اخبارجہاں

کورونا وائرس جنوبی کرہ ارض کی جانب بڑھ رہا ہے: اقوام متحدہ

آن لائن نیوزڈیسک  
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتنیو گوترس کا کہنا ہے کہ ایسے خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کی مہلک وبا کو دنیا میں ہر جگہ نہ روکا گیا تو پھر لوگوں کو خوف اور عدم سلامتی کی فضا میں زندگی گزارنی پڑے گی۔
مستقبل کے حوالے سے یہ انتباہ انہوں نے جنیوا میں صحت سے متعلق ورچول عالمی اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس اسمبلی نے تمام اقوام سے اپیل کی وہ کووڈ نائٹین کی عالمی وبا کو شکست دینے کے لئے متحد ہو جائیں اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں جب اس مہلک وائرس کا چین میں انکشاف ہوا، اس کے بعد سے دنیا بھر میں اب تک کم از کم اڑتالیس لاکھ سے زائد لوگ انفکیشن کا شکار ہوچکے ہیں، جبکہ تین لاکھ انیس ہزار سے زائد لوگوں کو اس نے موت کی نیند سلا دیا ہے۔
وائس آف امریکہ کی لئے نامہ نگار لیزا شیلائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس جانب توجہ دلائی کہ اب تک کرونا وائرس بیشتر امیر ملکوں میں سماجی اور اقتصادی شعبے میں تباہی مچا چکا ہے۔
تاہم، بقول ان کے اب کروہ ارض کے جنوب کی سمت بڑھ رہا ہے جہاں اس کے اور بھی زیادہ تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے صحت کے عالمی ادارے ڈبلو ایچ او کے لئے بین الااقوامی حمایت کی اپیل کی انھوں نے کہا کہ ڈبلو ایچ او کو اس وقت اضافی فنڈز درکار ہیں، تاکہ ترقی پزیر ملکوں کی اعانت کی جاسکے۔
سیکرٹری جنرل کے الفاظ میں شمالی کرہ ارض کے ممالک کووڈ نانٹین کو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتے جب تک کہ ساتھ ہی جنوبی حصے کے ممالک بھی اس میں کامیابی حاصل نہ کرلیں۔
ڈبلو ایچ او کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اپریل میں ادارے کے لئے اس نے اس کی فنڈنگ معطل کردی تھی اور اس پر الزام لگایا تھا کہ اس کا جھکاؤ چین کے حق میں ہے۔
دوسری جانب چین کے صدر شی نے عالمی ادارہ صحت اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کے لئے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک اگلے دو برسوں میں کووڈ نائٹنین سے مقابلے کے لئے دو ارب ڈالر کا عطیہ دے گا۔
فرانس کے صدر نے بھی کرونا کی وبا سے نمٹنے میں ڈبلو ایچ او کی رابطہ کاری کے کردار اور سائنسی مہارت کو سراہ۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ڈبلو ایچ او کے لئے فرانس اپنے مالی عطیات میں خاصا اضافہ کرے گا۔ فرانسسی صدر ایمینویل میک خواں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت ڈبلو ایچ او، یورپی یونین اور دوسرے شراکت داروں کے ساتھ کرونا وائرس کے مقابلے کے لئے ویکسین کے ریسرچ میں بھرپور اعانت کرے گی۔
ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے ورچول اجلاس میں دوسرے ملکوں، مثلا جرمنی، جنوبی کوریا اور باربیڈوس نے بھی عالمی لیڈروں کی ہمنوائی کی، جنوبی افریقہ کے صدر سائریل راما فوسا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کی خاطر ضروری ہے کہ ہم اس معاملے میں یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
ڈبلو ایچ او کے سربراہ نے ان الفاظ پر اس اعلٰی سطح کے اجلاس کا اختتام کیا کہ اس عالمی وبا سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے اور یہ کہ اس میں ایسے تجربات پنہاں ہیں جن سے آئندہ کسی بھی عالمی وبا کی صورت میں اس کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سب سے بڑا سبق تو یہ ہے کہ اس بارے میں آگاہی حاصل کی جائے کہ آئندہ اس قسم کی عالمگیر وبا سے بچاو کے لئے ہمیں کیا پیشگی اور حفاظتی اقدامات کرنے چاہیئں۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker