ہندوستان

مسجدوں میں نماز پڑھنے کے بجائے گھروں میں رہ کر نماز پڑھنا بہتر ہے:مولانامتین الحق اسامہ

کانپور:26؍مارچ(پریس ریلیز)کورونا وائرس کے وبائی مرض سے اس وقت صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پریشان ہے۔ سبھی کو معلوم ہے کہ بھیڑ کے مقامات پر اس وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ اسی لئے حکومت نے پورے ملک میں اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کر دیا ہے کیونکہ اگر اس وائرس پر قابو نہ پایا گیا تو بڑی سخت تباہی کا اندیشہ ہے، اللہ حفاظت فرمائے، آمین۔ ایسے میں ایک اہم مسئلہ مسجدوں میں باجماعت نمازوں کا آیا جس پر ملک کے تمام جید علماء، ائمہ مساجد اور مذہبی اداروں نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ شریعت کے دائرے میں رہ کر نماز کی پابندی کیساتھ احتیاط لازمی ہے، اس لئے مسجدوں میں نماز پڑھنے کے بجائے گھروں میں رہ کر نماز پڑھنا بہتر ہے۔ مسجد میں صرف امام، مؤذن اور خدام حضرات ہی نماز ادا کریں گے۔ اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی قاضی شہر کانپور نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ کہ آج جمعہ کا دن ہے پہلے کی ہی طرح وہ آج بھی مسجدوں میں زیادہ بھیڑ نہ لگائیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے شریعت یہی کہتی ہے کہ نماز جمعہ کیلئے کم از کم3آدمی اور 1ایک امام ضروری ہے اس لئے تمام لوگ گھروں میں ہی نماز جمعہ پڑھ سکتے ہیں ورنہ گھر پر ہی ظہر کی نماز پڑھیں جو شرعاً نماز جمعہ کا متبادل ہے۔ مساجد کے ائمہ حضرات اپنے مؤذن اور خدام کے ساتھ 4-6لوگوں کی جماعت کر لیں اس میں بھی خطبہ اور قرأت جتنی مختصر ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ نیز عوام بغیر ضرورت سڑک و گلیوں میں کھڑے ہوکر اپنے معاشرہ کیلئے زحمت کا سبب نہ بنیں۔ ہمارے ملک کے بڑے علماء کا یہ متفقہ فیصلہ ہے برائے مہربانی اس حکم کو مانیں، شریعت کا مذاق نہ بنائیں اور تھوڑا سا علم لے کر علماء کرام پر تبصرہ کرکے اپنی عاقبت برباد نہ کریں۔ یاد رکھئے آپ کی لاپرواہی کہیں پوری ملت کی بدنامی کا سبب نہ بن جائے اس کا دھیان رکھیں۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker