سیرت وشخصیاتشعروادبمضامین ومقالات

محسن نقوی:میرے حرفوں،میرے لفظوںمیں ہے چہرہ میرا!

نایاب حسن
اردوزبان کے دل کش، دل چسپ، مقبول تر اورطرب ناک شاعر محسن نقوی کا اصل نام سیدغلام عباس نقوی ہے، یہ اردوشاعری کی دنیامیں جانے پہچانے ہی نہیں، نسلِ نوکی توجہات کامرکزومحورہیں، ان کی شاعری جذبات کی سچی اورپختہ ترجمانی ہے، ان کے اشعارمیں ایک عجیب قسم کی پراسراریت پائی جاتی ہے، جوقاری اورسامع کے اشتیاق کومزیدبڑھادیتی ہے، رمزوکنایات سے بھرپوران کے اشعارمیں ایک مخصوص نوع کی غنائیت ہے، جسے ہرصاحبِ ذوق بخوبی محسوس کرسکتاہے، محبت ان کادلچسپ موضوع ہے اورمحبت کے سنگین ورنگین زاویوں کوانھوں نے بڑے دلنشیں اندازمیں بیان کیاہے، ان کے اشعار نوجوان نسل میں ضرب المثل کی حدتک مشہورومقبول ہیں:
اس کوفرصت ہی نہیں وقت نکالے محسن
ایسے ہوتے ہیں بھلاچاہنے والے محسن

اب کے بارش میں تویہ کارِ زیاں ہوناہی تھا
اپنی کچی بستیوں کوبے نشاں ہوناہی تھا
کس کے بس میں تھاہواکی وحشتوں کوروکنا
برگِ گل کوخاک، شعلے کودھواں ہوناہی تھا

اب یہ سوچوں توبھنورذہن میں پڑجاتیہیں
کیسے چہرے ہیں، جوملتے ہی بچھڑجاتے ہیں
کیوں ترے دردکودیں تہمتِ ویرانیِ دل
زلزلوں میں توبھرے شہراجڑجاتے ہیں
وہ بھی کیالوگ ہیں محسن جووفاکی خاطر
خودتراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑجاتے ہیں

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہواکر
حالات کی قبروں پہ یہ کتبے بھی پڑھاکر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں توہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گامرے سامنے آکر
ہروقت کاہنسناتجھے بربادنہ کردے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی روبھی لیاکر

اگرچہ میں اک چٹان ساآدمی رہاہوں
مگرترے بعدحوصلہ ہے کہ جی رہاہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتررہاہے
میں قطرہ قطرہ اس کی آنکھوں کوپی رہاہوں
بھلادے مجھ کوکہ بے وفائی بجاہیلیکن
گنوانہ مجھ کوکہ میں تری زندگی رہاہوں

ایک پل میں زندگی بھرکی اداسی دے گیا
وہ جداہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا
نوچ کرشاخوں کے تن سے خشک پتوں کالباس
زردموسم بانجھ رت کوبے لباسی دے گیا

بھڑکائیں مری پیاس کواکثرتری آنکھیں
صحرامراچہراہے، سمندرتری آنکھیں
پھرکون بھلادے گااُنھیں دادِ تبسم
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑکرتری آنکھیں
یوں دیکھتے رہنااسے اچھانہیں محسن
وہ کانچ کاپیکرہے، توپتھرتری آنکھیں

واسطہ حسن سے یاشدتِ جذبات سے کیا
عشق کوتیرے قبیلے یا مری ذات سے کیا
آج اسے فکرکہ کیالوگ کہیں گے محسن
کل جوکہتاتھامجھے رسم و رواج سے کیا

چاندنی رات میں اِک پیکرِ سیماب کے ساتھ
میں بھی اڑتارہااک لمحۂ بے خواب کے ساتھ
دل کو محروم نہ کرعکسِ جنوںسے محسن
کوئی ویرانہ بھی ہوقریۂ شاداب کے ساتھ

میں دل پہ جبرکروںگا،تجھے بھلادوںگا
مروںگاخودبھی تجھے بھی کڑی سزادوںگا
یہ تیرگی مرے گھرکاہی ہے مقدرکیوں؟
میں تیرے شہرکے سارے دیے بجھادوںگا
مذہب سے بھی ان کی گہری وابستگی تھی اورانھوں نے کئی معرکہ آراحمدونعت کہی ہیں؛ بلکہ’ موجِ ادراک‘ جوبنیادی طورپررسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں خراجِ عقیدت کاآئینہ ہے، اس کاایک ایک شعریوں معلوم ہوتاہے کہ الہامی ہے، جہانِ معانی و افکار وعقیدت میں ڈوب کرلکھی گئی اس نعت کے ایک مصرعے سے ایمان و یقین کی جوے رواں پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اسی طرح ان کی حمدوںمیںبھی وحدت و قدرتِ خداوندی کا انتہائی انوکھے اور نرالے اندازمیںبھرپوراعتراف و اظہار ہے ،ایک حمدکے چند اشعار:
اے مرے کبریا!
اے انوکھے سخی!
میرے ادراک کی سرحدوںسے پرے
میرے وجدان کی سلطنت سے اُدھر
تیری پہچان کا اولیں مرحلہ
میری مٹی کے سب ذائقوںسے جدا
تیری چاہت کی خوشبوکا پہلاسفر
میری منزل؟
تری رہگزرکی خبر
میراحاصل؟
تری آگہی کی عطا
میرے لفظوںکی سانسیں
ترامعجزہ!
میرے حرفوں کی نبضیں
ترے لطف کا بے کراں سلسلہ!
میرے اشکوںکی چاندی
تراآئینہ!
میری سوچوںکی سطریں
تری جستجوکی مسافت میں گم راستوں کا پتہ!
میں مسافرترا(خودسے ناآشنا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موجِ ادراک کی ایمان افروزنعمت کے کچھ اشعار:
وہ پیکرِ تقدیس،وہ سرمایۂ تخلیق
وہ قبلۂ جاں،مقصدِ تخلیقِ دوعالم
وجدان کا معیار،مہہ و مہر کا محور
وہ قافلہ سالارِمزاجِ بنی آدم
وہ شعلگیِ شمعِ حرم،تابشِ خورشید
وہ آئینۂ حسنِ رخِ ارض و سماوات
وہ جس سے رواں موجِ تبسم کی سبیلیں
وہ جس کے تکلم کی دھنک چشمۂ آیات
وہ جس کا ثناخواں دلِ فطرت کا تکلم
ہستی کے مناظرخمِ ابروکے اشارے
آفاق ہیں دامن کی صباحت پہ تصدُّق
قدموںکے نشاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ستارے۔۔۔۔۔۔۔۔
واقعۂ کربلااوراس سے متعلق کرداروواقعات پربھی انھوں نے بہت سے اشعارکہے ہیں، ’’فراتِ فکر‘‘ان کی اسی قسم کی نظموں کامجموعہ ہے، ان کاپہلامجموعہ اُسی وقت منظرِ عام پرآگیاتھا، جب وہ ایم اے کے طالب علم تھے،6مئی 1947کوان کی پیدایش پنجاب کے ڈیرہ غازی خان میں ہوئی تھی، بعدمیں وہ لاہورمنتقل ہوگئے تھے اوروہیںاپنی عملی زندگی گزاری، 15جنوری 1996کو وہ ایک دہشت گردانہ حادثے میں جاں بحق ہوگئے:
سفرتوخیرکٹ گیا
میں کرچیوںمیں بٹ گیا
محسن نقوی کی نثربھی ان کے شعرکی مانند بڑی دلفریب و دیدہ زیب تھی،وہ بہت ہی ستھری اور خوب صورت نثرلکھتے تھے،گوکہ ان کی نثری تحریروںکا بڑاسرمایہ موجودنہیں ہے،مگران کی تصنیفات کے دیباچوںاور سرناموںکی شکلوںمیں جوتحریریں ہیں،ان سے پتاچلتاہے کہ وہ کمال کے نثرنگارتھے،لفظوںمیں جاذبیت،جملوںکے دروبست میں ایک خاص قسم کی ہم آہنگی و موسیقیت،خیالات میں وجدآفرینی کی بھرپورصلاحیت اورواردات و افکارکی شستہ و شایستہ تعبیرسے سجی سجائی ان کی نثرکوپڑھ کرقلب ووجدان جھوم جاتاہے،ایک اقتباس:
’’لفظ ہماری کائنات ہیں،لفظ ہماری ذات کے ادراک کا مؤثرترین ذریعہ اور ہمارے محسوسات کے اظہارکاتواناترین وسیلہ ہیں،بات یہیں ختم نہیں ہوتی؛بلکہ یوںکہنا چاہیے کہ انسان کی اصل میراث اس کے لفظ ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔اگر یوںنہ ہوتا،تومرنے والوںکی قبروںکی پیشانیوں پر لفظوں سے اَٹے ہوئے کتبے نہ سجائے جاتے،موت کے بعد ہماری پہچان ہمارے وہ لفظ ہی توبنتے ہیں،جوہم سادہ کاغذوںکے حوالے کرجاتے ہیں‘‘۔(موجِ ادراک، سرِ لوحِ چشمِ تر،ص:7)ان کے شعری مجموعے:بندِ قبا،برگِ صحرا،ریزہ حرف،عذابِ دید،طلوعِ اشک ،رختِ شب ،خیمہ جاں،موجِ ادراک اورفراتِ فکر ہیں۔
محسن نقوی کوگوعمرِ درازنہ مل سکی،مگرانھوں نے کم عمر میں ہی کمالِ فن اور شاعرانہ صلاحیتوں سے ایک دنیاکواپنا گرویدہ بنالیا،حکومتی سطح پر انھیں حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازاگیا،شعروادب کی دنیامیں انھیں قدروعظمت کی نگاہ سے دیکھاگیا،ایک پوری نسل ایسی اُبھرکرسامنے آئی،جومحسن نقوی کے لطافت و شیرینی سے معموراشعارکی گرویدہ و شیفتہ ہے،تبھی توانھوںنے کہاتھا:
میرے حرفوں،میرے لفظوںمیں ہے چہرہ میرا
میرافن اب مرامذہب،مراایمان بھی ہے
میروغالب نہ سہی،پھربھی غنیمت جانو!
میرے یاروںکے سرہانے مرادیو ان بھی ہے
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker