Baseerat Online News Portal

زخمی دل

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
9431402672
شام کی ٹھٹھرتی تیز ہواؤں نے اسے جھلسا کر رکھ دیا تھا ,سب کچھ کے ہوتے ہوئے اسے اس احساس نے کہ اب وہ کون ہوگا جس سے محبت کے چند بول بولے جائیں گے نے گویا بے لباس کردیا تھا ,کُہرِے میں چھپی چاند کی چاندنی جسے وہ روز ہی آکر دیکھتے اور اس کے خوبصورت گول چہرے کو دیکھ کر اپنے پردیسی بیٹے کی اس محبت کو جو اس کے دل کی انگیٹھی گرما دیتا سرد کرکے پھر اپنے لوگوں کے بیچ اس طرح کھلکھلاتے کہ گویا اس کے دل ودماغ سے یادوں کی گھنگھور گھٹا یکسر چھٹ گئے ہوں , اور انجانےاس خوف اور دردکو اپنے سینے میں چھپاکر اپنوں اور چھوٹے معصوم نصف درجن سے زائد پوتَے پوتیوں اور ناتی نواسوں کے درمیان غم کو غلط کرنے کی انتھک کوشس کرتے اور یہ تاثُّر دینے کی کوشس کرتے کہ ہم اور غم ایک ساتھ کبھی جمع نہیں ہوسکتے , لیکن یہ بھی ایک عجب سی عادت آہستہ آہستہ فطرت میں داخل ہونے لگی تھی کہ اب وہ سر شام اپنے کمرے میں آدُبُکتے اور بند کمرے میں بیٹھے ٹی وی کے مختلف چائنلوں سے اپنی ان یادوں کو جو ذہن ودماغ کے اسکرین پر تَہ بَتَہ جما ہوتا کُھرَچ کر پھینکتے رہتے ,لیکن ہمیشہ فکروں کے تانے بانَے اس کی زندگی کو جھنجھوڑتی رہتی ,اس نے زندگی کے ہرموڑپر حوصلے سے کام لینے کا ہنر اپنے بڑوں کی صحبتوں اور دوستوں کے درمیان سے حاصل کیا تھا ,اللہ ناراض نہ ہوں اس کے لئے مسجدوں کی چوکھٹوں پر حسب سہولت جبین نیاز بھی خم کر آتے , اور بیت اللہ کے اس فرض کو بھی نبھا آئے جو زندگی میں ایک مرتبہ ھر مالدار پر فرض ہوتا ہے ,تاکہ رب کے حضور سرخروئی باقی اور بر قرار رہے , اور بسا اوقات بڑائی کی بقا کے جنگ میں جھلستی زندگی کو بھی داؤ پر لگا جاتے , یہی وجہ تھی کہ لوگوں کی ضیافت اور دستر خوان کا بجھا رہنا ایک عام سی بات تھی ,کبھی بے بسی نے اس دہلیز ودالان پر قدم نہیں رکھا تھا ,خوشی ہو یا غم چہرے پر ہمیشہ کھیلتی مسکراہٹ ہر آنے والے کو متاثر کرتی ,گندمی رنگ ,گٹھیلا بدن ,ڈھلتی جوانی کے باوجود سیدھی کمر ,سر کے بال سیاہ وسفید کے بیچ,چہرے پر ایک مشت سے کم کچی پکی داڑھیاں ,ستواں ناک ,آنکھیں درمیانی سی اور ان آنکھوں پر موٹے گلاس کا چشمہ ,منہ کے دانت کو ہم نے بسا اوقات انکے جیب میں دیکھے ہیں ,درمیانہ پیشانی جس پر فکروں کی لکیریں نمایاں ,جسم بھاری اور اس کے مقابلے پنڈلیاں لاغر ,ہتھیلی کھدرا اور تھوڑا گداز ,سرپر گول ٹوپی ,اکثر کرتا پائجامہ زیب تن کئے ہوئے ,رنگ کی مریدی انہیں ہرگز پسند نہیں , جو آیا زیب تن کرلیا ,پاؤں میں جو آجائے ڈال لینے کے عادی, پہنے اوڑھنے کے معاملے میں یکسر بے پرواہ ,اصل نام تو زین العابدین تھا لیکن “زینو بابو ” کے نام سے اس پورے علاقے میں مشہور تھے اور سرکاری اسکول میں بحیثیت استاد خدمت کرنے کی وجہ سے نوجوان نسلوں میں “سر” جی سے بھی متعارف تھے ,کامیاب مدرس ہونے نے انہیں اور مقبول کردیا تھا ,برھَمن دیکھتے ہی دھڑام سے پاؤں لگتا ,اور مسلمان بچوں کے ہاتھ سر تک جا کر آداب بجا لاتا ,جس راستے سے گذرتے جی حضور ,جی سر ,آداب سر ,سنتے سنتے راستوں کے کان پکتے ,اور دس منٹ کی مسافت تھک تھک کر بیٹھ جاتی , یہی وجہ ہے کہ پیدل کم گاڑی سے زیادہ چلنے کو ترجیح دیتے ,تاکہ منزل کو جلد از جلد طے کیا جاسکے اور راستے کی جی حضوری سے بچا جاسکے – زینو بابو کثیرالعیال تھے ,پانچ بیٹیاں اور چار بیٹے تھے ,سب کی تعلیم وتربیت اچھے ڈھنگ سے کرنے کے ساتھ شادی بیاہ سے بھی فارغ ہوچکے تھے ,سب کے سب خوشحال اور اپنے باپ کے نہایت ہی مطیع وفرماں دار ,کیا مجال کہ زبان بول لے اور ادب سے بندھے ہاتھ سیدھے ہوجائیں ,نگاہیں اشاروں پر ٹکی ہوئی ,اور ہمیشہ کان بیدار دماغ ہوشیار ,ابھی زینو بابو کچھ بولنا ہی چاہتے کہ فرزندان اشاروں کی زبان سمجھ کر اس سے قبل حاضر کردیتے ,بچوں کی عجب تربیت کرنے کی وجہ سے وہ کامیاب باپ شمار کئے جاتے ,اور لوگ مثال دیا کرتے کہ اولاد ہو تو زینو بابو کی طرح , کبھی کسی نے زینو بابو کے چہرے پر غم کے آثار نہیں دیکھے تھے ,آنکھوں میں آنسو اس کا تو کبھی تصور بھی نہیں تھا ,جو بھی ان کے ساتھ شکستہ دل بیٹھ جائے تو وہ اپنے ساتھ خوشیوں کو باندھ کر لے کر جائے ,قوت وتوانائی کےاحساس کے ساتھ واپس جائے , لیکن آج سب کچھ بدلا ہوا تھا ,سب کو ہنسانے والے کے چہرے پر بہتے آنسؤوں کے گرم قطروں نے گال پر نشان چھوڑ دیئے تھے , سب کو دلاسا دینے والا ایک ایک دلاسے کا منتظر تھا ,پڑھا لکھا شخص بھی صبر کے مفہوم کو سمجھنے کے باوجود صبر کے دامن کو چھوڑ بیٹھا تھا ,اسے ہرگھڑی اپنے جواں سال بیٹے شانو کی ناگہانی موت کچوکے لگاتی , عجب کیفیت تھی ,شانو کی موت پر باپ کے آنسو بہے تو کیا ,بہنوں ,بھائیوں اور رشتہ داروں نے سینہ کوبی کی اس سے بڑھ کر اس کے دوست واحباب بھی فراق یار میں دامن صبر کو نوچتے نظر آتے تھے ,بہتے آنسو خون خون ہوا جاتا تھا ,”شانو ” تھا بھی تو ہر دلعزیزبڑی بڑی سیاہ ڈور لئے آنکھیں ,گورا رنگ ,خوبصورت بھرا ہوا چہرہ ,جس پر لالی کا اثر ہمیشہ نمایاں رہتا ,کھڑی ناک ,چوڑی پیشانی, جس پر اپنوں اور پرایوں سے خوب محبت کئے جانے کی لکیریں ابھری ہوئی ,سرپر سیاہ بال ,چند بال چاندی کی طرح چمکدار ,عام دنوں میں موقع کی مناسبت سے مدھوبنی کھادی کا خوبصورت کھادی کا کپڑا زیب تن کئے ہوئے ,اورشلوار مولانا ابوالکلام کی طرح تنگ ,نواب زادوں کی طرح نوک دار جوتی, ایسے خوبصورت جواں سال نوجوان کے انتقال نے سب کو مغموم کر رکھا تھا,
شانو کی پرورش اور تربیت لارڈ پیار کے ماحول میں ہوئی تھی ,وہ کم سخن اور سنجیدہ تھا,گھر کے حالات سے واقف تھا ,اس لئے فضول خرچی کو گناہ تصور کرتا ,اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد اعلیٰ عہدے پر سعودی عرب کے ایک اہم کمپنی میں نوکری کررہاتھا ,اس کے والد زینو بابو کی یہ ہرگز خواہش نہیں تھی کہ وہ کمانے کے لئے سات سمندر پار کا سفر کرے لیکن حالات نے اسے نہیں روک سکا کسے معلوم تھا کہ اچانک حرکت قلب کے بند ہونے سے اس کی موت ہوجائیگی ,اس کی موت نے فضا کو لہو لہو اور دل زخمی کردیا اور زینو بابو یہ کہتے ہوئے مسکرانے لگے کہ بیٹا وعدہ ہے قیامت میں ملیں گے ,جاؤاب سکون سے ہمیشہ کے لئے سوجاؤ اب ہم تمہیں آواز دے کر نہیں جگا ئینگے تمہیں یاد ہے نا کہ تم میرے ڈر سے چھپ کر سوتے تھے اور تمہاری ماں مجھ سے جھوٹ بول کر کہ شانو تو بہت دیر ہوا ٹیوشن گیا ہے اور اپنی گود میں لوری دے کر سلادیتی تھی بیٹا اللہ حافظ
(بصیرت فیچرس)

You might also like