں ہوتا، دوسری : وہ جن میں پھیلاؤ ہوتا ہے؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجذوم کے بارے میں فرمایا: اس سے اس طرح بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو: فرّ من المجذوم کما تفر من الأسد (بخاری، حدیث نمبر: ۱۷۵۷)
یقیناََ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی: لا عدویٰ ولا طیرۃ (بخاری، کتاب الطب باب لا عدوی، حدیث نمبر: ۷۵۵۷) لیکن اس ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ بیماری از خود ایک مریض سے دوسرے مریض کو نہیں لگتی، جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں سمجھا جاتا تھا؛ بلکہ بیماری کا پھیلاؤ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے، جب اللہ چاہتے ہیں تو بیماری کے جراثیم متعدی ہوتے ہیں، اور جب اللہ نہیں چاہتے، تو بیماری کا پھیلاؤ نہیں ہوتا، یہ بات مشاہدہ میں بھی آتی ہے کہ بعض دفعہ ایک متعدی بیماری میں مبتلاء شخص سے کسی نے چند لمحات ملاقات کی تو وہ اس بیماری کا شکار ہو جاتا ہے، اور جو شخص مستقل تیمارداری کر رہا ہے، یا جو معالج اس کا علاج کر رہا ہے، وہ اس بیماری میں مبتلاء نہیں ہوتا؛ اسی لئے مرض کا پھیلاؤ ظاہری سبب کے درجہ میں ہے، مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
البتہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں فائدہ حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے لئے اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے؛ اس لئے علاج وپرہیز دونوں کی بڑی اہمیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بیماری ایسی نہیں، جس کی دوا اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کی ہو (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۳۹۷۴)یہ اور بات ہے کہ بعض بیماریوں کے علاج کے لئے کائنات میں اللہ نے جو دوا پیدا فرمائی ہے، انسانی تحقیق کی ابھی وہاں تک رسائی نہ ہوئی ہو، اسی اعتبار سے بعض بیماریوں کو لاعلاج کہا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا علاج کرایا ہے، بعض صحابہؓ کے علاج کے لئے معالجین کو بلایا ہے، غزوۂ خندق کے بعض زخمی مجاہدین کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا، اور اپنی نگرانی میں اس زمانہ میں موجود وسائل کے اعتبار سے ان کا علاج کرایا ہے؛ اس لئے علاج پر توجہ دینا بھی ایک دینی عمل ہے، جو فقہاء کی تصریحات کے مطابق بعض اوقات واجب اور بعض مرتبہ مستحب ہوتا ہے، یہ بیماری کے سلسلہ میں اسلام کا بنیادی تصور ہے، عیسائی دنیا میں جب کلیسا کا اقتدار قائم تھا تو ان کے علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ اگر ہیضہ یا پلیگ پھیل جائے تو اس کا علاج کرانا درست نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے منشاء میں خلل پیدا کرنا اور اللہ کی مرضی کے خلاف عمل کرنا ہے، ان کا تصور تھا کہ بیماری ہمیشہ گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے؛ اس لئے بیمار کسی ہمدردی کا مستحق نہیں ہے، یہ گویا اللہ تعالیٰ کے فیصلہ میں خلل پیدا کرنا ہے، مگر اسلام کا تصور یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کبھی بیماری اللہ کے عذاب کے طور پر ہو؛ لیکن ہمیشہ ایسا ہی ہو، یہ ضروری نہیں، اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بیمار نہیں ہوتے؛ مگر خود قرآن مجید نے اللہ کے پیغمبر حضرت ایوب علیہ السلام کی پُر مشقت بیماری کا ذکر فرمایا ہے، اگر کوئی شخص گناہگار بھی ہو تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے؛مگر وہ انسان ہمدردی کا مستحق ہے، کفر سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم حضرات کے ساتھ جس حسن سلوک کا معاملہ فرمایا، حدیث وفقہ کی کتابیں ان کے ذکر سے معمور ہیں۔
لہٰذا اگر کوئی شخص بیمار ہو تو اسے اپنی استطاعت کے مطابق علاج کی فکر کرنی چاہئے، اور کوئی دوسرا شخص بیماری سے دو چار ہو تو اس کی مدد کرنی چاہئے، اس کا تعلق انسانیت کے ساتھ رحم سے ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم زمین والوں پر رحم کرو تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا (سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۱۹۲۴) علاج ہی کا ایک حصہ پرہیز اور احتیاط ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر اس کا حکم دیا ہے، کتبِ احادیث میں طب وعلاج سے متعلق عنوان کے تحت اس مضمون کی روایتیں منقول ہیں۔
اس وقت کورونا وائرس کی ستم انگیزی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جن قوموں کو اپنی ٹکنالوجی پر غرور ہے اور انھوں نے اپنی عقل کو خدا سمجھ رکھا ہے، وہ بھی اس ناقابل دید چھوٹے سے وائرس کے مقابلہ اپنی عجزو درماندگی کا اعتراف کر رہے ہیں، اسلام نے بیماریوں کے متعلق عمومی طور پر جو ہدایات دی ہیں، وہ اس نوپید بیماری کے سلسلہ میں بھی ہماری رہنمائی کرتی ہیں، اور وہ یہ ہے کہ ہمیں مریضوں سے ہمدردی ہونی چاہئے، ان کے علاج میں معاون بننا چاہئے، اس خطرناک بیماری کا علاج دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے علاج کی ترغیب معلوم ہوتی ہے اور یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔
علاج ہی کا ایک حصہ پرہیز ہے؛ اس لئے احتیاطی تدبیروں پر عمل کرنا چاہئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وبائی امراض میں خصوصی احتیاط کا حکم فرمایا ہے، جیسا کہ اوپر حدیث گزرچکی ہے کہ آپ نے جذام کے مریض کے قریب جانے سے بھی منع کیا ہے، یہاں تک کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی منقول ہے کہ جذام کے مریض کو مسلسل نہ دیکھا کرو اور جب اس سے گفتگو کرو تو تمہارے اور اس کے درمیان ایک نیزہ کا فاصلہ ہونا چاہئے: لا تدیموا النظر إلی المجذومین، وإذا کلمتموھم فلیلن بینکم وبینھم قید رمح (مجمع الزوائد:۵؍۱۰۴) بنو ثقیف کا ایک وفد حاضر ہوا،اس میں ایک صاحب جذام کے مریض تھے، اس وفد نے دست مبارک پر بیعت کی، آپ نے اس مجذوم شخص کو کہا کہ میں نے تم سے غائبانہ بیعت کر لی، تم اب واپس ہو جاؤ………. إنا قد بایعناک فارجع (صحیح مسلم ، حدیث نمبر: ۲۲۳۱) اسی احتیاط کے پس منظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون( پلیگ) کے بارے میں ارشاد فرمایا: جب کسی علاقہ میں اس بیماری کے پھوٹ پڑنے کی اطلاع ملے تو باہر سے وہاں نہ جاؤ، اور تم اس علاقہ میں موجود ہو تو بیماری سے بچنے کی نیت سے وہاں سے باہر نہ بھاگو: إذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تدخلوا علیہ، وإذا وقع وأنتم بأرض فلا تخرجوا منھا فراراََ منہ (بخاری، حدیث نمبر: ۵۷۲۸) باہر سے اس علاقہ میں جانے کو اس لئے منع فرمایا گیا کہ کہیں وہ اس بیماری میں مبتلا نہ جائے؛ اس لئے کہ سبب کے درجہ میں بعض امراض متعدی ہوتے ہیں، اور جو پہلے سے وہاں موجود ہیں، ان کو باہر نکلنے سے اس لئے منع فرمایا گیا کہ سارے صحت مند شہر چھوڑ دیں تو مریضوں کو طبی امداد کیسے ملے گی، اور وہ اگر اپنے ساتھ بیماری کے جراثیم لے کر دوسرے علاقوں میں جائیں گے تو وہاں بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے، گویا انسان کو اپنے آپ کو بھی ایسے اسباب سے بچانا ضروری ہے اور دوسرے لوگوں کو اور سماج کو بھی بچانا ضروری ہے۔
لہٰذا کورونا وائرس کے سلسلہ میں ماہرین جن باتوں سے روک رہے ہیں، اور جن احتیاطی تدابیر کی رہنمائی کر رہے ہیں، شرعی نقطۂ نظر سے ان پر عمل کرنا ضروری ہے، اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہو جائے تو سماج کی اور بالخصوص اس کے متعلقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مریض کے علاج کی بھر پور کوشش کریں، اور خود مریض کا فریضہ ہے کہ وہ ایسی باتوں سے بچے، جس سے دوسرا شخص متأثر ہو سکتا ہو؛ البتہ احتیاط میں اس درجہ غلو نہیں ہونا چاہئے کہ اسلامی شعائر پر عمل متأثر ہو جائے، جیسے اس وقت متعدد مسلم ملکوں میں جمعہ اور پنج وقتیہ نماز سے منع کر دیا گیا ہے، اور مقدس مقامات میں بھی عبادتوں سے روک دیا گیا ہے؛ حالاں کہ ابھی پوری دنیا میں کل دو لاکھ کے قریب کیس سامنے آئے ہیں، جن میں وائرس کے پائے جانے کا صرف شبہ ہے، ان میں سے ۶۷؍ہزار سے زیادہ صحت یاب ہوچکے ہیں، اور پوری دنیا میں بحیثیت مجموعی اس وائرس کی وجہ سے جو اموات ہوئی ہیں، ان کی تعداد 7161 ہے، کیا اس کی وجہ سے مساجد کو معطل کر دینا درست عمل ہو سکتا ہے؟ ٹرینیں اور بسیں چل رہی ہیں، سرکاری دفاتر کام کر رہے ہیں، اندرون ملک ہوائی جہاز ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہے ہیں، وطن عزیز کی حفاظت کے لئے سرحدوں پر فوجیوں کی بڑی تعداد جمع ہے اور یقیناََ اسے ہونا چاہئے؛ لیکن مساجد میں نمازوں کو منع کر دیا جائے، جس میں صرف چند منٹ کا وقت لگتا ہے، اور ہر نمازی پہلے وضوء کرتا ہے، جس میں ہاتھ کے بشمول تمام اعضاء وضوء کو اچھی طرح دھوتا ہے اور ماہرین کی اطلاع کے مطابق یہ دھونا اپنے آپ کو وائرس سے بچانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، تو کیا یہ انصاف کی بات ہو سکتی ہے؟
صحیح طریقۂ کار یہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں سے صابن کا استعمال کرتے ہوئے وضوء کرنے اور گھروں میں سنتیں ادا کر کے آنے کی اپیل کی جائے، نماز کا وقفہ مختصر رکھا جائے، جس شخص کو نزلہ اور زکام ہو، اس سے کہا جائے کہ وہ گھر پر نماز ادا کریں، مسجد نہ آئیں، مساجد میں صفائی ستھرائی کا مکمل انتظام کیا جائے، اور نمازیوں کو ماسک پہننے کا پابند بنایا جائے؛ مگر جماعت کو موقوف کر دینا یہ علاج نہیںہے، یہ تو بیماری ہے، روح کی بیماری اور ضعیف الاعتقادی کی بیماری، خاص کر ہندوستان جیسے ملک میں نماز کی جماعت کو موقوف کر دینا مستقبل میں بہت خراب نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
افسوس کہ بعض مسلم ممالک نے مسجدوں میں جمعہ اور پنج وقتہ جماعتوں پر پابندی لگا دی، اسلام کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملے کہ مسلمانوں نے اپنے اختیار سے ایسا کیا ہو، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میںطاعون کا واقعہ پیش آیا، اس نے اتنی خطرناک صورت اختیار کر لی کہ بعض مؤرخین کے بیان کے مطابق بعض مقامات پر تین چوتھائی لوگوں کی موت واقع ہوگئی، ظاہر ہے کہ یہ بیماری سے متأثر ہونے والوں کا بہت بڑا تناسب ہے، خود حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ۸۳؍ لڑکے لقمۂ اجل بن گئے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ طاعون کا مریض کورونا وائرس کے مریضوں سے کئی گنا زیادہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے؛ لیکن اس کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ جمعہ وجماعت کو روک دیا گیا ہو، فقہاء جزئیات کو بیان کرتے وقت ایک ایک عذر کو بیان کرتے ہیں؛ لیکن اجتماعی طور پر ترک جماعت اور ترک جمعہ کے لئے بیماری کے عذر ہونے کا ذکر نہیں فرمایا،اور یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ جن اعذار کی بنیاد پر ترک جمعہ وترک جماعت کا حکم دیا گیا ہے، وہ جواز کے درجہ میں ہے، یعنی معذور شخص جمعہ وجماعت سے غیر حاضر رہ کر گھر پر جمعہ کے بدلہ ظہر اور جماعت کے بدلہ انفرادی طور پر نماز ادا کر سکتا ہے، یہ حکم وجوب کے درجہ میں نہیںہے، نماز باجماعت تو ایسا عمل ہے کہ میدان جنگ میں بھی اس کا حکم قائم رہتا ہے اور اس موقع کے لئے ایک مخصوص طریقہ کی نماز صلاۃ خوف رکھی گئی ہے، اسی طرح اس مسئلہ کو شدید بارش کے مسئلہ پر قیاس کرنا بھی درست نہیں ہے؛ کیوں کہ بارش ایک یقینی وواقعی عذر ہے اور کورونا وائرس سے نمازیوں سے متأثر ہونا شبہ کے درجہ میں ہے؛ اسی لئے اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہو چکا ہو تو اسے مسجد میں آنے سے روکا جا سکتا ہے؛ لیکن محض شبہ کی بناء پر جماعت موقوف کر دینے کے لئے یہ دلیل نہیں ہو سکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ جب کوئی گھبرادینے والا واقعہ پیش آتا تو نماز کی طرف دوڑ پڑتے، اور صحابہ مسجد میں جمع ہو جاتے (بخاری، حدیث نمبر: ۱۰۵۹) نہ یہ کہ مصیبت میں اصحاب ایمان نماز اور مسجد سے بھاگنے لگیں۔
غرض کہ انفرادی طور پر متأثرین کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ مسجد میں جماعت میں شریک نہ ہوں؛ لیکن اجتماعی طور پر مسجد میں جماعت جیسے اہم عمل کو موقوف کر دینا درست نظر نہیں آتا، ہمیں اس سلسلہ میں قرآن کی اس تنبیہ کو سامنے رکھنا چاہئے کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا نام لینے کو روک دے، اور اس کو ویران کر دے: ومن أظلم ممن منع مساجد اللہ أن یذکر فیھا اسمہ وسعیٰ في خرابھا (البقرہ: ۱۱۴)
بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ بیماری اور صحت کا اصل فیصلہ کائنات کے خالق ومالک کے دربار سے ہوتا ہے؛ اس لئے ہمیں اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہئے، اور زیادہ سے زیادہ دعاء کا اہتمام ہونا چاہئے، آج کل اس سلسلہ میں مختلف حضرات کی طرف سے خواب بھی بیان کئے جاتے ہیں، اور بعض خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے ذکر کئے جاتے ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ خواب بے حقیقت ہوتے ہیں؛ لیکن یہ ضرور ہے کہ انبیاء کے سوا کسی کا خواب حجت شرعی نہیںہے، اور ایسے مصائب میں کن آیات کی تلاوت کا اور دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہئے؟ اس کا ذکر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں موجود ہے، تو جس مسئلہ کا حل دلیل شرعی میں موجود ہو، اس میں ایسی چیز کی طرف توجہ دینا جو دلیل شرعی نہیں ہے، سمجھ میں نہیں آتا، مصیبتوں سے نجات کے لئے متعدد دعائیں منقول ہیں، ان میں سے چند مختصر دعائیں یہاں نقل کی جاتی ہیں:
۱۔ استغفار کا اہتمام: ایسے مواقع پر زیادہ سے زیادہ استغفار کا اہتمام کرنا چاہئے؛ کیوں کہ وبائی بیماریاں بعض دفعہ گناہوں کی کثرت اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بناء پر بطور عذاب کے ہوتی ہیں، اور اس کا تدارک پورے اہتمام کے ساتھ استغفار یعنی اپنے گناہوں کی معافی مانگنا ہے؛ اس لئے ہر شخص کو چاہئے کہ خوب الحاح کے ساتھ اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ کے دربار میں ہاتھ پھیلائے، اور رب کریم سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگے، استغفار میں وہ تمام کلمات اور دعائیں شامل ہیں،جن میں گناہوں پر معافی مانگنے کا مضمون آیا ہو، جیسے ایک مختصر دعاء ہے، رب اغفرلی وارحمنی (اے میرے پروردگار! مجھے معاف کر دیجئے، اور مجھ پر مہربانی فرمائیے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۸۹۴)
۲۔ اللّھم إنی أسئلک العافیۃ في الدنیا والآخرۃ (اے اللہ! میں آپ سے دنیا وآخرت میں عافیت کا طلب گا ہوں)
۳۔ اللّھم إنی أسئلک العفو والعافیۃ في دیني ودنیای وأھلي ومالی (اے اللہ! میں آپ سے اپنے دین ،دنیا ، اہل وعیال اور مال واسباب کے سلسلہ میں معافی وعافیت طلب کرتا ہوں)
۴۔ اللھم إنی أعوذ بک من البرص والجنون والجذام ومن سئیی الأسقام (اے اللہ! میں داغ کی بیماری، جنون، کوڑھ اور دوسری خراب تکلیف دہ بیماریوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۱۵۵۴)
۵۔ بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شئی في الأرض ولا في السماء وھو السمیع العلیم (اللہ کے نام سے، جس کے نام کی برکت سے نہ زمین کی کوئی چیز نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ آسمان کی، اور اللہ خوب سننے والے اور جاننے والے ہیں)—حدیث میں ہے کہ جو شخص صبح میں اسے پڑھے گا، رات تک مصیبت سے محفوظ رہے گا، اور جو شام میں پڑھے گا، وہ صبح تک محفوظ رہے گا۔
۶۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا کثرت سے ورد۔
۷۔ لا الٰہ إلا أنت سبحانک إنی کنت من الظالمین، کثرت سے پڑھنا ؛ کیوں کہ حضرت یونس علیہ السلام کو جب مچھلی نے نگل لیا تھا ، اس موقع پر آپ نے یہ دعاء پڑھی تھی۔
۸۔ صبح وشام آیت الکرسی کی تلاوت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے محفوظ رہنے کے لئے اس کی تلقین فرمائی ہے، اسے پڑھ کر بچوں میں دم کیا جائے۔
۹۔ صبح وشام سورۂ فاتحہ کی تلاوت؛ کیوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورۂ شفاء قرار دیا ہے۔
۱۰۔ صبح وشام سورۂ فلق وسورۂ ناس کی تلاوت کرنا اور ہاتھ پر دم کر کے پورے جسم پر دم کرنا اور بچوں پر بھی دم کرنا، اس کی بھی حدیث میں تلقین کی گئی ہے۔
جن دعاؤں کا ذکر آیا ہے، اگر ان کے الفاظ کو یاد کرنا دشوار ہو تو اپنی زبان میں اس کا مفہوم ادا کر دینا بھی کافی ہے۔
۱۱۔ ان اوراد واذکار کے ساتھ ساتھ کسی بھی ضرورت کے لئے ایک نفل نماز رکھی گئی ہے، جس کو نماز حاجت کہتے ہیں، حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے، اور اس پر ہمیشہ سے سلف صالحین کا عمل رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ مصائب سے نجات کا بہت ہی مجرب عمل ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اچھی طرح وضوء کریں اور جو ضرورت درپیش ہو، اس کو ذہن میں رکھ کر دو رکعت نماز پڑھیں، اور نماز سے فارغ ہونے بعد خوب اہتمام سے اس مقصد کے لئے دعاء کریں، اس کا اشارہ قرآن مجید میں بھی موجود ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے صبرونماز کو اللہ کی مدد حاصل ہونے کا ذریعہ بتایا ہے: یاایھا الذین آمنوا استعینوا بالصبر والصلاۃ—-البتہ یہ انفرادی نماز ہے اور اس کا طریقہ وہی ہے جو دوسری نمازوں کا ہے، اس کو جماعت کے ساتھ پڑھنا درست نہیں۔
٭ ٭ ٭

(بصیرت فیچرس)

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker