ہندوستان

رکسول میں یاد کئے گئے بابائے آئین بھیم راو امبیڈکر

رکسول(محد سیف اللہ﴾ جنگ آزادی کے میرے کارواں، اور آئین ہند کے خالق و مالک،بابائے آئین ہند، بھارت کی تہذیب و ثقافت کے امین قوم وملت کے مخلص و سچے ہمدرد ، انسانیت کے درد کو ہر وقت اپنے سینے میں محفوظ رکھنے والے،ملک میں پھیلنے والی بد امنی پر آنسو بہا کر ہر لمحہ ہندوستان کے اندر قیام و امن کی فکر کرنے والے ، ذات دھرم اور اونچ نیچ، نفرت و تشدد،فرقہ پرستی،بدعنوانی،دہشت گردی،قتل وغارت گری کے شدید مخالف، عظم و حاصلہ کے چٹان ، قومی مفاد کے خلاف کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتا نہ کرنے والے، چور بازاری،ذخیرہ اندوزی،غربت و افلاس، اور رشوت خوری کو ملک کی خوبصورت پیشانی کا داغ تصور کرنے والے تھے آبروئے ہند بھارت رتن بابا بھیم راؤ امبیڈکر کی 129 ویں یوم پیدائش پر 14 اپریل کو ہند-نیپال کے سرحد سے متصل چمپارن ضلع کے ہر شہر گاؤں اور قصبوں میں جس عقیدت و محبت اور جوش و خروش کے ساتھ انہیں یاد کرکے ملک کے تئیں انکی قربانیوں پر ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

اس موقع پر رکسول امبید گیان منچ کے بانی منیش رام نے کہا کہ میں پوری ہندوستانی قوم کو قابل مو مبارک باد سمجھتا ہوں اور وقار ہند بھیم راؤ امبیڈکر کی تاریخی یوم پیدائش کے موقع پر چھمپارن سے لیکر پورے ملک کے چپا چپا میں سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں ملی اداروں کے نمائندوں کے ذریعے بھارت میں لوک ڈاؤن کا خیال کرتے ہوئے ان کے مجسمہ کو مالا پہنا کر موم بتیاں اور دیپ جلا کر عقیدت کا جو منظر پیش کیا گیا،اور ہندوستان کی قیادت کا فرض نبھانے والے رہنماؤں نے جس عزم و حوصلہ اور جذبے کے ساتھ بابا بھیم راؤ امبیڈکر جی کے تیار کردہ اصولوں،بنائی ہوئے قوانین اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر بھارت کی تعمیر و ترقی، ملک کی فلاح و بہبود، انسانیت کے تحفظ، امن و آشتی کے قیام،نفرت و تشدد اور بدعنوانی اور فرقہ پرستی کا خاتمہ اور نكسلزم اور دہشت گردی جیسے سنگین مسئلہ سے ملک کو نجات دلانے کے جو عہد و پیمان باندھے وہ بھی نہ صرف قابل قدر ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان امور پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرلیا جائے تو ملک خوشگوار تبدیلی کی راہ پر چل سکتا ہے،
منیش رام نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا صرف بابا صاحب کی یوم پیدائش پر ان کے مجسمہ کو پھول مالا پہنا دینا ہی ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے کافی ہے؟ کیا بس اتنے ہی عمل سے ہمیں یقین کرلینا چاہیے کہ ہمارے ملک کے وہ تمام مسائل حل ہوگئے جس کے لیے ہم آزادی کے بعد سے لے کر آج تک ترس رہے ہیں؟ کیا ہمارے سیاسی نمائندے بابا صاحب کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنا کر ملک کے مفاد کے تحفظ کے لئے کوشش کر رہے ہیں؟
منیش رام نے چھلکتے ہوے آنسو اور جذباتی ہوئے ہوے کہا کہ بابا صاحب صاحب بھیم راؤ امبیڈکر تو امن کے داعی تھے تھے مگر کیا آج بھی ایمانداری کے ساتھ ملک میں قیام امن کی کوشش ہورہی ہے؟ فرقہ پرستی، دہشتگردی، بدعنوانی، رشوت خوری، چوربازاری، قتل و غارت گری،تعصب پرستی کو بابا صاحب نے نے ملک کے شاندار مستقبل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا،مگر کیا آزادی کے بہتر سال بعد بھی ہمیں ان مسائل سے نجات مل سکی ؟ عوامی مفاد کا تحفظ تو با با صاحب کے بنیادی مقاصد میں شامل تھا، مگر ہر سال بابا صاحب کی پیدائش کے موقع پر بڑے بڑے دعوے کے باوجود آج بھی بھارت کی بیشتر آبادی خط و افلاس کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، غربت و افلاس کا رونہ گھر گھر کیوں رویا جارہا ہے؟ ملک بھر میں نفرت و عداوت اور فرقہ پرستی کا سیلاب کیوں آیا ہوا ہے؟ ایک دوسرے دھرموں میں خونی جنگ کیوں ہو رہے ہیں، باتوں باتوں میں فرقہ وارانہ تشدد کی آگ پورے ملک میں کیوں بھڑک رہی ہے؟ بدعنوانی رشوت خوری نے عام آدمی کی زندگی میں بے اطمینانی کا زہر کیوں کھول رکھا ہے؟ تمام تر چھوٹے بڑے سرکاری اداروں میں افسر شاہی کا بازار کیوں گرم ہے؟
منیش رام نے سوال کرتے ہوئےکہا کہ کیا کبھی ہم نے اپنی سوچ کو اس سمت میں پھیرنے کی کوشش کی ؟ کیا کبھی ہم نے سنجیدگی کے ساتھ اس پہلو پر سوچنے کی ضرورت محسوس کی؟ کیا اس کے بغیر ہم باباصاحب بھیم راو امبیڈکر کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آج پورا ملک فرقہ پرستی کی آگ میں جھلس رہا ہے مگر کیا اس آگ کو بجھانے کی کوشش کئے بغیر ہم اپنے میرے کارواں باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو بہتر انداز میں خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں؟
آخر میں شری رام نے کہا کہ بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر کے پیدائش پر تو ہرسال انفرادی و اجتماعی طور پر بڑےبڑے عہد کیے جاتے ہیں ہیں مگر آج تک تک یہ عہد اس ملک کی تقدیر کو کو بدلنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوسکا یہ اپنے آپ میں ایک سنگین سوال ہے؟ اور جس کا جواب خاص طور پر چمپارن کی سرزمین پر بسنے والے غریبوں، مجبوروں، مظلوموں، بے کسوں بے بسوں ، آدیواسیوں، دلتوں، مسلمانوں، پچھڑوں کا شدت سے انتظار ہے،کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ اگر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر جی اپنے آنکھوں سے ان حالات کو دیکھ لیتے جن سے یہاں کی عوام کو دو چار ہونا پڑ رہا ہے اور ایسے حالات میں انہیں خون کے آنسوؤں سے رونا پڑ رہا ہے تو اُنکی بے چینی کبھی بھی ان کو سکون کی نیند نہ سونے دیتی
آخر میں منیش رام نے کہا کہ کاش کہ وزیر اعظم نریندر دامودر داس مودی جی بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ، اور ہم سب دیش واسی ذات دھرم سے اوپر اٹھ کر ہم اپنے آپ کو بھارتیہ کہنا فخر محسوس کرتے-

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker