مضامین ومقالات

تھالی بجانے کو سمجھئے

ڈاکٹر عابد الرحمن (چاندور بسوہ)
’ بہترین تجربہ ہوا ،بولئے تو پانچ منٹ تالیاں تھالیاں گھنٹے یا دوسرے ذرائع سے آواز( ناد ) پیداکرنی تھی مگر یہ صرف اتنا ہی نہیں تھا ،تھالیاں تالیاں بجاتے وقت کب آنکھوں سے آنسو بہنے لگے معلوم ہی نہیں ہوا جامع جذبات امڈنے لگے ،احسان ،دعا ،قدرت کے سامنے خود سپرد گی اور شکر گزاری کے جذبات !! اورآپ ہی آپ دل کی گہرائیوں سے دنیا کے پالنہار کے سامنے دعائیں نکلنی شروع ہوگئیں۔۔۔۔ ‘ جس وقت ہم مودی جی کی اپیل پر لوگوں کے تھالیاں تالیاں بجانے اور شور کر نے کا مذاق اڑارہے تھے اس وقت سوشل میڈیا پر اس طرح کے پیغامات لکھے اور شیئر کئے جارہے تھے ۔ مذکورہ پیغام ڈاکٹروں کے ایک واٹس ایپ گروپ پر ایک ڈاکٹر نے شیئر کیا ، اس پیغام میں تھالیاں پیٹنے کے عمل کو نہ صرف کورونا سے لڑ رہے ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی بلکہ پوری سوسائٹی کو کورونا سے بچانے کے لئے ایک قسم کی دعائیہ تقریب قرار دیا گیا ہے ۔ یوں تو اس ضمن میں امیتابھ بچن سے لے کر کئی اندھ بھکتوں نے اسے آواز کی طاقت اور وائبریشن کے ذریعہ وائرس کی طاقت کم کرنے تک کا عمل قرار دیا لیکن مذکورہ میسیج کسی عام یا ان پڑھ آدمی کا یا کسی غیر طبی شخص کا میسیسج نہیں ہے ہوسکتا ہے مذکورہ شخص بھی اندھ بھکت ہو لیکن وہ ایسا شخص ہے جسے کورونا کی اب تک کی پوری معلومات ہے ،اس سے بچنے کے لئے ضروری احتیاط کا علم ہے ،اس کے مقابلے ہمارے ملک کی حقیقی حالت کی بھی جانکاری ہے،جو اس ضمن میں مودی جی کے اقدامات کا تنقیدی جائزہ لینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے ۔ لیکن تھالیاںبجاتے وقت اور تالیاں پیٹتے وقت ایسے لوگوں نے بھی مودی جی سے یہ نہیں پوچھا کہ جنتا کرفیو کے اخیر میں یہ تھالیاں پیٹنا تو بجائے خود کرفیو کی خلاف ورزی اور کورونا کے پھیلاؤ کی ایک صورت ہوگئی ۔ ان کے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی کہ مودی جی سے پوچھیں کہ کورونا سے لڑنے کے لئے ہماری میڈیکل تیاری کیا ہے؟ کورونا کی جانچ بڑے پیمانے پر کرنے کے لئے ہم نے کیا اقدامات کر رکھے ہیں ،فی الحال اس کی جانچ کی رفتار بڑھانے کے لئے ہم نے کیا کیا ہے؟ پرائویٹ لیبس کو اسکی جانچ کی اجازت دیتے وقت اسکی زیادہ سے زیادہ فیس مقرر کرتے وقت حکومت نے غریبوں کی جانچ کا پیسہ خود دینے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ کیا غریبوں کو اسکی ضرورت نہیں یا پھر انہیں سرکاری لیب میں نمبر آنے تک انتظار ہی کرنا ہوگا ؟یہ بھی نہیں پوچھا کہ ہمارے پاس کتنے ہاسپیٹل ہیں ان میں آئسولیشن کی کتنی سہولت ہے علاج کے لئے ضروری ادویہ کا کتنا ذخیرہ ہے اور ضرورت پڑنے پر کتنے وینٹیلیٹر ہم بیک وقت استعمال کرسکتے ہیں ۔لوگ مودی جی کی اپیل پر تھالیاں بجانے میں اتنے مست ہوگئے کہ انہیں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں ان غریبوں کا کیا ہوگا جن کا روز کمانا کھانا ہے ، وہ اسی پر خوش ہو گئے کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں بھی ضروری اشیاء اور لازمی خدمات کی دکانیں کھلی رہیں گی انہیں یہ جاننے کا بھی خیال نہیں آیا کہ یہ ضروری اشیاء ان لوگوں کو کس طرح ملیں گی لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزگار بند ہونے کے باعث جن کے پاس ان اشیاء کو خریدنے کے لئے پیسے ہی نہیں ہوں گے؟سرکار نے ایسے لوگوں کو بغیر کسی شناختی عمل کے مفت سپلائیز کا انتظام کیوں نہیں کیا؟کسی نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ حکومت نے اسی وقت سے اقدامات کیوں نہیں شروع کر دئے تھے جب پہلے پہل اس کے مریض ہمارے یہاں ملے تھے ؟ اسی طرح ریلوے بند کر کے ریاستی اور ضلعی سرحدیں بھی اسی وقت کیوں نہیں بند کردی گئی تھیں جب لوگوں نے ممبئی پونے جیسے بڑے اور متاثرہ شہروں سے اپنے اپنے وطن لوٹنا شروع کیا تھا؟ دراصل مودی جی نے کورونا کے خلاف بھی لوگوں کو مذہب کی افیون پلادی ہے اور اس میں سب لوگ اتنے مدمست بھی ہوگئے ہیںکہ ان کے اقدامات اور پالسی کا تنقیدی جائزہ بھی نہیں لے رہے ہیں نہ صرف خود آنکھ بند کر کے ان کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ کورونا کے خلاف اپنی تیاری کا تنقیدی جائزہ لینے والوں اور سوال کرنے والوں کو مودی دشمن سے لے کر ملک دشمن تک قرار دے رہے ہیں۔
کیا اکثریتی عوام کا یہ عمل ان کی بے وقوفی ہے جیسا کہ کہا جارہا ہے ، ہمارے خیال سے نہیں ۔ یہ ان کی بے وقوفی نہیں بلکہ مودی جی کو غیر مشروط حمایت ہے ، سپورٹ ہے سمرتھن ہے ۔ سوچئے جب مودی جی کی اس غیر سائنسی غیر طبی اور غیر منطقی اپیل کی حمایت میں جاننے بوجھنے وا لے لوگ بھی اس قدر جذباتی ہوئے جا رہے ہیں کہ زمینی حالت دیکھنے کو ہی تیار نہیں تو ان کی وہ اپیلیں اور اقدامات اکثریت کی کتنی حمایت پائیں گے جو ذرہ برابر بھی ہمارے خلاف ہوں گے یا اگر اسی اکثریت اور ملک کے خلاف بھی ہوں گے لیکن انہیں مذہبیت کا ہلکا سا رنگ دے دیا جائے گا، یا مسلم مخالفت تڑکا دیا جائے گا ؟جس طرح پورے ملک اور پوری آبادی بشمول اکثریتی ہندو آبادی کو سخت مشکل میں ڈالنے اور پریشان کرنے والے این آر سی کو شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) کے ذریعہ مسلم مخالف رنگ دے دیا گیا ۔ ایک بات اور بہت سنجیدگی سے سوچنے کی ہے کہ مودی جی کا یہ اکثریتی سپورٹ بیس ہماری مودی مخالفت کے تناسب سے ہی بڑھتا بھی جائے گا ۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کے اس سپورٹ بیس کے ڈر سے ہمیں ان کے ہر اقدام کی حمایت کر نی چاہئے یا اپنے خلاف ان کی ظالمانہ پالسیوں پر چپ رہنا چاہئے ، نہیں !ہمارا کہنا صرف اتنا ہے کہ جو کچھ بھی ہم کریں وہ اس طرح ہو کہ اسے مسلم بمقابلہ ہندو کا رنگ نہ دیا جا سکے ۔ یہی ذہن میں رکھ کر ہمیں اپنی تمام تر پالسی ترتیب دینی ہوگی چاہے وہ کورونا کے ضمن میںہمارے لائحہء عمل سے متعلق ہو ، ہمارے دینی اجتماعات کے متعلق ہو ہمارے سیاسی جلوس یا ہمارے سیاسی لیڈران کی تقاریر اور بیانات کے متعلق ہو ہمارے سماجی اور ادبی پروگرامس کے متعلق ہو یا پھر ہمارے احتجاجات اور مظاہروں سے متعلق ہو ۔ وگرنہ اکثریت کی اس حمایت کے بل پر یہ حکومت ہر وہ کام بہت آسانی سے کر گزرے گی جو ابھی تک ناممکن سمجھے جاتے تھے ،آئین اور ہیومن رائٹس کے خلاف سمجھے جاتے تھے مذہبی اور شخصی آزادی کے خلاف سمجھے جاتے تھے ۔سو چاہے کورونا سے بچاؤ کی تدابیر ہوں ،سی اے اے ، این پی آر یا این آر سی ہو ہر ہر معاملہ میں اسی بات کو دھیان میں رکھ کر ہمیں تیاری کرنی چاہئے ۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker