جہان بصیرتنوائے بصیرت

گجرات سرکار کا مذہب اسلام سے کھلواڑ!

شکیل رشید (فیچرایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی)
لگتا ہے کہ قرآن پاک کی ’تفسیر‘ کی ذمے داری اب نعوذ باللہ بی جے پی نے سنبھال لی ہے!
قرآن پاک کا حوالہ دے کر بی جے پی کی گجرات حکومت کی طرف سے مسلمانوں کوبتایاجارہا ہے کہ قرآن پاک میں ہے کہ بیف یعنی بڑے کا گوشت کھانا صحت کے لیے مضر ہے۔ گجرات کی صنعتی راجدھانی احمد آباد میں جگہ جگہ باقاعدہ بڑے بڑے ہورڈنگ لگا کر مسلمانوں کو ’’بڑے کے گوشت کے مضر صحت ہونے کے قرآن کے اعلان‘‘ کا باقاعدہ پرچار کیا جارہا ہے۔ ہورڈنگوں میں گجرات کی وزیراعلیٰ آنندی بین پاٹل کی تصویر لگی ہوئی اور مسلمانوں کا نشان سمجھا جانے والا ’ہلال احمر‘ بنا ہوا ہے۔ یہ تمام ہورڈنگ گجرات کے سرکار ی ’گئو سیوا وگئو چروکاس بورڈ‘ کی طرف سے لگوائی گئی ہیں جس کے فرائض منصبی میں گائے کی دیکھ ریکھ شامل ہے۔
تمام ہورڈنگوں میں عربی کا ایک جملہ نقل کرکے یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ یہ قرآن پاک کی آیت ہے۔ گجراتی زبان میں عربی عبارت کا ترجمہ کرکے یہ ’سنگھی پیغام‘ دیاگیا ہے کہ ’گائے کا احترام کریں کیوں کہ یہ تمام چرندوں کی قائد ہے، اس کے دودھ، گھی اور مسکے میں بیماریوں کا علاج ہے اور اس کے گوشت میں بہت ساری بیماریاں ہیں‘۔ اُن مسلم حلقوں کی طرف سے جو سنگھی نظریات کے زیر اثر ہیں اور ان مسلمانوں کی طرف سے جو اپنی فطرت میں ’بھاجپائی ‘ ہیں ان ہورڈنگوں کی پذیرائی کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ یہ وہ حلقے ہیں جن کے سامنے اگر قرآن پاک کی تمام آیتیں کھول کھول کر بھی رکھ دی جائیں تو ان کی سمجھ میں ’حق‘ بات آنے والی نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمادیا ہے کہ ’یہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں‘۔ یہ لوگ سب جان کر دیکھ کر بھی سچ بولنے کی بیش بہا دولت سے محروم کردئیے گئے ہیں۔ تو ایسے لوگ تو گجرات کی سرکار کی ہاں میں ہاں ملائیں گے، ان کی بے حسی قابل افسوس نہیں ہے، بے حسی ان کی قابل افسوس ہے جو دین سے اور دینی احکامات سے خوب واقف ہوکر بھی زبان کھول کر یہ نہیں کہتے کہ گجرات سرکار قرآن پاک کے حوالے سے ’جھوٹی بات‘ پھیلا رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن پاک میں ’تحریف‘ کرنے کی ، نعوذباللہ یہ ایک سا زش ہے۔ علمائے کرام کی ایک مختصر سی ہی تعداد ہے جس نے اس بارے میں زبان کھولی ہے اور حکومت گجرات کو لتاڑا ہے۔
جن ہورڈنگوں کا ذکر ہورہا ہے ان میں جو عربی عبارت درج ہے اس کا کوئی تعلق قرآن پاک سے نہیں ہے۔ لہذا ایک ایسی عبارت کو جو قرآن پاک میں ہو ہی نہیں یہ بتانا کہ قرآن کی آیت ہے اپنے آپ میں ایک بہت بڑا جرم بھی ہے اور قرآن پاک کی تحریف کی ایک گھنائونی سازش بھی، اس کی ہر طرف سے مذمت ضروری ہے۔ مذمت شدید ہونی چا ہئے تاکہ آئندہ کوئی قرآن پاک کے حوالے سے غلط بات نہ کہہ سکے۔ یہ ممکن ہے کہ عربی کی کسی عبارت میں گائے کے گوشت کو ’مضرصحت‘ کہا گیا ہو مگر قرآن پاک میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ قرآن پاک کی سب سے طویل سورہ یعنی ’سورہ بقرہ‘ گائے کے موضوع پر ہی ہے مگر اس میں گائے کو کہیں حرام قرار نہیں دیا گیا ہے ہاں اسی سورہ میں لحم خنزیرکو ،غیراللہ کے نام پر ذبح کیے گئے جانوروں کو، چاہے وہ جانور حلال ہی کیوں نہ ہوں، حرام قرار دیاگیا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ سنگھی عناصر اس ’جھوٹ‘ کو ’سچ‘ ثابت کرنے پر اڑے ہیں کہ ’قرآن پاک میں گائے کے گوشت کو مضر کہا گیا ہے‘! گئو چر بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ولبھ بھائی ٹھکریا یہ دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں کہ ان کے پاس اس تعلق سے دستاویزات موجود ہیں۔ ان ہورڈنگوں سے کچھ ہو نہ ہو ایک بات ضرور ہوگی کہ مسلمانوں کے تعلق سے یہ منفی تاثر برادران وطن میں پیدا ہوگا کہ یہ اپنی مذہبی کتاب قرآن پاک کے حکم کی خلاف ورزی کرکے بڑے کا گوشت کھاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان مسلمانوں میں جو جاہل ہیں یا کم پڑھے لکھے ہیں یہ پیغام جائے گا کہ قرآن پاک بڑے کا گوشت کھانے سے منع کرتا ہے اس لیے نہ عید پر بڑے کی قربانی کی جائے نہ ہی بڑے کا گوشت کھایاجائے کہ یہ عین شریعت ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سوچ غیر اسلامی ہوگی اور دین میں بگاڑ لائے گی۔ کوئی اگر یونہی بڑے کا گوشت نہ کھائے تو مضائقہ نہیں لیکن اگر اسے اسلامی حکم سمجھے تو مضائقہ ہے کیوں کہ یہ اسلامی حکم نہیں ہے۔ گجرات حکومت کو چاہئے کہ وہ قرآن پاک کا غلط حوالہ دینے والے ہورڈنگوں کو ہٹوائے،اور مذہب اسلام سے کھلواڑ نہ کرے، علمائے کرام کوچاہئے کہ وہ لوگوں تک قرآن پاک کی سچی بات پہنچائیں اور بتائیں کہ اسلام بیف کھانے سے نہیں روکتا، ہاں اگر کوئی اپنی مرضی سے بیف نہ کھاناچاہے تو اس پر کوئی جبر نہیں ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker