Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

خروج ریح کے مریض کا اعتکاف کرنا
سوال:-اگر کسی شخص کو گیسٹک کی بیماری ہو اور باربار خروج ریح کی نوبت آتی ہو تو کیا ایسے شخص کو اعتکاف کرنا چاہئے ، یا اس کا اعتکاف کرنا جائز نہیں؟ (سید جیلانی، کشن باغ )
جواب:- اگر کوئی دوسرا شخص اعتکاف کر رہا ہو ، تو خیال ہوتا ہے کہ ایسے شخص کا اعتکاف میں نہ بیٹھنا بہتر ہے ، کیونکہ اعتکاف سنت کفایہ ہے ، یعنی اگر ایک شخص نے بھی اعتکاف کر لیا تو سب لوگ ترک سنت کے گناہ سے بچ جائیں گے ، اور ایسے شخص کے اعتکاف کرنے میںبظاہر مسجد کی بے احترامی معلوم ہوتی ہے ، اور اس سے اجتناب زیادہ اہم ہے ، ویسے یہ اس حقیر کی ذاتی رائے ہے ، دوسرے اہل علم سے بھی دریافت کر لیا جائے ۔

روزہ میں ٹوتھ پیسٹ
سوال:- افطار کرنے سے پانچ منٹ پہلے کیا ہم پیسٹ سے منہ دھو سکتے ہیں ؟ (عرفہ، کریم نگر )
جواب:- پیسٹ میں ذائقہ ہوتا ہے ، اور روزہ کی حالت میں کسی بھی چیز کے ذائقہ کو چکھنا مکروہ ہے ، اس لئے روزہ کی حالت میں پیسٹ کرنے سے بچنا چاہئے ، یہ کراہت سے خالی نہیں : کرہ ذوق شییٔ و مضغہ بلا عذر (بحرالرائق: ۲؍۲۷۹)
روزہ میں منی خارج ہوجائے
سوال:- اگر روزہ کی حالت میں مذی اور منی خارج ہوجائے تو کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟ ( یامین، معین آباد)
جواب:-محض مذی کے نکلنے سے ( جو بوس و کنار کے موقعہ پر پیش آتا ہے ) روزہ نہیں ٹوٹے گا ، اسی طرح اگر محض دیکھنے یا برے خیالات کے ہجوم کی وجہ سے انزال ہوجائے تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا : أو انزل بنظر إلی فرج امراۃ لم یفسد أو فکر و إن ادام النظر والفکر حتی انزل (طحطاوی:۳۶۱)

لفافہ کا گوند تھوک سے تر کرنا
سوال:- پوسٹل لفافوں میں ، ہلکی گوند لگی رہتی ہے ، لوگ اسے تھوک سے تر کرکے ، چپکایا کرتے ہیں ، کیا اس طرح چپکانا درست ہے ؟ ( فضل اللہ، بھیونڈی)
جواب:- روزہ کی حالت میں گوند کو اپنی زبان سے تر کرنا کراہت سے خالی نہیں ، کیونکہ اگر گوند کے اجزاء حلق سے نیچے چلے گئے ، تب تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر اس کے اجزاء حلق سے نیچے نہیں گئے ، تب بھی کم سے کم چکھنے کی کیفیت پائی گئی، جو مکروہ ہے ، ہاں اگر انگلی میں تھوک لے کر اس سے گوند کو تر کرلے ، تو کوئی حرج نہیں ۔

بہن کو زکوۃ
سوال:- ہمارے والد صاحب وظیفہ یاب ہیں ، وظیفہ کی رقم ہمارے روز مرہ اخراجات کے لیے کافی نہیں ہوتی ، ہمارے بڑے بھائی جو غیر شادی شدہ ہیںاور گلف میں ملازمت کرتے ہیں ،گھر کے تمام افراد ، والدین ، بھائی اور ہم تین غیر شادی شدہ بہنوں کی تمام ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں، بھائی صاحبِ نصاب ہیں اور ہر سال پابندی سے مستحق لوگوں کو بشمول رشتہ دار وں اور پڑوسیوں وغیرہ کو زکوۃ دیتے ہیں ، کیاہم غیر شادی شدہ بہنیں بھی ہمارے غیر شادی شدہ بھائی کی زکوۃ میں مستحق ہوسکتی ہیں ؟(ارم فاطمہ، سنتوش نگر )
جواب:- ماں باپ اور ان سے اوپر کا سلسلہ ، اولاد اور ان سے اوپر کا سلسلہ وہ ہے جن کو زکوۃ دیناجائز نہیں ، باقی دوسرے رشتہ دارجن میں بھائی بہن بھی شامل ہیں ، کو زکوۃ دی جاسکتی ہے : قیدبأصل وفر عہ ، لأن من سواھم ، من القرابۃ یجوز الدفع لھم کالإخوان والأخوات (بحرالرائق:۲؍۴۲۵نیز دیکھئے: ردالمحتار: ۳؍۲۹۳)اس لیے اگر آپ صاحب نصاب نہ ہوں اور ضرورت مند ہوں تو اپنے بھائی کی زکوۃ لے سکتی ہیں ۔

زکوۃواجب ہونے کی شرطیں
سوال:-زکوۃ واجب ہونے کی کیا شرطیں ہیں ؟ کیا رہن رکھی ہوئی چیز اور قرض میں بھی زکوۃ واجب ہوتی ہے ؟( راشد علی، محبوب نگر)

جواب:- ۱) زکوۃ اس شخص پر واجب ہوتی ہے جو مسلمان ، عاقل اور بالغ ہو ، نابالغ بچوں کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ، (ہدایہ مع الفتح:۲؍۱۱۵) پاگل کے مال میں بھی زکوۃ واجب نہیں ہوتی ۔ (حوالۂ سابق)
۲) زکوۃ واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مالِ زکوۃ مکمل طور پر اس کی ملکیت میں ہو ، (تاتارخانیہ: ۲؍۲۱۷) رہن رکھی ہوئی چیز پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی ، (ہندیہ: ۱؍۱۷۲) البتہ امانت رکھی ہوئی چیز میں زکوۃ واجب ہوگی اور اصل مالک اس کی زکوۃ ادا کرے گا ، (فتح القدیر: ۲؍۲۲۱) بینک اور فکسڈڈپازٹ میں رکھی ہوئی رقم پر بھی زکوۃ واجب ہوگی ۔
۳) قرض دی ہوئی رقم یا تجارتی سامان کی قیمت کسی کے ذمہ باقی ہو اور جس کے ذمہ باقی ہو وہ اس کا اقرار بھی کرتا ہو اور بظاہر اس قرض کی وصولی کی توقع ہو تو اس میں زکوۃ واجب ہوگی ، فی الحال بھی ادا کرسکتا ہے اور قرض وصول ہونے کے بعد بھی پوری مدت کی زکوۃ ادا کرسکتا ہے ،قریب قریب یہی حکم ان بقایاجات کا ہے جو اجرت و مزدوری ، کرایۂ مکان و سامان یا رہائشی مکان کی قیمت وغیرہ کے سلسلے میں ہے اور وصولی متوقع ہو ،ان پر بھی زکوۃ واجب ہوگی ، خواہ ابھی ادا کردے یا قرض وصول ہونے کے بعد ۔ (تاتارخانیہ: ۲؍۳۰۱)
ایسا قرض کہ جس کی وصولی کی توقع نہ ہو ،لیکن وصول ہوگیا یا قرض کسی مال کے بدلہ میں نہ ہو جیسے مہر اور بدل خلع وغیرہ ، مقروض دیوالیہ ہو اور وصولی کی امید نہ ہو ، قرض کا انکار کرتا ہو اور مناسب ثبوت موجود نہ ہو ، ان تمام صورتوں میں جب بقایاجات وصول ہوجائیں اور سال گزر جائے تب ہی زکوۃ واجب ہوگی ، اس سے پہلے نہیں ۔(بدائع الصنائع: ۲؍۲۱۰)

۴) ضروری اور استعمالی چیزوں میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی اور ان کو مستثنیٰ کرکے ہی زکوۃ واجب ہوتی ہے ، ایسی ہی اشیاء کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ حاجتِ اصلیہ ‘‘ کہتے ہیں ، رہائشی مکانات ، استعمالی کپڑے ، سواری کے جانور یا گاڑی ، حفاظت کے ہتھیار ، زیبائش کے سامان ، ہیرے جواہرات ، یاقوت ، قیمتی برتن وغیرہ میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی ، (ہندیہ: ۱؍۱۷۲) صنعتی آلات اور مشینیں جو سامان تیار کرتی ہیں اور خود باقی رہتی ہیں، کرایہ کی گاڑیاں ، ان چیزوں میں بھی زکوۃ نہیں ، البتہ رنگریز جو کپڑے رنگنے کا پیشہ رکھتا ہو ، اس کے پاس محفوظ رنگ میں زکوۃ واجب ہوگی ، (فتح القدیر:۱؍۱۲۰) البتہ ذکر کی گئی چیزوں میں سے کسی بھی چیز کی تجارت کی جائے تواس میں زکوۃ واجب ہوگی ۔

اگر چار کی نیت کر کے دو رکعت نفل ادا کرے ؟
سوال:- کسی شخص نے چار رکعت نفل کی نیت کی ، لیکن دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ، ایسی صورت میں کیا اسے چار رکعت کی قضاء کرنی ہوگی ، یا دو رکعت کی ؟ ( محمد شمیم ، ممبئی )
جواب:- نفل کی ہر دو رکعت کی حیثیت مستقل نماز کی ہے ، اس لئے ایسی صورت میں امام ابو حنیفہ ؒ اور امام محمد ؒ کے نزدیک یہ دو رکعت ہی کافی ہوجائے گی ، دو رکعت یا چار رکعت کی قضاء واجب نہیں ہوگی : و إن شرع في التطوع بنیۃ الأربع ثم قطع فان کان قبل القیام الی الثالثۃ یلزمہ شفع واحد عندہ و عندھما لا یلزم شییٔ (کبیری:۳۷۶)

ایک ہی مسجد میں تراویح کی تین جماعتیں
سوال:- شہر نظام آباد کی ایک مشہور مسجد میں تین علیحدہ علیحدہ وقتوں میں نمازِ تراویح کا اہتمام کیا گیا ہے ، بعد عشاء سوا پارہ ، مسجد کے بالائی حصہ میں آٹھ بج کر ۱۵؍ منٹ پر روزانہ تین پارے، مسجد کے نچلے حصہ میں دس بج کر چالیس منٹ سے روزانہ سوا پارہ، کیا یہ درست ہے ؟ ( محمد نعیم الدین، سکندرآباد )
جواب:- جیسے فرض نمازوں میں تکرار جماعت مکروہ ہے، اسی طرح فقہاء نے نمازِ تراویح میں بھی مکرر جماعت کو منع فرمایا ہے :و لو صلی التراویح مرتین في مسجد واحد یکرہ (ہندیہ :۱/۱۱۶ ) اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے ،مسجد میں ایک ہی جماعت کی جائے ،باقی جماعتیں مسجد سے باہر گھر میں یا کسی اور مقام پر کی جاسکتی ہیں ۔

خواتین اور تراویح
سوال:-کیا تراویح کی نماز عورت کوبھی پڑھنا ضروری ہے ؟ اگر کسی عورت کو دس سورتیں ہی یاد ہوں ، تو کیا ان ہی دس سورتوں کو بیس رکعتوں میں پڑھ سکتی ہے ؟( ایک بہن ، نظام آباد)
جواب:- تراویح کی نماز کا حکم عورتوں کے لیے بھی وہی ہے جو مردوں کے لیے ہے ، عورتیں بھی اگر تراویح کو بلا عذر ترک کردیں، تو ترکِ سنت کا گناہ ہوگا ، اگر دس سورتیں یاد ہوں تو یہ درست ہے کہ پہلی دس رکعت میں ان سورتوں کو پڑھ جائے ، پھر اگلی دس رکعت میں دوبارہ ان ہی سورتوں کو پڑھے ، یا ایک رکعت میں کوئی ایک سورت اوردوسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھتی جائے ، یہ تو آپ کے سوال کا جواب ہے ، اس کے ساتھ ساتھ آپ کے دینی بھائی کی حیثیت سے ایک خیر خواہانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کی کچھ اور سورتیں یاد کرلیں، ان شاء اللہ تھوڑی محنت سے آپ مزید سورتیں یاد کر سکتی ہیں ، قرآن یاد کرنے اور دین کا علم حاصل کرنے کے لیے کوئی عمر متعین نہیں ہے ۔

You might also like