اخبارجہاں

برطانیہ میں 40 ہزار ہلاکتیں، امریکہ کینیڈا بارڈر مزید ایک ماہ تک بند

آن لائن نیوزڈیسک
برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 40 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً 10 ہزار افراد کی ہلاکت انگلینڈ اینڈ ویلز کے کیئر ہومز میں ہوئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے کہا ہے کہ قومی شماریات کے دفتر کے مطابق ‘8 مئی تک 40 ہزار 902 اموات رجسٹر ہو چکی تھی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب گذشتہ 10 روز کی ہلاکتوں کی تعداد اس میں شمار کی جائے گی تو مرنے والوں کی حقیقی تعداد اس سے کافی زیادہ ہو جائے گی۔
برطانیہ میں قومی شماریات کا دفتر ان افراد کی موت کو کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں میں شمار کرتا ہے جن کے ڈیٹھ سرٹیفیکیٹ پر کووڈ-19 یا اس مرض کا مشتبہ مریض ہونے کے حوالے سے لکھا گیا ہو۔
دوسری جانب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پیر تک اموات کی تعداد 34 ہزار 796 ہو چکی تھی، اس میں صرف وہ اموات شامل ہیں جو کورونا کا مثبت ٹیسٹ آنے کے بعد ہوئیں۔
بہرحال برطانیہ یورپ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے اور حکومت وائرس کی روک تھام کے لیے بروقت انتظامات نہ کرنے کے الزامات پر سخت تنقید کی زد میں ہے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 47 ہزار 709 تک پہنچ گئی ہے۔
قومی شماریات کے دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 8 مئی تک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے جس سے وزراء کے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ برطانیہ میں وبا کی انتہا گزر چکی ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز میں یہ تعداد 6 ہزار 35 سے کم ہو کر 3 ہزار 930 تک آگئی ہے جبکہ پناہ گاہوں میں اموات، کل تعداد کا 42 اعشاریہ 4 فیصد بنتی ہیں اور اب یہ تعداد 40 اعشاریہ 4 فیصد تک آ گئی ہے۔
اس وقت انگلینڈ اینڈ ویلز کے کیئر ہومز میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 9 ہزار 975 ہے۔
حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر نظر رکھنے والی ایک کراس پارٹی پارلیمانی کمیٹی نے منگل کو وزیراعظم بورس جانسن کو لکھے گئے ایک خط میں کورونا کی ٹیسٹنگ کو ‘ناکافی قرار دیا ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے آغاز پر لیبارٹریز کی محدود تعداد سے ٹیسٹنگ کروانا اور پھر آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں اضافہ کرنا غلطی تھی۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ‘اس کے بعد 12 مارچ کو فیصلہ کیا گیا کہ کمیونٹی میں ٹیسٹنگ نہیں ہوگی اور صرف ہسپتالوں کے اندر ٹیسٹ ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کیئر ہومز میں موجود افراد ٹیسٹ نہیں کروا سکتے اور یہ بہت اہم مرحلہ تھا۔
وزیر صحت میٹ ہینکاک نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ خبر ان کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے کہ کیئر ہومز میں ہونے والی اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے 62 فیصد کیئر ہومز میں کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ہم سے جو بھی ممکن ہوسکا ہم ان کیئر ہومز کو محفوظ بنانے کے لیے کریں گے اور آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

کینیڈا اور امریکہ کی سرحد 21 جون تک بند
ادھر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ ‘کینیڈا اور امریکہ کی سرحد 21 جون تک بند رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ‘دونوں ممالک کے درمیان سرحد غیر ضروری آمدو رفت کے لیے مزید ایک ماہ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش میں دوسری مرتبہ توسیع دونوں ممالک کے عوام کو وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔یاد رہے کہ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان دنیا کی طویل ترین سرحد ہے جو 8 ہزار 900 کلومیٹر طویل ہے اور اسے 21 مارچ سے بند رکھا گیا ہے۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker