Baseerat Online News Portal

لاک ڈاؤن اور یومیہ مزدور

ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ
8527118529
کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے انفیکشن کے پیش نظر پورے ملک کو 14اپریل تک کیلئے لاک ڈاؤن کردیاگیا ہے۔ اس وبا سے لڑنے کیلئے سرکار کے پاس شایدیہ سب سے مؤثر اوربہتر ین ذریعہ ہے۔لیکن جلد بازی میں اتنی لمبی مدت کیلئے اس طرح کا بڑا فیصلہ ایک عام ہندوستانی اور یومیہ مزدور کیلئے نہ صرف غیر متوقع صورتحال پیداکررہاہے بلکہ پریشان کن بھی ہے ، لہٰذا وہ ان حالات کے لئے خود کو تیار کرنے کے قابل نہیں ہے،جس کی وجہ سے بہت ساری پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں۔ہر چیز کو روکنے کا مطلب نقل و حرکت کو روکنا ہے،سپلائی رکنے کی وجہ سے روزمرہ کی بہت سی چیزوں کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوگیا اور بہت سی اجناس کی قلت بھی ہوگئی ۔ دالیں ، خوردنی تیل ، آٹا ، آلو ، پیاز وغیرہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔امیروںنے تو ذخیرہ کرلیاہے یا کررہے ہیں لیکن بیچارے وہ غریب جن کے پاس صرف ایک دن کی کمائی بچی ہوئی ہے وہ کہاں سے اور کس طرح اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کیلئے روزمرہ کی اشیاءفراہم کرے؟حالانکہ جمعرات کی سہ پہر یہ بھی خبر آئی ہے کہ مودی حکومت نے 1.70کروڑ روپے کے پیکج کا اعلان کیاہے جس کے تحت 80کروڑ غریب لوگوں تک سہولیات پہنچائی جائیں گی ۔سوال یہ بھی ہے کہ پیکج پہنچانے میں اتنی تاخیر کی گئی؟پیر کی اولین ساعتوں میں جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی کہ وزیر اعظم رات کے 8بجے ایک بار پھر قوم سے خطاب کرنے والے ہیں،سب کے ہاتھ پاو ¿ں پھولنے لگے کیوں کہ اب تک جتنی بار وزیر اعظم قوم سے مخاطب ہوئے ہیں،عام ہندوستانیوں کیلئے بظاہر پریشانیوں کا طوفان لائے ہیں ،اس وجہ سے اتوار کے روزوزیر اعظم کی جانب سے ” جنتا کرفیو“ کی ہدایت کی تابعداری کے بعد عام لوگوں نے یہ سمجھ لیاتھا کہ اب شاید اس سے بڑا فیصلہ نہیں ہوگا ،اسی لئے لوگوں نے اس ایک دن بہت ہی کامیاب بنایا لیکن جیسا کہ اس دن کے اداریہ میں روزنامہ سالار نے لکھا تھا کہ یہ تو ایک ٹریلر ہے ،آگے کا فیصلہ اس سے بھی بڑاہوسکتاہے کیوں کہ وزیر اعظم مودی کو بڑا فیصلہ لینے میں بہت مزہ آتاہے اس لئے وہ غیربیوں اور مزدوروں کے بارے میں سوچ نہیں پاتے ہیں ۔ملک اور عوام کا تحفظ مرکزی حکومت پر فرض ہے ،اس کا فیصلہ سرآنکھوں پر رکھنا چاہئے اور ہندوستانیوں نے نوٹ بندی،طلاق ثلاثہ،بابری مسجد کے فیصلہ کے وقت اپنے پرامن عمل سے واضح کردیاتھا لیکن مودی حکومت نے عوام کو اس کا بہترصلہ نہیں دیا۔جس کی وجہ سے مندروں اور مسجد وں کے باہر مانگنے والے اللہ کے بندے آج ایک ایک لقمہ کو ترس رہے ہیں۔انہیں نہ کوئی بھیک دے رہاہے اور نہ ہی ان کو اپنی گلیوں میں کوئی داخل ہونے دے رہاہے۔سوال یہی ہے کہ کیا وہ ملک کے باشندہ نہیں ہیں ،کیا صرف امیروں کو ہی اس ہندوستان میں رہنے کی اجازت ہے؟کیا غریبوں اور فقیروں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے ؟مودی حکومت نے دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاو ¿ن کے فیصلہ سے پہلے کیوں نہیں اسی طرح ایسے پیکج کا اعلان کیا جس طرح کیرلا کی حکومت نے اپنے لوگوں کی روز مرہ کی زندگی کیلئے کیا ہے ۔کیرلا حکومت نے ریاست کو لاک ڈاو ¿ن سے قبل 200بلین روپے کا ایک پیکج منظور کیا جس میں 10بلین روپے دیہی علاقوں میں روزگار پر پڑے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے ،ایک بلین سوشیل سکیورٹی کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔پورے صوبہ میں اس دوران ایک ماہ تک مفت راشن کا انتظام کیاہے،جس میں امیرو غریب کا کوئی فرق نہیں رکھاگیاہے۔اپنے پڑوسی صوبوں کی نسبت کیرلا صنعتی اور اقتصادی لحاظ سے پسماندہ ہے ،مگر سماجی ترقی کے لحاظ سے وہ رول ماڈل کی حیثیت رکھتاہے۔اس شعبہ میں اس نے کئی ترقی یافتہ ملکوں کو پیچھے چھوڑدیاہے ۔صوبہ کی شرح خواندگی صدفی صد ہے جبکہ ہندوستان کی 65فیصد۔اس کا صنفی تناسب بھی سب سے بہتر ہے۔1000مردوں پر 1058خواتین ہیں جبکہ ہندوستان میں یہ تناسب 1000مردوں پر 933خواتین ہیں۔اس سے قبل ڈبلیو ایچ او نے نیپا وائرس سے نمٹنے کیلئے ریاست کیرلا کی ستائش کی تھی۔گوکہ کیرلا ابھی تک پوری طرح محفوظ نہیں ہے مگر وزیراعلیٰ نے جو اقداما ت کئے ہیں وہ جنوبی ایشیاءکے دیگر ممالک اور ہندوستان کے دیگر صوبوں کے لئے نذیر بن سکتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس بیماری سے پوری دنیا خاص طور سے ہمارے ملک میں خوف اور ڈر کی جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس کی وجہ سے کاروبار اور دوسری سرگرمیاں بھی تقریباً بند ہوچکی ہیں، ایسے میں ان غریب اور محروم طبقات کے سامنے زندگی اور موت کا سوال کھڑا ہو تاجارہاہے جن کے پاس آمدنی کا کوئی معقول ذریعہ نہیں ہے اور جو روزانہ کی محنت سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کیرلا حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مرکزاور دیگرصوبائی حکومتوں کو ہنگامی سطح پر غورکرنا چاہئے، ایسے لوگوں کا باقاعدہ سروے کرکے مالی مدد پہنچانے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے۔حکومت کی کارکردگی ایسے ہی سنگین حالات میں دیکھی او ر پرکھی جاتی ہے۔مودی حکومت کو چاہئے کہ وہ ہرباشندہ خصوصاً غریبوں ،ان میں سے بھی وہ جو مزدور اور فقیر ہیں،ان کے ٹھکانوں تک کھانے پینے کی اشیاءپہنچائے تاکہ ان کے اندر بھی شہری ہونے کا احساس ہو۔

You might also like