اخبارجہاں

اسرائیل:حکومت سازی کامعاہدہ طئے، نتن یاہو نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

آن لائن نیوزڈیسک
پچھلے ہفتے سپریم کورٹ نے نتن یاہو کو نئی حکومت بنانے کی اجازت دے دی تھی۔پچھلے سال ان پر رشوت ستانی، فراڈ، اور بد عہدی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے میڈیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے میڈیا مالکان کو استعمال کیا اور انہیں قیمتی تحفے دیے۔
نتن یاہونے فرد جرم سے انکار کیا اور کہا کہ وہ سیاسی کردار کشی کا نشانہ بنے ہیں۔ عدالت میں ان کا مقدمہ 24 مئی سے شروع ہو گا۔
اسرائیلی قانون کے تحت اگر کسی وزیر پر فرد جرم عائد ہو جائے تو اسے اپنا عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے، لیکن اس میں یہ طے نہیں کیا گیا کہ اس دائرے میں وزیر اعظم آتے ہیں یا نہیں، اور کیا وہ عدالت کی کارروائی جاری رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے عہدے پر بھی قائم رہ سکتے ہیں۔
دوسری طرف سیاسی محاذ پر نتن یاہو حزب مخالف کے ساتھ اقتدار میں شراکت کر رہے ہیں۔ بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے رہنما بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو ڈیڑھ سال بعد اس عہدے سے دست کش ہو جائیں گے اور اپنے نئے شراکت دار کو یہ ذمہ داری سونپ دیں گے۔
اس معاہدے کے مخالفین کہتے ہیں باری باری وزیر اعظم بننا غیر قانونی ہے۔
نیتن یاہو کی کابینہ میں 36 وزراء شامل ہوں گے جو ایک ریکارڈ ہے۔
اس معاہدے سے قبل تین بار بے نتیجہ انتخابات ہوئے۔ کسی بھی پارٹی کو ٖفیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہو سکی۔
حزب مخالف کے رہنما گانٹز پہلے اقتدار میں شراکت داری کے شدید مخالف تھے مگر حال ہی میں وہ اس موقف سے الگ ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے وبائی مرض کے دوران چوتھا انتخاب ملک کے حق میں نہیں ہو گا۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker