فقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا
سوال:-کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد جو ہاتھ دھویا جاتا ہے ، کیا اسے تولیہ سے پوچھنا چاہئے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں ۔ (عبدالکریم،بنڈلہ گوڑہ)
جواب:-کھانے کے بعد جب ہاتھ دھوئیں تو پونچھ لینے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے بعد بہتر ہے کہ کپڑے سے نہ پونچھے خود بخود خشک ہوجانے دیں :و اذا غسل قبل الطعام لا یمسح یدہ بالمندیل، بل یترک حتی یجف (فتاویٰ قاضی خان: ۳؍۴۰۵)

جذامی کاجماعت میں شریک ہونا
سوال:-نماز باجماعت میں ایک ایسا شخص جو جذامی ہے ، لوگ اس سے کراہت کرتے ہیں اور اگر وہ جماعت میں شریک ہو ، تو بازو والوں کو نماز میں یکسوئی نہیں ہوتی، کیا ایسے شخص کو جماعت میں شریک کر سکتے ہیں؟اور کیا اسے مسجد میں آنے سے منع کیا جا سکتا ہے ؟ (عبد اللہ، کریم نگر)
جواب:- حضرت جابر ص سے مروی ہے کہ آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ ’’جو کوئی کچی لہسن کھائے وہ ہماری مسجد نہ آئے (صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۱۲۴۸ ) اس حدیث کی ذیل میں مفتی شبیر احمد عثمانیؒ نے لکھا ہے کہ اس ممانعت کی وجہ فرشتوںاور مسلما نوں کو ایذاسے بچانا ہے ، لہذا ہر بد بو دار چیز کو یہ حکم شامل ہے ، خواہ وہ چیز کھا ئی جانے والی ہو یا نہ ہو (فتح الملہم: ۲؍۱۵۱)چنانچہ علا مہ شامیؒکا بیان ہے : جس کے منہ میںبدبو ہو یا جس کو ایسا زخم ہو جس سے بدبو پیدا ہو تی ہو ، اس کا بھی یہی حکم ہو گا یعنی اسے بھی مسجد میںآنے سے روکا جائے گا ‘‘ پھر فر ماتے ہیں کہ جس شخص کو جذام یا برص ہو اس کے لئے بدرجہ اولی یہی حکم ہو گا :والمجذوم و الابرص اولی با لالحاقاور سحنون مالکی ؒ سے نقل کیا ہے کہ ان حضرات پر جمعہ واجب نہیں ہوگا (ردالمحتار:۲؍۴۳۵)لہذا جو شخص جذام کا مریض ہو ، اسے چاہئے کہ مسجد جانے کے بجائے گھر ہی پر نماز ادا کرلے ،انشاء اللہ اس کو اس کی نیت کی وجہ سے مسجد جانے کا اجر ہوگا ،نیز اپنے مسلمان بھائیو ں کو اذیت سے بچانے کا ثواب مزید بھی حاصل ہوگا ، ایسے لوگوں کو خوش تدبیری اور خوش گفتاری کے ساتھ مسجد آنے سے روکا جاسکتا ہے ۔

بیماری —– گناہوں کا کفارہ
سوال:- کیا بیماری گناہوں کا کفارہ ہے اور کیا کبیرہ گناہ بھی بیماری سے معاف ہوتے ہیں؟ (محمد عثمان، ہمایوں نگر)
جواب:- رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ مؤمن کو جو بیماری لگتی ہے وہ اس کے گزشتہ گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتی ہے، اور مستقبل کے لئے عبرت و موعظت کا باعث ہے :کانت کفارۃ لما مضی من ذنوبہ وموعظۃ لہ فیما یستقبل (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۳۰۸۹) یہ صرف صغائر کے لئے کفارہ بنتے ہیں ، یا کبائر کے لئے بھی ؟ حدیث میں اس کی صراحت نہیں؛ لیکن قرآن میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ جو شخص کبائر سے بچے گا، اللہ اس کی خطاؤں کو معاف فرمادیں گے:إن تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاّتکم ( النساء : ۳۱)) اس سے خیال ہوتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے صرف صغائر معاف ہوں گے، کبائر کے لئے توبہ کا اہتمام کرنا چاہئے کہ یہی احتیاط کا تقاضا ہے، ویسے اللہ تعالی کریم و غفار ہیں ،اس کی شان سے کیا بعید کہ کبائر کو بھی معاف فرمادے۔

تنہا نماز پڑھنے والے کے لئے اقامت
سوال:-کیا گھر میں یا کسی اور جگہ تنہا فرض نماز پڑھنے والے کو اقامت کہنا ضروری ہے؟ (محمد موسیٰ، آصف آباد )
جواب:- اقامت کہنا سنتِ مؤکدہ ہے؛ بشرطیکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے، اگر تنہا نماز اداکی جائے تب بھی اقامت کہہ دینا بہتر ہے؛ البتہ تنہا پڑھنے والے کے لئے سنتِ مؤکدہ نہیں ، طحاوی میں ہے : إتیان المنفرد بہ علی سبیل الأفضلیۃ فلایسن في حقہ مؤکدا (طحاوی:۱۰۵)

نماز میں نزلہ اور چھینک وغیرہ
سوال:- (الف) اگر نماز میں زور سے کھانسی آئی اور منہ میں کھانسی کی وجہ سے بلغم جمع ہوگیا تو کیا کرنا چاہئے ؟ کیا نماز توڑ کر باہر جاکر تھوک دے، یا مسجد ہی میں تھوک دے یا نگل جائے ؟ (ب) اسی طرح سردی کی وجہ سے ناک بہنے لگے تو کیا کرنا چاہئے ؟ (ج) نماز میں ڈکار، چھینک اور جمائی کا کیا حکم ہے ؟ ( محمد فرقان، ملے پلی)
جواب:- (الف) حضرت انس ص سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی نماز کی حالت میں ہو تو گویا وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، یا اس کے اور قبلہ کے درمیان اللہ تعالیٰ ہوتے ہیں؛ لہذا تم میں سے کوئی قبلہ کی طرف نہ تھوکے، تھوکنا ہی ہوتو بائیں طرف تھوکے یا اپنے پاؤں کے نیچے،پھر آپ ا نے اپنی چادر مبارک کا ایک حصہ لیا ، اس میں تھوکا ، اسے تہہ لگایا اور ارشاد فرمایا کہ یا اس طرح کرے (بخاری، حدیث نمبر: ۴۱۷) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منہ میں بلغم جمع ہوجائے تو نماز توڑ کر باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ،اور نہ نگلنے کی ضرورت ہے، بلکہ دو صورتیں ہیں یا تو بائیں طرف پاؤںکے نیچے تھوک دے ،یا کسی کپڑے میں تھو ک لے، پہلی صورت ایسی مسجدکے لئے موزوں ہوسکتی ہے جس کی زمین کچی ہو، پختہ نہ ہو ،اگر پختہ زمین پر بلغم تھوکا جائے تو زمین میں جذب نہیں ہوسکے گا ،اور لوگ بھی گھن محسوس کریں گے، پختہ فرش اور قالین وغیرہ کی صورت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ دستی یا کسی اور کپڑے میں تھوک لے، اور بعد میں اسے دھولے ،فقہاء کے یہاں بھی یہ صراحت موجود ہے کہ بورئیے وغیر ہ پر تھوکنا نہ چاہئے، بلکہ کپڑے میں بلغم جذب کرلینا چاہئے ، فتاوی عالمگیری میں ہے : ولا فوق البواری ولا تحتھا وکذا المخاط ولٰکن یأخذ بثوبہ(ہندیہ:۱؍۱۱۰) (ب) اگر ناک سے پانی بہہ رہا ہوتو بہتر ہے کہ دستی یا کسی کپڑے سے پونچھ لیا جائے ، اس میں مسجد کے احترام کی زیادہ رعایت ہے، اگر زمین پر ناک کا پانی گرے تو ظاہر ہے کہ مسجد آلودہ ہوگی ،مگر چونکہ یہ اضطراری فعل ہے، اس لئے ناجائز یہ بھی نہیں ہے ، البتہ خلاف اولی ہے، فقہاء کے یہاں اس کی صراحت موجود ہے: ظھر من أنفہ ذنین في الصلاۃ فمسحہ أولی من أی یقطر منہ علی الأرض (حوالۂ سابق:۱؍۱۰۵)(ج) ڈکار ،چھینک اور جمائی اضطراری چیزیں ہیں ،جو خود آدمی کے اختیار میں نہیں ، اس لئے اولا تو کوشش کرنی چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کو دبائے، لیکن اگر قابو نہ رہے تو پھر غیر اختیاری چھینک ، ڈکار اور جمائی سے نماز فاسد نہیں ہوتی ،حضرت ابو ہریرہ ص سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : نماز میں جمائی شیطان کی طرف سے ہے ،اس لئے جہاں تک ممکن ہو روکنے کی کوشش کرے ‘‘ (سنن الترمذی، ۱؍۸۵) کھانسی کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کھانسی روکنے پر قدرت نہ ہو تو کھانسی خواہ کتنی بھی ہو، اور چاہے اس سے حروف کی آواز بھی پیدا ہوجاتی ہو، پھر بھی اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی ،اور اگر کھانسی کو ضبط کرسکتا تھا ، لیکن اس کے باوجود کھانستا ہے ، تو اگر کھانسنے میں حروف ظاہر ہوجائیں ، تب تو نماز فاسد ہوجائے گی، اور اگر حروف نہ بننے پائیں ،تو یہ فعل مکروہ ہوگا۔ (ہندیہ:۱؍۱۰۱) یہی حکم ڈکار ، چھینک اور جمائی کا بھی ہوگا ۔

استغفار اور اس کے لئے دعاء
سوال:-استغفار کیا ہے؟ کیا اس کے پڑھنے کے لئے عربی کی کوئی مخصوص دعاء ہے ؟ کیا توبہ ہی کا دوسرا نام استغفار ہے ؟ (سیف الدین، سکندرآباد)
جواب:- استغفار کے معنی اللہ تعالی سے گناہوں پر بخشش طلب کرنے کے ہیں، اس طرح توبہ اور استغفار کا مقصد ایک ہی ہے ،یعنی گناہ پر شرمندگی ،اور اللہ تعالی سے عفو درگزر کی درخواست ،استغفار کے لئے کوئی ایک ہی دعاء مقرر نہیں،اور یہ بھی ضروری نہیں کہ عربی ہی میں استغفار کیاجائے ،اپنی زبان میں ہی اللہ تعالی سے گناہ پر مغفرت طلب کی جائے ،یہ بھی استغفار ہی ہے ،تاہم یہ ضرور ہے کہ رسول اللہ ا کے الفاظ میں جو انوار و برکات ہیں، وہ دوسرے کلام میں نہیں ہوسکتے ، اس لئے حضور ا سے ماثور الفاظ میں استغفار زیادہ بہتر ہے ، آپ ا سے استغفار کے لئے بہت سی دعائیں منقو ل ہیں ، ان میں ایک جامع دعاء جو صحیح سند سے مروی ہے، ترجمہ کے ساتھ یہاں درج کی جاتی ہے ،آپ چاہیں تو اسے یاد کرلیں :اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ ۔ وَ مَااَسْرَرْتُ وَ مَا اَعْلَنْتُ ، اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُأَخِّرُ ، وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (مجمع الزوائد:۱۰؍۲۰۹) اے اللہ !میں آپ سے ان تمام گناہوں کی معافی چاہتاہوں،جو میں نے پہلے کئے یا بعد میں کروں ، جسے میں نے چھپ کر کیا یا علانیہ، آپ ہی آگے بڑھانے والے اور پیچھے کرنے والے ہیں، اور آپ ہر چیز پر قادر ہیں ۔

جمعہ کا طویل خطبہ
سوال:- بعض حضرات جمعہ کے دن عربی خطبہ کو طوالت دیتے ہیں اور نماز کو مختصر پڑھتے ہیں ، کیا یہ درست ہے ؟ (جنید احمد، محبوب نگر )
جواب:- نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے خطبہ کا پایا جانا شرط ہے ، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ا نے ہمیشہ اس کی پابندی فرمائی ہے؛ البتہ اس کی کیفیت کے بارے میں احادیث میں صراحت ہے کہ وہ مختصر ہوا کرتے تھے: کان رسول اللّٰہ ا لا یطیل الموعظۃ یوم الجمعۃ ، و إنما ھن کلمات یسیرات (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۱۱۰۷)ایک موقعہ پر آپ ا نے خطبہ کو مختصر دینے کا حکم دیا ہے ، حضرت عمار بن یاسر ص کی روایت ہے کہ ’’ أمرنا رسول اللّٰہا بإقتصار الخطب (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۱۱۰۶)اسی لیے فقہاء نے طویل خطبہ کو مکروہ قرار دیا ہے اور خطبہ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بھی بیان کی ہے کہ وہ مختصر یعنی طوالِ مفصل (ق تا بروج)کے برابرہو: أما سننھا فخمسۃ عشر و الرابع عشر تخفیف الخطبتین بقدر سورۃ من طوال المفصل و یکرہ التطویل (ہندیہ: ۱؍۱۴۷)اور رہ گئی قراء ت ، تو نماز جمعہ میں مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ اعلی اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیہ پڑھی جائے ، یا اس کے برابر دوسری آیتیں ، کیوں کہ رسول اللہ ا کا جمعہ میں زیادہ تر انہیں سورتوں کے پڑھنے کا معمولِ مبارک تھا ۔

۰ ۰ ۰

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker