Baseerat Online News Portal

کرونا وائرس، لاک ڈاؤن اور ہم

مولانا احمد نور عینی
المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد
کرونا سازش ہے، آزمائش ہے، یا عذاب ہے یا پھر حیاتیاتی جنگ ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ضرور ہے مگر اس کی نہ آخرت میں پوچھ ہونی ہے اور نہ اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ ہمیں دنیا میں ملنے والا ہے۔ یہ کام حکومتوں، عالمی طاقتوں اور پالیسی ساز اداروں کا ہے کہ وہ یہ تحقیق کریں کہ آیا یہ سازش اور حیاتیاتی جنگ ہے یا نہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس وقت:
▪️ توبہ وتضرع کو اپنا معمول بنائیں، خدا کے حضور ندامت کے آنسو بہائیں۔ “فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ” (الأنعام: 43) جیسی آیتیں ہم سے یہی تقاضا کرتی ہیں۔
▪️ خدا پر اپنے ایمان کو کمزور نہ ہونے دیں۔ ہم یہ ایمان رکھیں کہ خدا کے حکم کے بغیر نہ کسی کو بیماری لگ سکتی ہے اور نہ کسی کو موت آسکتی ہے، بیماری کا تعدیہ خدا ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن وحدیث کی نصوص بہت صریح ہیں۔
▪️ اس بیماری سے بچنے کے لیےحتی الامکان احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ “اعقلھا وتوکل” (رواه الترمذي عن أنس بن مالك في كتاب صفة القيامة برقم: 2517) یہ مزاج شریعت ہے۔ اسباب کو نظر انداز کرنا یا اسباب کو ہی سب کچھ سمجھنا یہ دونوں افراط وتفریط ہے۔ اعتدال کی راہ دونوں کے درمیان ہے۔ احتیاطی تدابیر سے متعلق طبی رہنمائی میں ڈاکٹروں اور ماہرین طب کے مشوروں پر عمل کریں اور شرعی رہنمائی میں شریعت کے مزاج اور حالات آگاہ علماء کی آرا پر عمل کریں۔
▪️ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جن تنگ دستوں اور محتاجوں کا گذارہ مشکل ہورہا ہو ان کی بلا واسطہ یا بالواسطہ خاموش مدد کریں، اس سلسلے میں مسلم وغیر مسلم کی تمیز کیے بغیر دامے درمے سخنے جس طرح بھی ہو تعاون کریں۔ یہ ہماری طرف سے کوئی احسان نہیں ہے؛ بل کہ یہ قرآن کا ہم سے مطالبہ ہے:’’ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ، فَكُّ رَقَبَةٍ ، أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ، يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ، أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ ‘‘ (البلد: 12- 16) ۔ ’’ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ ‘‘ (البقرة: 177)۔ ’’ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ، إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ‘‘ (الدهر: 9,8) اور اس مضمون کی دیگر آیات واحادیث ہم سے یہی مطالبہ کرتی ہیں۔
▪️ خوف کی نفسیات پیدا نہ ہونے دیں، سوشل میڈیا پر انفارمیشن کا جو سیلاب آیا ہوا ہے بل کہ انفارمیشن کا جو دھماکہ پھوٹ پڑا ہے، اس سے لوگوں میں ایک عجیب سراسیمگی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ خوف کی نفسیاتی بیماری نے کفار کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی اپنا شکار بنا لیا ہے۔ وبا کے ایام میں اس درجہ خوف کا ماحول بنانا اور خود بھی اس کا شکار ہونا مسلمانوں کا شیوہ نہیں رہا ہے، مسلمان موت سے نہیں ڈرتا ہے،موت کے بعد کی زندگی سے ڈرتا ہے اور اس کو سنوارنے کے لیے دنیاوی زندگی کو مصروف رکھتا ہے،موت سے بچنے کی تدبیر اختیار کرنے کا مطلب موت سے ڈرنا نہیں ہوتا ہے، اس سلسلے میں مسلمانوں اور کفار کے رویہ میں واضح فرق محسوس ہونا چاہیے، طاعون کی موت کو شہادت کا درجہ دیا گیا ہے، “وَمَن مَاتَ في الطَّاعُونِ فَهُو شَهِيدٌ” (رواه مسلم عن أبي هريرة في باب بيان الشهداء من كتاب الإمارة برقم: 3651)،اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ممکنہ خطرات کا ادراک نہ کریں، خطرات کا ادراک اور خوف کی نفسیات دونوں میں فرق ہے، ہمیں خطرات کا ادراک تو کرنا ہے مگر اس کے ساتھ ہمارا یہ کام بھی ہے کہ خوف کی نفسیات سے خود بھی باہر نکلیں اور دوسروں کو بھی باہر نکالیں۔فرمان نبوی : ” يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا ، وَبَشِّرُوا ، وَلاَ تُنَفِّرُوا” (رواه البخاري عن أنس بن مالك في كتاب العلم برقم: 69) بھی ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے۔
▪️ فرصت کے اوقات کو غنیمت جان کر اپنے آپ کو مشغول رکھیں۔ یہ ایک وبا ہے، یہ کوئی انقلابی یا اصلاحی تحریک نہیں ہے کہ ہمارا خاموش رہنا اور یکسوئی کے ساتھ اپنے وقت کو تعمیری کاموں میں مشغول رکھنا مجرمانہ غفلت شمار ہو۔ اس لیے جہاں تک ہوسکے سوشل میڈیائی میدان جنگ سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ اس وقت سوشل میڈیائی مفکرین کی فکری وفقہی موشگافیاں مثبت سے زیادہ منفی کردار ادا کر رہی ہیں۔ مشغولیت کے لیے تلاوت واذکار کے علاوہ سب سے بہترین عمل کتب بینی ہے۔ اور اگر تحقیق وتالیف کا ذوق ہو تو اس کے لیے بھی وقت مختص کرلیں۔
▪️ مطالعہ پر طبیعت کسی وجہ سے آمادہ نہ ہو تو معتبر علماء کے بیانات یا پھر مستند تاریخی وسائنسی ویڈیوز سن کر اپنے علم میں اضافہ کریں، مولانا یاسر ندیم الواجدی نے رد الحاد کا ایک اچھا سلسلہ شروع کیا ہے جو طلبہ وفضلا کے لیے خاص کر بہت مفید ہے۔
▪️ جو طلبہ عربی یا انگریزی میں مہارت پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے۔ کسی بھی زبان میں مہارت کے لیے “سماع” کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ عام دنوں میں اس کے لیے مستقل وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن کے ایام میں بہترین موقع ہے کہ روازانہ کم سے کم دس گھنٹے یکسوئی کے ساتھ متعلقہ زبان کے کارٹونس اور اسپوکن کے مہذب ایپیسوڈز سنیں اور دیکھیں۔ اسپوکن کے ویڈیوز یوٹیوب پر بے شمار تعداد میں موجود ہیں۔ روزانہ اگر دس گھنٹے پابندی سے کسی زبان کے ویڈیوز دیکھے اور سنے جائیں تو تین ہفتوں میں زبان کے بولنے میں واضح تبدیلی محسوس ہوگی اور اسپیکنگ کی روانی پر خود بھی تعجب ہوگا۔ زبان میں مہارت پیدا کرنے کا یہ عمل اگر دین کی خدمت اور اسلام کی اشاعت وحفاظت کی نیت سے کیا جائے تو یہ آخرت کا ذخیرہ بھی بن جائے گا۔ ” إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ” (رواه البخاري عن عمر بن الخطاب في باب كيف كان بدء الوحي برقم: 1).

♦ خلاصہ یہ کہ
▫️ توبہ وتضرع کو اپنا معمول بنائیں۔
▫️ مسبب الاسباب پر توکل کو کمزور نہ ہونے دیں۔
▫️اسباب کو اختیار کرنے میں کسی طرح کی کوتا ہی کو دخل نہ دیں۔
▫️ ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کریں۔
▫️ خوف کی نفسیات پیدا نہ ہونے دیں۔
▫️ لاک ڈاؤن کے اوقات کو ضائع ہونے نہ دیں۔
▫️ سوشل میڈیائی میدان جنگ سے اپنے کو دور رکھیں۔
’’اللَّهُمَّ إِنِّا نَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالجُنُونِ وَالجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ”

You might also like