فقہ وفتاویٰ

کوروناوائرس سے متعلق ایک اہم فتویٰ ازمولاناخالدسیف اللہ رحمانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
کرونا وائرس ایک عالمی وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ہزاروں جانوں کو لقمۂ اجل بنا چکا ہے، اس میں مسلمان بھی ہیں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی، اس سلسلہ میں اہم مسئلہ ان کے غسل اور کفن دفن کا ہے، بعض ممالک میں ان کو جلانے پر اصرار کیا جا رہا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اس کے بارے میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں، جس سے اسلامی اور شرعی نقطۂ نظر واضح ہو جائے۔ (امتیاز احمد، نئی دہلی)

الجواب وباللہ التوفیق:
کرونا وائرس کی وجہ سے جس شخص کی موت ہو، اس سے متعلق چار مسائل قابل غور ہیں:
۱۔ اس کے غسل سے متعلق
۲۔ اس کو کفن پہنانے سے متعلق
۳۔ اس پر نماز پڑھنے سے متعلق
۴۔ اس کی تدفین سے متعلق
جہاں تک غسل کا مسئلہ ہے تو اگر ڈاکٹرس اجازت دیتے ہوں کہ احتیاط کے ساتھ اس کو غسل دیا جا سکتا ہے اور اس سلسلہ میں ڈاکٹر کی جو رائے ہو، وہی رائے اصل ہے، اگر غسل دینے کی گنجائش ہو تو احتیاط کے ساتھ اس طور پر کہ اس سے غسل دینے والے کو یا دوسروں کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو، تب تو غسل دیا جائے گا؛ ورنہ غسل دینے کے بجائے تیمم پر اکتفاء کیا جائے گا، تیمم کا طریقہ یہ ہوگا کہ اپنے ہاتھوں پر وہ غلاف پہن کر اس صورت حال میں جس کی ہدایت دی جار ہی ہے اور اپنے چہرے پر ماسک لگا کر اس ہاتھ کو صاف مٹی پر مار کر میت کے چہرہ کا اور ہاتھوں کا مسح کروا دیا جائے، جیسے کہ زندہ آدمی کا تیمم کرایا جاتا ہے۔
دوسرا مسئلہ اس کو کفن دینے کا ہے، یہ بھی ڈاکٹر اور حکومت کی ہدایت پر موقوف ہے، اگر حکومت الگ سے کفن پہنانے کی اجازت دیتی ہو اور اس سے کفن پہنانے والے کو ضرر کا اندیشہ نہ ہو تو باضابطہ کفن پہنایا جائے گا، اگر ڈاکٹر کسی جھلی میں لپیٹ کر لاش حوالہ کرتا ہے اور اس کو کھولنے سے منع کرتا ہے تو اسی جھلی کو کفن کا درجہ دیا جائے گا، جیسے شہید کے خون آلود کپڑے کو ہی اس کے لئے کفن تصور کیا جاتا ہے، اسی طرح اس جھلی کو اس کا کفن تصور کیا جائے گا؛ کیوں کہ کفن کا اصل مقصود مردہ کا ستر ہے اور وہ مقصد اس سے حاصل ہو جاتا ہے، اور کس قسم کے کپڑوں میں مُردوں کو کفن دیا جائے، شریعت میں اس کی کوئی تحدید نہیں آئی ہے، عام حالات میں درست ہے کہ کپڑے کا استعمال ہوتا ہے؛ لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی دوسری ساتر چیز کا استعمال کیا جائے اور اس میں مُردہ کو لپیٹ دیا جائے تو یہ بھی کفن ہی کے حکم میں ہوگا، اگر جھلی کو کھولنے کی اجازت نہیں ہو تو اب یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جیسے جسم پر اگر جبیرہ لگا یاگیا ہو یا زخم پر پٹی باندھی گئی ہو تو پٹی پر مسح کرنا کافی ہو جاتا ہے، جیسے بعض فقہاء کے نزدیک عمامہ پر مسح کرنا کافی ہو جاتا ہے، اورمحدثین نے اس کے لئے مستقل ’’ مسح علی العمامہ‘‘ کا باب قائم کیا ہے، اگرچہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے؛ لیکن مجبوری کی صورت میں اس اختلاف سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسی جھلی کے اوپر سے چہرے اور ہاتھوں کا تیمم ہو تو ان شاء اللہ یہ صورت کافی ہو جائے گی۔
تیسرا مسئلہ نماز جنازہ کا ہے، نماز جنازہ پڑھی جائے گی؛ لیکن تیمم کے بعد ہی پڑھی جائے گی؛ کیوں کہ نماز جنازہ کے لئے شرط ہے کہ میت کو طہارت کے مرحلہ سے گزارا جائے، طہارت کا ایک طریقہ پانی کا استعمال ہے اور دوسرا طریقہ تیمم ہے؛ کیوں کہ یہ لاش اس طرح پھٹی ہوئی نہیں ہے، جس کے بارے میں فقہاء نے کہا ہے کہ اس پر نماز نہیں پڑھی جائے۔
چوھا مسئلہ تدفین کا ہے، اسلام میں تدفین کا طریقہ یہی ہے کہ مٹی کے اندر دفن کیا جائے، اس وقت مغربی ملکوں میں طبی ماہرین کی طرف سے یہ بات آرہی ہے اور اس پر اصرار کیا جا رہا ہے کہ لاش کو جلا دیا جائے، یہ اسلامی نقطۂ نظر سے صحیح نہیں ہے، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اس لاش کو تابوت میں بند کر دیا جائے اور اس تابوت کو دفن کر دیا جائے، اس بات کی گنجائش ہے ۔
یہ جو رائے ہم نے ذکر کی ہے، اس میں سارے مسئلے کتب فقہ میں صراحت کے ساتھ موجود نہیں ہیں؛ لیکن شریعت کی مصلحت، فقہاء کے درمیان اختلاف رائے اور اس غیر معمولی قسم کی مجبوری اور شریعت کے بنیادی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے راقم الحروف نے کہا ہے، دوسرے اہل علم سے بھی اس سلسلہ میں استفسار کر لیا جائے، واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب، وعلمہ أتم وأحکم۔
حررہ

خالد سیف اللہ رحمانی
دارالافتاء: المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد)
۲۹؍رجب ۱۴۴۱ھ
۲۵؍مارچ ۲۰۲۰ء

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker