مضامین ومقالات

کرونا وائرس: نگرانی کی حکمرانی اور قوم پرست علیحدگی کا خطرہ

تحریر : یووال نووا ہریری

ترجمہ : محمد اللہ قیصر

پوری دنیا میں انسانوں کے سامنے ایک بڑا بحران ہے۔ یہ شاید ہماری نسل کا سب سے بڑا بحران ہے۔ آنے والے کچھ دنوں اور ہفتوں میں ، عوام اور حکومتیں کے جو فیصلے ہوں گے ، ان کے اثر سے آئندہ کچھ برسوں میں دنیا کا حلیہ بدل جائے گا۔ یہ تبدیلیاں صرف صحت عامہ کی خدمات میں ہی نہیں بلکہ معاشیات ، سیاست اور ثقافت میں بھی ہوں گی۔ ہمیں تیزی سے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ہمیں اپنے فیصلوں کے طویل مدتی نتائج کے بارے میں چوکس رہنا ہوگا۔ جب ہم “آپشنز” امکانات کے متعلق سوچ رہے ہوں، تو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا ، نہ صرف یہ سوال کہ ہم اس بحران پر کیسے قابو پائیں گے ، بلکہ یہ سوال بھی کہ اس طوفان کے گزرنے کے بعد ہم کیسی دنیا میں رہیں گے۔ طوفان گزرے گا ، ضرور گزر جائے گا ، ہم میں سے بیشتر زندہ رہیں گے ، لیکن ہم بدلی ہوئی دنیا میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔
ہنگامی صورتحال میں اٹھائے گئے بہت سے اقدامات زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ یہ ایمرجنسی کی فطرت ہے ، یہ تاریخی عمل کو تیز تر کردیتی ہے۔ ایسے فیصلے جن پر عام طور پر سالہا سال غور وفکر ہوتے رہتے ہیں ،ایمرجنسی میں وہ چند گھنٹوں میں ہوجا تے ہیں۔ آدھے ادھورے اور خطرناک ٹکنالوجی کو بھی کام پر لگا دیا جاتا ہے کیونکہ کچھ نہ کرنے کا خطرہ بہت بڑا ہوسکتا ہے۔ ملک بھر کے شہری بڑے “سماجی تجربات” کے “چوہوں” میں بدل جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، جب سب گھر سے کام کریں گے ، اور صرف دور سے بات چیت کریں گے تو کیا ہوگا ؟ کیا ہوگا جب تمام تعلیمی ادارے آن لائن ہوں گے؟ عام حالات میں حکومتیں، کاروبار اور ادارے اس طرح کے تجربات کے لئے تیار نہیں ہوں گے ، لیکن یہ معمول کا وقت نہیں ہے۔

بحران کے اس دور میں ، ہمارے سامنے دو آپشنز ہیں پہلا: ہمیں “مطلق العنان نگرانی” یا “شہری اختیار” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ہمیں دوسرا انتخاب “قوم پرست علحدگی” اور “عالمی یکجہتی” کے مابین کرنا ہے۔

وبا کو روکنے کے لئے پوری آبادی کو مقررہ اصول و ضوابط پر عمل کرنا پڑتا ہے، ۔ اس کے دو اہم طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ حکومت لوگوں کی نگرانی کرے ، اور اصول توڑنے والوں کو سزا دی جائے۔ آج کی تاریخ میں ، ٹکنالوجی نے انسانیت کی تاریخ میں، پہلی بار یہ ممکن بناد یا ہے کہ ہر شہری کی ہر وقت نگرانی کی جاسکے۔ 50 سال پہلے ، روسی خفیہ ایجنسی “کے جی بی” 24 کروڑ سوویت شہریوں کی 24 گھنٹے نگرانی نہیں کرسکتی تھی۔ “کے جی بی” کا انحصار انسانی ایجنٹوں اور تجزیہ کاروں پر تھا ، اور ہر آدمی کے پیچھے ایجنٹ رکھنا ممکن نہیں تھا۔ اب انسانی جاسوس کی ضرورت نہیں ہے ، حکومتیں ہر جگہ موجود سینسر ، الگورتھم اور کیمروں پر انحصار کرسکتی ہیں۔

کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے ، بہت ساری حکومتوں نے نگرانی کے نئے اوزار اور نظام نافذ کیے ہیں۔ اس میں سب سے اہم معاملہ چین کا ہے۔ لوگوں کے اسمارٹ فونز کی گہرائی سے نگرانی کرکے ، لاکھوں لاکھ کیمروں کے ذریعہ ، چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ، لوگوں کے جسم کا درجہ حرارت لے کر ، اور مریضوں کی رپورٹنگ کو مشکل بناکر ، متاثرہ افراد کی شناخت کی گئی۔ صرف یہی نہیں ، ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی، تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ انہوں نے کن لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ کئی ایسے موبائل ایپس بھی موجود ہیں جو شہریوں کو متاثر مریضوں کی قربت سے متنبہ کرتے ہیں،
اس طرح کی ٹیکنالوجی چین تک ہی محدود نہیں ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم “بنیامین نیتن یاہو” نے کورونا انفیکشن کی روک تھام کے لئے ایسی ٹکنالوجی کے استعمال کا حکم دیا ہے جو اب تک صرف دہشت گردی کے خلاف استعمال کی جارہی تھی۔ جب پارلیمانی کمیٹی نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تو “نیتن یاہو” نے اسے درکنار کرتے ہوئے اپنے “ایمرجنسی پاور” کے ذریعہ اسے کلیئرنس دے دی۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں، حکومتیں اور بڑی کمپنیاں لوگوں کے تعاقب ،ان کی نگرانی، اور ان کا بیجا استعمال کرنے کے لئے جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرتی رہی ہیں۔ لیکن اگر ہم ہوش میں نہ رہے تو، یہ وبا ہماری “سرکاری نگرانی” کے معاملے میں “سنگ میل” ثابت ہوگی۔ ان ممالک میں نگرانی کے ایسے جامع نظام کو نافذ کرنا آسان ہوگا جو اب تک اس کی تردید کرتے آئے ہیں۔ صرف یہی نہیں ، اسے “مافوق الجلد نگرانی” کی بجائے ‘ماتحت الجلد’ نگرانی میں تبدیل کردیا جائے گا۔

اب تک ایسا ہوتا آیا ہے کہ جب آپ کی انگلی اسمارٹ فون سے کسی لنک پر کلک کرتی ہے تو حکومت جاننا چاہتی ہے کہ آپ کیا دیکھ – پڑھ رہے ہیں۔ لیکن کورونا وائرس کے بعد انٹرنیٹ کی توجہ بدل جائے گی۔ اب حکومت کو آپ کی انگلی کی حرارت اور جلد کے نیچے بلڈ پریشر کا بھی پتہ چل جائے گا۔
نگرانی کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی یقینی طور پر نہیں جانتا ہے کہ ہم پر کس طرح کی نگرانی کی جارہی ہے ، اور آنے والے برسوں میں اس کی شکل کیا ہوگی۔ نگرانی کی ٹیکنالوجی طوفانی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے ،
دس سال پہلے جو سائنس افسانہ کی بات لگتی تھی وہ آج کی پرانی خبر ہے۔ سوچنے کی سہولت کے لئے فرض کریں کہ حکومت اپنے شہریوں سے کہے کہ تمام لوگوں کے لئے ایک “بائیو میٹرک کڑا” پہننا لازمی ہوگا جو جسمانی درجہ حرارت اور حرکت قلب کی 24 گھنے نگرانی کرتا رہے گا۔”کڑا” سے حاصل شدہ معلوماتی ڈیٹا سرکاری “الگورتھم” (حساب لگانے والے مخصوص کمپیوٹر) میں جائے گا پھر ان کا تجزیہ ہوتا رہے گا۔ اس سے پہلے کہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ بیمار ہیں، حکومت کو پتہ چل جائے گا کہ آپ کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ سسٹم کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ آپ کہاں کہاں گئے ، کس کس سے ملاقات کی ، اس طرح سے انفکشن کا سلسلہ محدود ہو سکتا ہے یا کئی بار ٹوٹ سکتا ہے۔ ایسا نظام چند دنوں میں انفیکشن کو ختم بھی کرسکتا ہے ، یہ بہت اچھا لگتا ہے ، ہے نا؟

اب اس کے خطرے کو سمجھیں ، اس سے ایک خوفناک “نگرانی کے نظام” کا آغاز ہو گا۔ مثال کے طور پر ، اگر کوئی جانتا ہے، کہ میں نے “فاکس نیوز” کے بجائے “سی این این” کے لنک پر کلک کیا ہے تو ، وہ میرے سیاسی نظریات اور کسی حد تک میری “شخصیت” کو بھی سمجھنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ لیکن اگر آپ ویڈیو کلپ دیکھنے کے دوران میرے جسمانی درجہ حرارت ، بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن پر نظر رکھے ہوئے ہیں ، تو آپ جان سکتے ہیں کہ مجھے کس چیز سے ناراضگی، ہنسی یا رونا آتا ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہئے کہ غصہ ، خوشی ، بوریت اور محبت، بخار اور کھانسی کی طرح ایک حیاتیاتی عمل ہے۔ وہ ٹیکنالوجی جو کھانسی کا پتہ لگاسکتی ہے ، وہی ہنسی کا بھی۔ اگر حکومتوں اور بڑی کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر ہمارے اعداد و شمار جمع کرنے کی آزادی مل جاتی ہے ، تو وہ ہمارے بارے میں ہم سے بہتر طور پر جاننا شروع کردیں گے۔ وہ پہلے ہی ہمارے جذبات کا اندازہ لگاسکیں گے ، نہ صرف یہ کہ وہ ہمارے جذبات سے بھی کھیلنے کے قابل ہوں گے ، بلکہ وہ جو کچھ بھی ہم سے چاہتے ہیں وہ فروخت کرسکیں گے – خواہ وہ مصنوع ہو یا قائد۔ حیاتیاتی اعداد و شمار پر مبنی نگرانی کے بعد ، “کیمبرج اینالیٹیکا” پتھر کے عہد کی ٹکنالوجی لگنے لگے گی۔ ذرا غور کریں ، 2030تک شمالی کوریا کے ہر شہری کو “بایومیٹرک کڑا” پہنا دیا گیا ہے۔ عظیم قائد کی تقریر سننے کے بعد ، جس کا کڑا بتائے گا کہ وہ ناراض تھے ، اس کا تو ہوگیا کام تمام۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ “بایو میٹرک سرویلنس” ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے ایک عارضی نظام ہوگا۔ جب ایمرجنسی ختم ہوجائے گی ، تو اسے بھی ختم کردیا جائے گا ، لیکن عارضی نظاموں کی یہ گندی عادت ہے کہ وہ ایمرجنسی کے بعد بھی رہتے ہیں ، کیونکہ نئی ایمرجنسی کا خطرہ باقی ہے۔ مثال کے طور پر ، میرے اپنے اسرائیل میں ، 1948 میں آزادی کی جدوجہد کے دوران ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی ، جس کے تحت بہت سے عارضی انتظامات کیے گئے تھے، پریس سنسرشپ سے لیکر “پڈنگ” بنانے کیلئے لوگوں کی زمین پر جبرا ضبطی کو جائز ٹھہرایا گیا تھا۔ ہاں! “پوڈنگ” بنانے کیلئے، میں مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ آزادی کی لڑائی کب کی جیتی جا چکی ہے ، لیکن اسرائیل نے کبھی نہیں کہا کہ ایمرجنسی ختم ہوچکی ہے۔ 1948 کے بہت سے ‘عارضی اقدامات’ ابھی بھی عمل میں ہیں ، انہیں دور نہیں کیا گیا ہے۔ شکر ہے کہ 2011 میں ، “پوڈنگ” بنانے کے لئے اراضی چھیننے کے قانون کو ختم کردیا گیا تھا۔

یہاں تک کہ جب کورونا وائرس کے انفیکشن کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا ،تو اعداد و شمار سے محروم حکومتیں “بایومیٹرک نگرانی” کو کالعدم کرنے سے انکار کرسکتی ہیں ، حکومتیں یہ استدلال کرسکتی ہیں کہ کورونا وائرس کا دوسرا دور آسکتا ہے ، یا “ایبولا” دوبارہ “افریقہ” میں پھیل رہا ہے ، یا کچھ اور … آپ سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری رازداری کے بارے میں ایک انتہائی زبردست لڑائی گزشتہ کچھ سالوں سے جاری ہے۔ کورونا وائرس کا انفیکشن اس لڑائی کا فیصلہ کن موڑ بن سکتا ہے ، جب لوگوں کو رازداری اور صحت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا ، تب یہ ظاہر ہے کہ وہ صحت کا انتخاب کریں گے۔

دراصل ، لوگوں کو صحت اور رازداری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کیلئے کہنا ہی اس مسئلے کی جڑ ہے کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ ہم ایک ساتھ رازداری اور صحت دونوں حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو “مکمل نگرانی کا نظام” نافذ کرکے نہیں، بلکہ شہریوں کو بااختیار بنا کر روک سکتے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ، جنوبی کوریا ، تائیوان اور سنگاپور نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اچھی مثالیں قائم کیں ہیں۔ ان ممالک نے کچھ مخبری کرنے والے “ایپلی کیشنز” کا استعمال تو کیا ہے ، لیکن انھوں نے وسیع پیمانے پر جانچیں کیں ، ایمانداری کے ساتھ ان کو معلومات فراہم کیں ،وہ با شعور عوام کے رضاکارانہ تعاون پر انحصار کر رہے ہیں۔

مفید رہنما خطوط پر عمل درآمد کیلئے مرکزی نگرانی ، اور سخت سزا ضروری نہیں ہے۔ جب لوگوں کو سائنسی حقائق بتائے جاتے ہیں ، جب لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ عہدیدار سچ بول رہے ہیں ، تب وہ خود ہی درست قدم اٹھاتے ہیں ، “بگ برادر” کی گھورتی آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب باشعور آبادی اپنے جذبے سے کوئی کام کرتی ہے تو وہ زیادہ موثر ہوتا ہے، نہ کہ پولیس کے زور پر مایوس عوام سے کرائی گئی کوششیں۔

مثال کے طور پر ، صابن سے ہاتھ دھونا۔ انسانی صفائی کی تاریخ میں یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔ یہ آسان کام ہر سال لاکھوں لوگوں کی جان بچاتا ہے ، اب ہم اسے ایک عام چیز سمجھتے ہیں ، لیکن انیسویں صدی کے سائنس دانوں نے صابن سے ہاتھ دھونے کی اہمیت کو بخوبی سمجھا ، اس سے قبل ڈاکٹر اور نرس ایک آپریشن کے بعد دوسرا آپریشن ہاتھ دھوئے بغیر کیا کرتے تھے۔ آج اربوں لوگ روزانہ اپنے ہاتھ صابن سے دھوتے ہیں ، اس لئے نہیں کہ وہ پولیس سے ڈرتے ہیں ، بلکہ وہ حقائق کو سمجھتے ہیں۔ میں نے بیکٹیریا اور وائرس کے بارے میں سنا ہے، اسلئے میں اپنے ہاتھ صابن سے دھوتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ صابن بیمار کرنے والے بیکٹیریا اور وائرس کو مار ڈالتا ہے۔

لوگ حکومت کی پیروی کریں اور تعاون کریں اس کیلئے یقین بہت ضروری ہے۔ لوگوں کو سائنس پر یقین ہونا چاہئے ، سرکاری افسران پر اعتماد ہونا چاہئے ، اور میڈیا پر یقین ہونا چاہئے۔ پچھلے کچھ سالوں میں ، غیر ذمہ دار رہنماؤں نے عمدا سائنس، سرکاری ادارے اور میڈیا پر عوام کا اعتماد ہلادیا ہے۔ یہ غیر ذمہ دار رہنما مطلق العنانیت کی راہ اپنانے کے خواہش مند ہیں ، ان کی دلیل ہوگی کہ عوام صحیح کام کریں گے ، اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔

عام طور پر جو اعتماد برسوں سے ٹوٹتا آرہا ہے اسے راتوں رات قائم نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ عام وقت نہیں ہے۔ بحران کے وقت ذہن بہت جلد بدل جاتا ہے۔ بہن بھائیوں سے آپ کا اختلاف ہوتا ہے، لیکن بحران کے دوران آپ کو اچانک محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کے مابین کتنا پیار اور اعتماد ہے ، آپ مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ “نگرانی کے راج” کی بجائے سائنس ، سرکاری اداروں اور میڈیا پر عوام کا اعتماد بحال کرنے والے کام ہونے چاہئیں۔ ہم نئی ​​ٹیکنالوجی کو مضبوطی سے استعمال کریں ، لیکن مقصد ہو کہ شہریوں کو اس سے طاقت ملے ۔ میں اپنے جسمانی درجہ حرارت اور بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے کے حق میں ہوں ، لیکن میں اس اعداد و شمار کو حکومت کو طاقت ور بنانے کے لئے استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ ڈیٹا کا استعمال، میں اپنے ذاتی، با شعور فیصلوں کے لئے کروں ، اور حکومت کو اس کے فیصلوں کے لئے ذمہ دار بھی ٹھہراسکوں۔

اگر میں 24 گھنٹے اپنی صحت کی نگرانی کروں گا تب میں یہ سمجھنے کے قابل ہوجاؤں گا کہ کب میں دوسروں کے لئے خطرہ بن گیا ہوں ، اور صحت یاب ہونے کے لئے مجھے کیا کرنا چاہئے ، مجھے صحت کے لئے کیا عادات اختیار کرنی چاہئے.۔ اگر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں قابل اعتماد اعداد و شمار حاصل کرسکتا ہوں اور ان کا تجزیہ کرسکتا ہوں تو، پھر میں یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا کہ حکومت سچائی بتا رہی ہے یا نہیں اور اس وبا سے نمٹنے کے لئے صحیح طریقے اپنا رہی ہے یا نہیں۔ جب بھی ہم “مانیٹرنگ سسٹم” کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یاد رکھیں کہ اسی ٹکنالوجی کی مدد سے حکومت پر بھی نگرانی کی جاسکتی ہے جس کے ذریعہ عوام کی نگرانی ہوتی ہے۔

کورونا وائرس کا پھیلاؤ شہریوں کے حقوق اور فرائض کا ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ آنے والے دنوں میں ، ہم سب کو سائنسی اعداد و شمار اور صحت کے ماہرین پر بھروسہ کرنا چاہئے ،نہ کہ بے بنیاد کہانیوں اور ان رہنماؤں کی گفتگو پر جو اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم صحیح فیصلے نہیں کرتے ہیں تو ہم اپنی سب سے قیمتی آزادیاں ضائع کردیں گے ، ہم قبول کرلیں گے کہ یہ ہماری صحت کی حفاظت کا صحیح فیصلہ ہے۔

اب دوسرا اہم انتخاب ، جو ہمیں “قوم پرست علحدگی” اور “عالمی یکجہتی” کے درمیان کرنا ہے۔ یہ وبا اور اس کے اثرات، معاشی نظام کیلئے عالمی بحران ہیں۔ عالمی سطح پر تعاون سے ہی اس بحران کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے تو ، دنیا بھر کے ممالک کو اس وائرس سے نمٹنے کے لئے معلومات کا تبادلہ کرنا پڑے گا۔ ایک ہی چیز انسانوں کو وائرس سے آگے بڑھا سکتی ہے۔ امریکہ کا کورونا وائرس اور چین کا کورونا وائرس دونوں اس بات پر غور و فکر نہیں کرسکتے کہ لوگوں کے جسموں میں کیسے داخل ہوں۔ لیکن چین، امریکہ کو کچھ کارآمد چیزیں بتا سکتا ہے ، “ملان” کا ڈاکٹر صبح اٹلی میں جو معلومات حاصل کرتا ہے وہ شام تک “تہران” میں لوگوں کی جانیں بچاسکتی ہے۔ اگر حکومت برطانیہ متعدد پالیسیوں کے بارے میں مخمصے کا شکار ہے ، تو وہ حکومت کوریا سے بات کر سکتی ہے ، جو تقریبا ایک ماہ قبل اسی طرح کے دور سے گزرا تھا۔ لیکن ایسا ہونے کے لئے ، عالمی بھائی چارہ اور یکجہتی کا احساس ہونا چاہئے۔

ممالک کو کھلے عام معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا ، شائستگی سے مشورے طلب کرنے ہوں گے ، اور دوسرے کو جو کچھ بھی دیتے ہیں اس پر اعتماد کرنے کے لئے ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ “میڈیکل کٹس” کی تیاری اور تقسیم کے لئے عالمی سطح پر کوششیں کرنی ہوں گی۔ اپنے ملک میں پیدا کرنے کی کوشش اور آلات اکٹھا کرنے کے بجائے ، کوآرڈینیشن کے ساتھ کی جانے والی عالمی کوششیں زیادہ کارگر ثابت ہوں گی۔ جس طرح دنیا کے ممالک لڑائی کے وقت اپنی صنعتوں کو قومی بناتے ہیں اسی طرح کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے دوران ہمیں بھی ضروری چیزوں کی تیاری کو “قومی” کے بجائے “انسانی” بنانا چاہئے۔ ایک ایسا امیر ملک جہاں کورونا انفیکشن کم ہے ، اسے ایسے ممالک میں سامان بھیجنا چاہئے جہاں انفیکشن کے واقعات زیادہ ہیں۔ ڈاکٹروں کی تقرری کے معاملے میں بھی ایسی ہی کوششیں کی جانی چاہئیں۔

معیشتوں کو بھی سنبھالنے کے لئے عالمی پالیسی بنانی چاہئے ، اگر ہر ملک اپنے حساب سے چلے گا تو بحران مزید گہرا ہو گا۔ اسی طرح ، دوروں کے بارے میں ایک اتفاق ہونا چاہئے ، طویل المیعاد سفر پر مکمل پابندی بہت نقصان پہونچائے گی ، کورونا کے خلاف جنگ بھی کمزور ہوگی کیونکہ سائنس دانوں ، ڈاکٹروں اور سپلائیوں کو بھی دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جانا پڑے گا۔ پری اسکریننگ کے ساتھ دورے شروع کرنے پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔

لیکن افسوس کہ ان میں سے کچھ بھی نہیں ہورہا ہے، دنیا بھر کی حکومتیں اجتماعی فالج کی حالت میں ہیں۔ دنیا کے سات امیر ترین ممالک کے رہنماؤں کی میٹنگ اب گذشتہ ہفتے ٹیلی مواصلات کے ذریعے ہوئی ہے ، جس میں اس طرح کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں رکھا گیا ہے تاکہ دنیا کے سارے ممالک متحد ہو کر کورونا کے خلاف جنگ لڑ سکیں۔

امریکہ نے 2008 کے معاشی بحران اور 2014 میں ایبولا کے پھیلتے وقت “عالمی رہنما” کا کردار ادا کیا تھا ، لیکن اس بار امریکی قیادت نے یہ کام چھوڑ دیا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ انسانیت کے مستقبل سے زیادہ فکر “امریکہ کے عظمت” کی ہے۔ موجودہ قیادت نے اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی چھوڑ دیا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہورہا ہے، اور جرمنی کے ساتھ اس ویکسین کو لے کر ایک عجیب و غریب اسکینڈل کھڑا کردیا گیا ہے۔

ہمیں انتخاب کرنا ہے کہ ہم عالمی یکجہتی کی طرف جائیں گے یا قوم پرست علحدگی کی طرف۔ اگر ہم قوم پرست علحدگی کا انتخاب کرتے ہیں ، تو یہ بحران مزید نقصان کرکے دیر سے ختم ہوگا، اور آئندہ بھی اس طرح کے بحران آتے رہیں گے۔ لیکن اگر ہم عالمی یکجہتی کا انتخاب کرتے ہیں تو یہ کورونا کے خلاف ہماری بڑی فتح ہوگی ، ساتھ ہی ہم مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کے لئے بھی مضبوط ہوں گے، ایسے بحران جو 21 ویں صدی میں بنی نوع انسان کے وجود کو روئے زمین سے مٹا سکتے ہیں۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker