Baseerat Online News Portal

لاک ڈائون:دہلی فسادمتاثرین کیمپ کی پریشان کن صورت حال،عوام ٹھوکرکھانے پرمجبور، امدادی کیمپ کوخالی کیاگیاتو لوگ کہاں جائیں گے،سخت مشکلات کاسامنا،حکومت بے فکر

نئی دہلی25مارچ(بی این ایس )
مصطفی آبادمیں ایک عید گاہ ہے۔ یہ عید گاہ گزشتہ ایک ماہ سے ایسے سینکڑوں لوگوں کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جوفروری میں یہاں ہوئے قتل عام کے دوران بے گھر ہوگئے تھے۔ ایسے لوگوں کوپناہ دینے کے لیے اس وقت دہلی حکومت اوروقف بورڈنے مل کراس عید گاہ میں راحت کیمپ قائم کیاتھا۔ دہلی میں ہوئے فسادات کو اب ایک مہینہ مکمل ہوچکاہے۔ لیکن اس ریلیف کیمپ میں پناہ لینے والے کئی پناہ گزین اب تک بھی اپنے گھر واپس لوٹنے کی پوزیشن میں نہیں آسکے ہیں۔کچھ لوگ انصاف کے لیے اب بھی بھٹک رہے ہیں۔ ابھی پورے ملک میں 21 دنوں کے لیے لاک ڈاؤن کااعلان ہوچکاہے تواس ریلیف کیمپ کو بھی خالی کروایاجارہاہے۔ ایسے میں یہاں رہ رہے تمام لوگوں کی حالت پریشان کن ہے ۔اس ریلیف کیمپ میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کے گھر اس قدر بربادہوچکے ہیں کہ رہنے کے قابل نہیں بچے ہیں۔ایسے میں دہلی حکومت نے ان کے لیے کیاانتظامات کیے ہیں۔اب تک اطلاع نہیں مل سکی ہے۔کچھ لوگوں نے تو گزشتہ دنوں میں کرائے کے مکان تلاش لیے ہیں، لیکن اب خوف سے زیادہ تر مالک مکان بھی اپنے مکان کرائے پر دینے میں گھبرا رہے ہیں۔ ایسے میں یہاں رہ رہے فسادات کے متاثرین اب خود بھی نہیں جانتے کہ اگر انہیں اس ریلیف کیمپ سے بھی نکال دیاگیاتووہ کہاں جائیں گے۔مصطفی آباد کے بیچوں بیچ واقع یہ ریلیف کیمپ بہت المناک کہانیاں بیان کررہاہے۔اگرچہ پہلی نظر میں دیکھنے پر یہاں کا ماحول کسی میلے جیسا نظر آتا ہے۔بڑے بڑے رنگ برنگے خیمے،بھیڑ لگائے کھڑے لوگ، جگہ جگہ تعینات شہری دفاع کے جوان، رنگ برنگے پرانے کپڑوں کے ڈھیر، اس کے آس پاس دوڑتے چھوٹے بچے اور بچوں کا پیچھا کرتی ان کی مائیں،اوپرسے خوشگوارلگتایہ ماحول اصل میں کتنا المناک ہے، اس کا احساس تھوڑابھی قریب سے دیکھنے پرآسانی سے ہوجاتاہے۔ اس ریلیف کیمپ میں لگاخیمہ سب سے پہلے ڈاکٹرس یونٹی ویلفیئر ایسوسی ایشن کاہے جہاں متاثرین کے لیے ادویات رکھی گئی ہیں۔فسادات میں زخمی کئی لوگ یہیں اپنی مرہم پٹی کرواتے دیکھے جا سکتے ہیں۔اس کے آگے دہلی پولیس کا اسٹال ہے جہاں شکایت درج کروانے کے لیے اب بھی درجنوں لوگ بار بارچکرلگارہے ہیں۔یہی صورت حال تحفظ حقوق اطفال کمیشن، قانونی سروس اتھارٹی اور اقلیتی کمیشن کے اسٹال کی بھی ہیں، جہاں لوگ قطار لگائے اپنی اپنی آپ بیتی درج کروا رہے ہیں۔ریلیف کیمپ میں رہ رہے ہرشخص کے ہاتھ میں کپڑے کی ایک بینڈ بندھی ہے تاکہ ان کی شناخت آسانی سے کی جاسکے۔ کچھ لوگ یہاں ایسے بھی ہیں جواس ریلیف کیمپ میں رہ نہیں رہے ہیں، لیکن اپنی شکایات درج کروانے یہاں پہنچے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص58 سال کے محمد فاتح عالم بھی ہیں جوبہارسے آئے ہیں۔ ہاتھوں میں اپنے جوان بیٹے کی تصویر لیے فاتح عالم ایک اسٹال سے دوسرے اسٹال پربھٹک رہے ہیں، تاکہ ان کی شکایت ہو سکے اور ان کے بیٹے کی کوئی خبرانہیں مل سکے۔

You might also like