رمضان وعیدینمضامین ومقالات

حدیثِ رمضان المبارک

عبد اللہ سلمان ریاض قاسمی
(اٹھارواں روزہ )
قوموں کاعروج و زوال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إِنَّ اللَّہَ یَرْفَعُ بِہَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ. اللہ تعالیٰ اس کتاب کے سبب سے کچھ لوگوں کو بلند کرے گا اور کچھ لوگوں کو گرا دے گا۔ (مسلم )
یہ حدیث بہت ہی واضح ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہم نے آج احادیث و قرآن کو صرف ایک رسمی کتاب بناکر رکھ دیا ہے۔اس کو سمجھنے کی ہم نے کوشش ہی نہیں کیا۔اس لئے ہمیں اور آپ کو چاہئے کہ اس قرآن کو مضبوطی سے پکڑ لیں اسی میں ہماری کامیابی و کامرانی ہے۔ اسی میں ہماری سربلندی وعزت ہے۔ اگر ہم اس قرآن مقدس کو فراموش کردیتے ہیں ، بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور اس کو صرف تبرک سمجھ کر اٹھاتے ہیں تویاد رکھیں یہ قرآن ہم کو بھی فراموش کردے اور ہم کو ذلت کے عمیق غار میں لے جاکر پھینک گا۔ ہمارا نام و نشان مٹادے گا۔ آج دنیا میں جس نے اس کو اپنا یااس کو بلندی ملی، کامرانی ملی، عزت و شہرت ملی۔ اور جس قوم نے، جس شخص نے، جس معاشرے نے اس کو نظر انداز کردیا ان کا وجود بھی آج باقی نہیں ہے۔اس کو دنیا ایسے بھلادی گویا کی کوئی تھاہی نہیں۔
قرآن کی اہمیت و فضیلت احادیث میں متعدد جگہوں پر آئی ہے اور باقاعدہ احادیث کی کتابوں میں قرآن کی فضیلت کا مستقل باب ہے ۔ اسی کے پیش نظر مسلم شریف کی چنداحادیث بیان کرتاہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنْ یَغْدُوَ کُلَّ یَوْمٍ إِلَی بُطْحَانَ أَوْ إِلَی الْعَقِیقِ فَیَأْتِیَ مِنْہُ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَاوَیْنِ فِی غَیْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ نُحِبُّ ذَلِکَ قَالَ أَفَلَا یَغْدُو أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَیَعْلَمُ أَوْ یَقْرَأُ آیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ خَیْرٌ لَہُ مِنْ نَاقَتَیْنِ وَثَلَاثٌ خَیْرٌ لَہُ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٌ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِہِنَّ مِنْ الْإِبِلِ.(مسلم: 2103)
تم میں سے کون چاہتا ہے کہ روز صبح کو بطحان یا عقیق کو جائے (یہ دونوں مدینہ کے بازار تھے) اور وہاں سے بڑے بڑے کوہان کی دو اونٹنیاں بغیر کسی گناہ کی اور بغیر اس کے کہ کسی رشتہ دار کی حق تلفی کرے، لائے تو ہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم سب اس کو چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم میں سے ہر ایک مسجد کو کیوں نہیں جاتا اور کیوں نہیں سیکھتا یا پڑھتا اللہ کی کتاب کی دو آیتیں، جو اس کیلئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین بہتر ہیں تین اونٹنیوں سے اور چار بہتر ہیں چار اونٹنیوں سے اور اسی طرح جتنی آیتیںہوں، اتنی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔
٭٭٭

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker