رمضان وعیدینمضامین ومقالات

حدیثِ رمضان المبارک

عبد اللہ سلمان ریاض قاسمی
(تیسرا روزہ )
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ خود عطاکریںگے۔اس کے اجر کی کوئی حد نہیں ہے۔جس کو جتناچاہیں گے عنایت کریں گے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی دس گنی تک اور دس گنی سے سات گنی تک بڑھائی جاتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جُدا ہے، کیوں کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا جزا دوں گا۔روزہ دار اپنی شہواتِ نفس اور اپنے کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دوفرحتیں ہیں۔ ایک فرحت افطار کے وقت کی اور دوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔ اور روزہ دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبوسے زیادہ پسند ہے۔ اور روزے ڈھال ہیں، پس جب کوئی شخص تم میں سے روزے سے ہو تو اسے چاہئے کہ نہ اس میں بدکلامی کرے اور نہ دنگا فساد کرے۔اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑے تو وہ اس سے کہہ دے کہ بھائی میں روزے سے ہوں۔،، (متفق علیہ)
روزے کی فرضیت: یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصَّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکمْ تَتَّقُوْنَ۔ (البقرہ ۱۸۳)اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ،جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
بُنِیَ الْاِسْلامُ عَلیٰ خَمْسٍ : شَھَادَۃُ اَنْ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْ لُ اللّٰہِ، وَ اِقَامِ الصَّلاَۃِ، وَاِیْتَائِ الزَّکاَۃِ ، وَالْحَجِّ ، وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔ ( بخاری)
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : (۱) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبو دنہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔(۲)نماز قائم کرنا۔(۳) زکوٰۃ دینا۔(۴)حج کرنا۔(اگراستطاعت ہو)۔(۵)رمضان شریف کے روزے رکھنا۔ (بخاری)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ فرض ہی نہیں ہے بلکہ رُکنِ اسلام بھی ہے۔
رمضان کے روزے کی فرضیت قرآن و حدیث اور اجماعِ امت تینوں سے ثابت ہے۔ ۲ ؍شعبان ۲ ھ ؁ کو مدینہ منورہ میں رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا۔
صوم کے لغوی اور اصطلاحی معنیٰ: صوم کے لغوی معنیٰ ہیں امساک یعنی کسی چیز سے رکنا، بچنا، باز رہنا۔ اسی لئے اگر کوئی شخص بولنے یا کھانے سے رکا رہے تو اسے لغت میں صائم کہتے ہیں۔ اس کی مثال قرآن کریم میں اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا میں نے اللہ سے صوم کی منت مانی ہے۔یعنی خاموش رہنے اور کلام نہ کرنے کی۔
اصطلاحی تعریف: شریعت اسلامی میں صو م یا روزہ یہ ہے کہ آدمی صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور شہوتِ نفسانی(عورت سے مباشرت کرنے)کے پورا کرنے سے روزہ کی نیت کے ساتھ رکا رہے۔
رمضان المبارک کا روزہ ہر مسلمان عاقل بالغ مرد اور عورت پر جس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو فرضِ عین ہے، جب تک کوئی شرعی عذر نہ ہو روزہ چھوڑنا درست نہیںہے۔
اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے روزہ بھی ایک رکن ہے اس کا منکر کافر اور تارک فاسق اور سخت گنہگار ہے۔
٭٭٭

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker