خبردرخبر

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

نور اللہ نور

سال رواں بہت ہی صبر آزما اور عتاب و عذاب سے پر ہے، ایک امتحان سے نجات نہیں ملتی دوسری آزمائش دستک دے دیتی ہے، ابھی موذی وبا دامن گیر ہی تھی کہ ہم پر ایسی برق گری کہ سماعت و بصارت ؛ عقل و خرد سب مفلوج ہیں، چشم پرنم سے اشکوں کا سیلاب ہنوز جاری ہے،
کل کی سحر یقیناً سب کے لئے ایک نئے دن کا آغاز تھی لیکن عالم اسلام اور مسلمانوں کے لیے یہ سحر اپنی پر نور پرتوں کے باوجود تاریکی کی نوید تھی کیونکہ آج عرش کے سورج نے فرش کے ماہتاب سے اس کی تابندگی ودرخشندگی ہمیشہ کے لیے کسب کر لی تھی اجالوں کے باوجود نہ جانے کیوں تیرہ و تیرگی کا احساس ہو رہا تھا

کل صبح کے اوائلی وقت میں علم و عمل کا نایاب و کمیاب عملی مجسمہ ؛ حدیث رسول کی بے لوث خدمت کرنے والا خادم ؛ قاسمیت و رشیدیت کی راہ کا راہی ؛ اپنی آہ سحر گاہی سے دیوبند کی فضاؤں کو تازگی بخشنے والا درویش ؛ گلشن قاسمی کی نگہبانی کرنے والا مخلص مالی ؛ اپنے کمال استعداد سے امت کے نو نہالوں کی تشنگی دور کرنے والا ساقی ؛ اپنی تصنیف و تالیف ؛ نکتہ فہمی اور باکمال تدریس سے عالم اسلام کو دینی غذا فراہم‌ کرنے والا انسان ؛ اور عظیم سلف کا عظیم خلف ہمیں داغ مفارقت دے گیا اور داعی اجل کو لبیک کہا
اس ناپایدار دنیا میں ازل سے ہی ہر آمد کے ساتھ رفت مقرر ہے ہر روز آمد بھی ہوتی ہے اور کسی کو جانا بھی ہوتا ہے ؛ لیکن رویے زمین پر کچھ ایسے بھی بستے ہیں جن کی جدائی بہت شاق گزرتی ہے جن کی تلافی کی کوی صورت بر نہیں آتی وہ اپنی زندگی میں اس اوج کمال کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جس خلا کو پر کرنا آسان نہیں
ایسے ہی چیدہ وبرگزیدہ ہستیوں میں سے ایک حضرت مرحوم کی ذات گرامی تھی حضرت کی رحلت سے حلقۂ علم و ادب کا وہ خسارہ ہوا جس کی تلافی جلد ممکن نہیں ؛ ارباب دانش نے وہ گوہر نایاب کھویا ہے جو صدیوں غوطہ زنی کے بعد میسر نہ ہو سکے :
ازہر ہند نے ایک جوہر شناش ؛ رجال ساز ؛ مردم گر قابل انسان کو کھویا ہے طلبہ کے لیے جو انہوں نے گرانقدر خدمات انجام دیے ہیں اس کا سلسلہ تھم سا گیا ہے، ابھی بھی وہ جیالے موجود ہیں جو اس کمی کا ازالہ بحسن وخوبی کرسکتے ہیں لیکن ہمہ شما یکساں نہیں ہوتے
بخاری کا درس تو اب بھی ہوگا مگر وہ حضرت سعید کی بات ہی کچھ اور تھی ؛ کتابیں ابھی بھی لکھی جای گی لیکن وہ انداز سعید نہیں ہوگا ؛ نکتہ آفرینی و سخن سنجی کے ماہر اب بھی ملیں گے مگر اس میں لطافت سعید نہیں ہوگی ؛ دارالحدیث کی عمارت طلباء سے پر اور کشا کشا ضرور ہوگی مگر حضرت کی کمی کا احساس بڑی شدت سے ہوگا :
مجھے قلق و رنج ہے کہ ان سے بخاری پڑھنے کا خواب خواب ہی رہا مگر ابتدائی درجوں میں میں ان کی سہل الفہم علمی کاوشات سے خوب استفادہ کیا ” آسان نحو ” ” آسان صرف ” کے مطالعے میرے علمی سفر کے راہی رہے ہیں اور بہت سی تصنیفات سے مدد حاصل کی ہے :

ان کے تلامذہ میں سے ہونے کا شرف تو نہیں ہے مگر اپنے بزرگوں سے محبت و عقیدت اور روحانی وابستگی کا اثر ہے کہ کل جس وقت سے یہ خبر صاعقہ بن کر مجھ پر گری ہے اس وقت سے دل مغموم ؛ طبیعت بے چین ؛ اور پورا وجود منجمد و ساکت ہے دل ناداں کو ہر چند کہ قرار ہی نہیں
میری تہذیب ؛ میری تعلیم اپنے بزرگوں سے والہانہ محبت و عقیدت کا درس دیتی ہے جس محبت کے بنا پر اعضاء و جوارح کے جواب دینے کے باوجود خامہ فرسائی کی ہمت جٹای ہی تاکہ میرا بھی نام عقیدت مندوں کی فہرست میں شامل ہو جائے
میں رب کریم کی بارگاہ بے کراں میں جبیں خم کرتے ہوئے دعا گو ہوں کہ اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے ؛ ان کے خدمات شرف قبولیت فرماکر نجات کا ذریعہ بنائے ؛ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حضرت کو کروٹ کروٹ چین و سکون عطاء فرمائے :

اتنا لکھ کر غم کا بوجھ تھوڑا ہلکا تو ہوا مگر دل سے اب بھی ایک ہی صدا آرہی ہے کہ
” ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے “۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker