مضامین ومقالاتنوائے خلق

“وکاس” کی صورت میں “وناش” اور “ہم”

مھدی حسن عینی قاسمی
مکرمی!!
گزشتہ ایک عرصہ سے ہندوستان میں جس طریقہ سے اقلیتوں کے ساتھ سوتیلا پن اور دوغلا رویہ اپنایا جارہا ہے اور جس طرح ان کے بنیادی حقوق کو ختم کرنے کی ناپاک سازش رچی جارہی ہے وہ نا صرف اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے ایک داغ بلکہ یہاں کی جمہوریت کے لئے ناسور ہے.بڑھتی ہوئی عدم رواداری، تشدد،منافرت،زہر انگیز بیانات نیز اکثریتی طبقہ کے ٹھیکیداروں کی جانب سے اقلیتی طبقہ کے شعائر کو مٹانے کی دھمکیاں اور اس کے لئےبرادران وطن کو بھڑکانے کی کوشش انتہائی رذیل اور باعث تشویش حرکت ہے.
لوجہاد اور ان جیسے ایشوز کو مسلمانوں کی جانب منسوب کرکے جس طرح انہیں ہراساں کیا گیا، بیف کو مسلمانوں سے جوڑ کر جس طرح گزشتہ دنوں ننگا ناچ کیا گیا.اورمنظم طریقہ سےایسےسینکڑوں مسائل کھڑے کرکے اس ملک کے ۲۵ کروڑ مسلمانوں کے لئے یہاں کی زمین تنگ کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی یہ بھارت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے.
حکومتی وزراء و ممبران پارلمینٹ کا رام مندر معاملہ کوپھر سے اٹھاناسپریم کورٹ میں معاملہ کے زیر سماعت ہونے کے باوجود اس طریقہ کے بھونڈےو برانگیختہ کرنے والے بیانات اور اس پر وزیر اعظم کی خاموشی اس کا کھلا مظہر ھیکہ یہ حکومت آر.ایس.ایس. کی پالیسیوں پر ہی چل رہی ہے.
یہی نہیں ہندوستان کا سب سے عظیم اقلیتی ادارہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کے اقلیتی کردار سے چھیڑ چھاڑ بھی مودی جی اور ان کی حکومت کی فتنہ پروری کو واضح کرتی ہے.A.M.U.جو ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے ایک سروے کے مطابق وہاں اکثریتی طبقہ کے طلبا کی تعداد 40%سے 45 فیصد ہے وہیں بنارس ہندو یونیورسٹی میں اقلیتی طبقہ کے طلباء کی تعداد محض ۵فیصد ہے.اتنے کھلے تضاد کے باوجود یہ ادارہ اس فسطائی حکومت کی نگاہوں میں کھٹک رہا ہے.اس پر مستزاد یہ کہ اعلی کورسیز والے شعبوں میں تو ۵۰ فیصد سےبھی زیادہ اکثریتی طبقہ کے طلباء ہیں
یہی حال جامعہ ملیہ کا بھی ہے.اور جامعہ ملیہ کے ساتھ بھی اب یہی کچھ ہوگا بلکہ رفتہ رفتہ تمام تعلیمی اداروں کی اقلیتی حیثیت ختم کرکے ان پر مسلمانوں کا ناطقہ بند کیا جائے گا تاکہ پھر ملک میں کوئی بھی مسلم ڈاکٹر،وکیل، جج، آی.پی.ایس یا پی.سی.ایس نا بن سکے.
مرکزی حکومت کی اس سازش کو پاٰیہ تکمیل تک پہونچانے کے لئے صوبائی حکومت نے یہ اعلان کیا کہ اب سرکاری نوکری اسے نہیں ملے گی جس کی دو شادی ہوئی ہو.
جستہ جستہ اسی راہ پر چلتے ہوئے تمام حکومتیں مرکز کی ایماء پر تمام تعلیمی معاشی و اقتصادی اداروں سے مسلمانوں کا اختیار و حق ختم کردینگی اور پھر یہاں کا مسلمان تہی داماں تہی دست ہوکر خود بخود دوسرے درجہ کس شہری بن جائے گا اور فسطائی خداؤوں و فاسشزم کے آقاؤوں کی دیرینہ خواہش شرمندہ تعبیر ہوجائےگی.
ان سب باتوں سے اتنی بات تو صاف ہوگئی کہ N.D.Aحکومت آر.ایس.ایس اور اس کے نظریات پر چلنے والے چمچوں کی ترجمان ہے اور اسی کے نقش قدم پر چل کر منافرت و زہر پہیلانے کا کام کر رہی ہے.اور مسلمانوں کے تعلیمی ڈھانچے کو کمزور کرکے، ان کے معاشی ذرائع پر شکنجہ کس کے،انہیں ڈرا کر، ان کے جذبات سے کھیل کر ان کے نوجوانوں کو بھڑکاکر ان کے علماء و دانشوروں پر دہشت گردی کا الزام لگاکر پابند سلاسل کرکے ان کے لئے عرصہ حیات تنگ کیاجارہاہے.اور یہ سب انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی سازش کا آغاز ہے.
اب ان سب مسائل سے نمٹنے کے لئے ہمیں مضبوط قیادت کے ساتھ اتحاد کی اشد ضرورت ہے.عدم رواداری کا قلع قمع کرنے کے لئے برادران وطن کے مابین ہمہ جہت ہمہ لسانی طریقہ سے اسلام کی افہام و تفہیم کو بڑھاوا دینا سب سے پہلی ضرورت ہے
تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لئے باہمی مفاہمت وتعاون کے ذریعہ ایک ملک گیر مہم چلائی جانی چاہئے جس میں مسلم بچوں کو مضبوط دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم دینے کی انتھک کوشش کی جائے اس کے لئے سرمایہ داروں کو تیار کرکے انہیں تعلیمی گود لینے پر راضی کیا جائے.الگ الگ پروجیکٹس چلائے جائیں اور ان سب کے لئے ہماری نمائندہ تنظیموں کو آگے آنا چاہئے تاکہ ان فسطائی طاقتوں کی سازش ناکام ہوسکے نیز ہمارے نوجوانوں کے لئے روزگار کےمواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے
اور ہمارے علماء و فضلاء کو جوڑ کر ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال وقت کی اشد ترین ضرورت ہے.
اس کے لئے علماء و عصری تعلیم یافتہ حضرات کے مابین کھڑی دیوار کو توڑ کر ایک ساتھ مل کر عوام کی امیدوں پر کھرا اترنا سب سے اولین ترجیحات میں سے ہے. اس کے بغیر تعلیمی و فکری انحطاط کا خاتمہ ناممکن ہے.
ان سب مسائل کے پنپنے کی ایک دوسری وجہ مسلمانوں کا ملکی سیاست سے دور ہونا ہے اس لئے ضروری ھیکہ قابل مسلم علماء و دانشور حضرات صاف شفاف طریقہ سے سیاست میں حصہ لے کر اقلیتوں کو ان کے حقوق دلانے کی کوشش کریں.
آخری اور سب سے اہم امر یہ ھیکہ ہم خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر اس کے مامورات کو پورا کرنےو منہیات سے بچنے کی کوشش کریں تاکہ اس کی توفیق کے ساتھ ہم اپنے مسائل کا حل کرسکیں
الغرض عوام علماء پر اعتماد کرکے ان کی قیادت میں چلیں اور علماء باہمی ربط و مفاہمت سے کام لیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں
انشاءاللہ مسلمانان ہند کی زبوں حالی خوشحالی میں بدلےگی ملک سے زہریلے عناصر کا خاتمہ ہوگا اور گنگا جمنی تہذیب پہر سے پہولے پہلےگی.
Mehdihasanqasmi44@gmail.com
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker