رمضان وعیدینمضامین ومقالات

رمضان کا آخری عشرہ — کون ہیں محروم بندے؟

نثار احمد حصیر القاسمی
(شیخ الحدیث معہد البنات بورہ بنڈہ و جامعۃ النور یوسف گوڑہ حیدرآباد ،
سکریٹری جنرل اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹیڈیز حیدرآباد)
nisarqasmi24@gmail.com 0091-9393128156

بلا شبہ یہ مہینہ طاعت و بندگی ، تلاوت و عبادت ، ہمدردی و غمگساری ، خیر خواہی و بھائی چارگی اور دوسروں کی خبر گیری کا موسم ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہی ہے خوش بختی و سعادت ، رحمت و مغفرت اور جہنم سے نجات حاصل کرنے ، اپنے اندر پرہیز گاری پیدا کرنے ، اور پورے سال اپنے آپ کو محرمات سے بچائے رکھنے کے لئے تیار کرنے کا ذریعہ ؛ تاکہ انسان اپنے نفس پر کنٹرول کرکے ، خواہشات کو قابو میں رکھ کر اور خلاف شرع باتوں سے پرہیز کرکے اللہ کا قرب حاصل کرسکے ۔
اللہ نے عبادت و بندگی کا حکم اسی لئے دیا ہے کہ اس کے ذریعہ بندے کے دل میں ایمان راسخ ہو اور وہ پروان چڑھتا رہے ، جس طرح پودے کی حیات پانی سے ہے کہ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ، برگ و بار نہیں لاسکتا ؛ بلکہ سوکھ جاتا ہے ، اسی طرح عبادت کے بغیر بندے کا ایمان بے جان ہوجاتا ، اس کی ہر یالی و شادابی فنا ہوجاتی ، پھر وہ ایمان کے بغیر سوکھے درخت کے مانند ہوجاتا ہے ۔
عبادت و بندگی کے اس ماہ کا دو عشرہ گذر چکا اور آخری عشرہ کے بھی چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں ، جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوکہ معصوم ومغفور تھے ، پوری رات عبادتوں میں گذارتے اور پورے دن اللہ کی یاد میں صرف کرتے تھے ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’ اس کے اندر ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے ، جو اس کے خیر سے محروم رہا وہ سراپا محروم رہا ۔ ( بخاری )
ان مبارک ساعتوں اور ان مقدس راتوں میں کچھ بندے تو ایسے ہوتے ہیں جو نیکیوں کا انبار لگانے اور اجر و ثواب کا ذخیر کرنے میں سرگرداں ہوتے اور جنت میں اپنا مقام بنانے میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں ، دوسری طرف کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس خیر و برکت اور اللہ کی توجہ و عنایت سے محروم رہ جاتے ہیں ، وہ کون لوگ ہیں ؟اس ماہ کے خیر و برکت اور استجابت و انابت سے محروم رہنے والوں میں سرفہرست وہ لوگ ہیں جو کسی شرعی عذر کے بغیر روزہ نہیں رکھتے ہیں ۔
مشہور محدث حافظ ذہبی ، وابن حجر ھیثمی نے ذکر کیا ہے کہ رمضان کے روزے نہ رکھنا کبیرہ گناہوں میں سب سے زیادہ بھیانک ہے ، ہمارے معاشرہ میں بہت سے نوجوان اور دین بیزار افراد یا جنھیں دین و ایمان کی واقفیت و اہمیت کا علم نہیں وہ رمضان کے روزے نہیں رکھتے اور بہت سے کھلے عام کھاتے پیتے نظر آتے ہیں ، انھیں نہ تو اللہ کا خوف ہے اور نہ ہی بندوں سے حیاء محسوس ہوتی ہے ۔
حضرت ابوامامہ الباہلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسی دوران کہ میں سویا ہوا تھا دو شخص (فرشتے ) میرے پاس آئے ، ان دونوں نے میرا بازو تھاما اور ایک دشوار گذار چڑھائی والے پہاڑ کے پاس مجھے لے کر آئے اور مجھ سے کہا ، اس پر چڑھیں ، میں نے کہا میں اس پرچڑھنے کی قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو ان دونوں نے مجھ سے کہا ، میں اسے آپ کے لئے آسان کردیتا ہوں تو میں اس پہاڑ پر چڑھ گیا ، میں جب اس کے اوپر بالکل چوٹی پر پہنچا تو میں نے پایا کہ وہاں تیز و بھیانک آواز اور چیخ و پکار بلند ہو رہی ہے ، میں نے ان دونوں سے پوچھا یہ کیسی آواز ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ یہ جہنمیوں کی چیخ وپکار اور بلبلاہٹ ہے ، پھر وہ مجھے لے کر چلے ، تو ہم ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو لٹکے ہوئے تھے ، ان کے جبڑے چیرے ہوئے اور ان سے خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے ، میںنے ان دونوں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ پورا ہونے سے پہلے دن رہتے کھالیتے ہیں ۔ ( سنن کبریٰ للنسائی : ۳۲۷۳ ، صحیح ابن خزیمہ : ۱۹۸۶ ، صحیح ابن حبان : ۷۴۹۱)
محدثین نے کہا کہ جب یہ وعید غروب سے پہلے سورج رہتے ہوئے کھاپی لینے اور افطار کرلینے پر ہے تو ان لوگوں کے بارے میں کتنی بڑی اور سخت وعید ہوسکتی ہے جو جان بوجھ کر پورے دن جب چاہے کھاتے پیتے رہتے اور روزہ نہیں رکھتے ہیں ۔
امام ذہبی علیہ الرحمہ نے ذکر کیا ہے کہ اہل علم اور فقہاء و محدثین کے نزدیک یہ بات ثابت شدہ ہے کہ عذر شرعی کے بغیر رمضان کے روزے نہ رکھنا زنا کاری و بدکاری اور شراب نوشی سے زیادہ بدتر ہے ، اس کے دین و ایمان اور مسلمان ہونے میں شک ہے اور اس کا شمار زندیقوں میں سے ہے ، دوسرا محروم وہ ہے جو روزہ رکھ کر حلال چیزوں سے تو پرہیز کرتا، مگر حرام چیزوں سے اجتناب نہیں کرتا ، ایسا شخص روزہ کے ذریعہ اپنے آپ کو صرف بھوکا پیاسا رکھتا اور جان کو مشقت میں ڈالتا ہے ، اسے کچھ بھی اجر و ثواب نہیں ملتا ؛ بلکہ اُلٹا اسے گناہ اور اللہ کی ناراضگی حاصل ہوتی ہے ، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں کہ انھیں روزے سے سوائے بھوک پیاس کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے قیام لیل کرنے واے ایسے ہوتے ہیں کہ انھیں قیام لیل سے سوائے جاگنے کے اور کچھ نہیں ملتا ۔ ( صحیح ابن ماجہ: ۱۶۹۰)
حضرت ابوہریرہؓ ہی کی دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رُکنے کا نام نہیں ہے ؛ بلکہ روزہ تو درحقیقت رُکنا ہے فضول باتوں اور فحش گوئی و بدعملی و فسق و فجور سے رکنے کا ، تو اگر تمہیں کوئی گالی دے ، یاتمہارے ساتھ نادانی کی بات کرے تو ان سے کہہ دو کہ میں تو ( اپنی زبان خراب نہیں کروں گا ) میں روزے سے ہوں ۔ (مستدرک حاکم : ۱؍۵۹۵ ، صحیح ابن خزیمہ : ۱۹۹۶)
امام غزالی فرماتے ہیں کہ ایسے روزے کا کوئی مطلب ہی نہیں کہ حلال کھانے سے رُکا رہے ، پھر حرام کھانے سے افکار کرے ، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو محل تعمیر کرے اور پورے شہر کو منہدم کرکے اُجار دے ۔ ( احیاء علوم الدین : ۱؍۲۳۵)
جعفر سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے خلیفہ میمون کو کہتے ہوئے سنا کہ سب سے ہلکا و آسان اور معمولی روزہ کھانا پینا ترک کرنا ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب صرف مباح چیزوں کو ترک کرنے سے حاصل نہیں ہوتا ؛ بلکہ اس کے لئے محرمات کو بھی ترک کرنا ضروری ہوتا ہے ، بعض اہل علم نے درست کہا ہے کہ روزہ دو طرح کا ہوتا ہے ، ایک تو ہے محسوس چیزوں سے رُکنا اور ایک ہے غیر محسوس یعنی معنوی چیزوں سے رُکنا ، محسوسات یعنی کھانے پینے سے رکنے پر تو ہر کوئی قدرت رکھتا ہے ، مگر معنویات اور غیر محسوس چیزوں سے رُکنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ، یہ غیر محسوس اور معنوی چیزیں معاصی اور گناہ کے کام ہیں تو جو حسی چیزوں سے تو رُکتا ہو مگر معاصی اور گناہوں سے باز نہ آتا ہو تو وہ روزے کی روح اور اس کی حکمت کو پانے قاصر ہے ، جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہمارے روزے سے یہ نہیں ہوتا کہ ہم کھانا پینا اور بیوی سے ملنا ترک کرکے اپنے آپ کو عذاب و تکلیف میں مبتلا کریں ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ کھانا پینا ترک کرنے کے ساتھ ساتھ ہم جھوٹ ، دروغ گوئی اور حکم خدا پر عمل نہ کرنے کو بھی ترک کریں ، تو اصل روزۃ ان لوگوں کا ہے جو محسوسات سے رُکنے کے ساتھ ساتھ معنویات یعنی معاصی و ذنوب سے بھی باز رہیں ، مثال کے طورپر غبت ، چغل خوری ، بہتان تراشی اور دوسروں کی آبرو ریزی سے باز رہیں ، مشہور جلیل القدر محدث اور حضرت عبد اللہ بن عباس کے شاگر خاص مجاہد فرماتے ہیں کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ اس سے بچنے والا اپنے روزے کو بچالینے اور محفوظ رکھنے والا ہے ، اور وہ دو خصلتیں ہیں کذب بیانی اور غیبت ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ : ۸۹۸۰)
حضرت حفصہ بن سیرین فرماتی ہیں کہ روزہ اس وقت تک ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے پھاڑ نہ دے ، اور اس کا پھاڑنا غیبت ہے ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ : ۸۹۸۱)
اسی طرح ابوالعالیہ کا کہنا ہے کہ روزہ دار مسلسل عبادت میں ہوتا ہے جب تک کہ غیبت نہ کرے ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ : ۸۹۸۲)
ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو محفلوں کو قہقہہ زار بنانے ، باتوں میں دلچسپی پیدا کرنے اور تفریح طبع کے طورپر مذاق مذاق میں دل کھول کر کذب بیانی و دروغ گوئی کرتے ، اور وہ اسے جھوٹ سمجھتے بھی نہیں ؛ حالاںکہ انجام کے اعتبار سے یہ بڑا پُرخطر ہے ۔
حضرت بہز بن حکیم اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : اس شخص کے لئے ہلاکت و بربادی ہے ، جو قوم کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولے اس کے لئے ہلاکت ہے ، اس کے لئے بتاہی ہے ۔ (سنن ابی داؤد : ۴۹۹۰، حدیث حسن )
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : جب روزہ رکھو تو چاہئے کہ تمہاری آنکھ ، کان اور زبان بھی روزہ رکھے ، جھوٹ سے معصیت سے اور خادموں کو تکلیف دینے سے باز رہو ، روزہ کی حالت میں تمہارے اوپر وقار و اطمینان و سکون ہونا چاہئے ، تم اپنے روزے کے ایام اور غیر روزے کے ایام کو یکساں مت بناؤ ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ : ۸۹۷۳)
جلیل القدر محدث وفقیہ حضرت ابراہیم نخعی فرماتے تھے : کہ قرن اول کے لوگ ( صحابہ ) کہا کرتے تھے کہ جھوٹ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۸۴۸۱)
اس سے مراد یہ نہیں کہ اس طرح ٹوٹ جاتا ہو کہ اس کی قضا واجب ہوتی ہو ؛ بلکہ اس سے مراد ، اجر و ثواب کا اسی طرح ضائع ہوجانا ہے جس طرح کھانے پینے سے ختم ہوجاتا ہے ۔ ( شرح معانی الآثار للطحاوی : ۲؍۹۹)
رمضان کے خیر و برکت سے محروم رہنے والوں میں کذب بیانی کرنے والوں ہی کی طرح گالی گلوج و لعن طعن کرنے والے ، جھوٹی گواہی دینے والے ، اور عملی طورپر کذب بیانی کرنے والے بھی ہیں ، جھوٹ ایک تو زبان سے بولا جاتا اور ایک عملی کذب بیانی ہوتی ہے ، مثال کے طورپر ڈیوٹی پہ گئے نہیں اور دستخط کردیئے ، یا ڈیوٹی پر دس بجے پہنچے اور حاضری کا وقت نو بجے لکھ دیا ۔
اسی کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں واضح فرمایا ہے کہ جو جھوٹ بولنا اوراس پر عمل کرنا ونادانی کرنا ترک نہ کرے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا ترک کرے ۔ ( صحیح البخاری : ۶۰۵۷)
رمضان کی برکتوں سے محروم رہنے والوں میں وہ بھی ہیں جو روزہ تو رکھتے مگر نماز نہیں پڑھتے ، بہت سے ایسے بھی بندے ہیں جو سحری کھاکر سوتے اور افطار سے پہلے اُٹھتے اور کھانے پینے کی تیاری میں مشغول ہوجاتے ہیں ؛ جب کہ روزہ سے زیادہ اہم پنج وقتہ نماز ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جان بوجھ کر ایک نماز بھی ترک کرنے والے کو عملی کافر قرار دیا ہے ، خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
’’مَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ، قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْن‘‘ ۔ (المدثر : ۴۲-۴۳)
جنتی جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں جہنم میں کس چیز نے پہنچادیا تو وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمروابن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جو نماز کی پابندی کرنے والا ہے ، نماز اس کے لئے قیامت کے روز روشنی ، رہنما ، دلیل اور نجات کا ذریعہ ہے اور جو اس کی پابندی نہ کرے تو روز قیامت اس کے لئے نہ روشنی ہوگی ، نہ دلیل ہوگی اور نہ اسے نجات حاصل ہوگی اور وہ اس دن قارون ، فرعون ، ہامان اور منافقوں کے سردار ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ ( مسند احمد : ۶۵۷۶ ، حدیث حسن )
کچھ لوگوں کا روزہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ رات بھر جاگ کر فضولیات میں وقت گذارتے اور دن بھر سوتے ہیں ، رات بھر وہ لہو و لعب میں مشغول رہتے ، گیم اور کارٹون کا مشاہدہ کرتے ، یوٹیوب اور واٹسپ پر دل بہلاتے اور کچھ تو فلم اور عریاں تصویروں کے مشاہدے سے بھی باز نہیں آتے ، پھر صبح میں سوتے اور پورے دن پڑے رہتے ہیں اور مغرب سے قبل اُٹھ کر ایک ساتھ ظہر و عصر کی نماز پڑھتے ہیں ۔
علاء بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ وہ بصرہ میں حضرت انس بن مالکؓ کے گھر گئے اور ان کا گھر مسجد سے قریب ہی تھا ، جب ہم لوگ ان کے پاس گئے تو انھوں نے پوچھا تم لوگ عصر کی نماز پڑھ چکے ہو تو ہم لوگوں نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آرہے ہیں ، تو انھوں نے کہا کہ جاؤ اور عصر کی نماز پڑھو ، تو ہم لوگ ان کے پاس سے اُٹھ کر گئے اور عصر کی نماز ادا کی ، نماز سے فارغ ہوکر جب ہم لوگ آئے تو حضرت انسؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ منافقوں کی نماز ہے ، بیٹھا سورج کا انتظار دیکھتا رہتا ہے اور جب سورج غروب کے بالکل قریب شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوجاتا ہے تو اُٹھتا اور مرغ کے ٹھونگ مارنے کی طرح چار بار ٹھونگ مارلیتا ہے ، اس میں وہ اللہ کو کم ہی یا دکرتا ہے ۔ ( صحیح مسلم : ۶۲۲)
کچھ لوگ دن بھر کا کفارہ افطار میں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، کثرت خورد و نوش کی وجہ سے ان کے اندر یہ سکت باقی نہیں رہتی کہ وہ تراویح پڑھ سکیں ، ان کے اندر حرکت کرنے اور دیر تک کھڑے رہنے کی ہمت نہیں ہوتی ، یقینا یہ بڑی محرومی کی بات ہے ، اس لئے افطار میں یا اس کے بعد اتنا ہی تناول فرمائیں کہ اپنے اندر نماز و تراویح اور ذکر و اذکار کا داعیہ اور جسمانی چستی باقی رہے ، زیادہ پیٹ بھرنے کی کوشش نہ کریں ، حد سے زیادہ پیٹ بھرنے کے بعد تراویح سے غفلت بڑی محرومی کی بات ہے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ جو ایمان و یقین کے ساتھ اور ثواب کی اُمید لئے رمضان میں قیام لیل کرے گا اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ، ظاہر سی بات ہے کہ جو اس قیام سے پہلوتہی کرے گا وہ اس نعمت غفران سے بھی محروم رہے گا ۔
اسی طرح رمضان کے خیر و برکت سے محروم رہنے والا والدین کی نافرمانی و بدسلوکی کرنے والا بھی ہے ، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور ہر زینے پر آمین آمین تین بار کہا ، صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے تین بار آمین کہا ، اس کی کیا وجہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور انھوں نے کہا : جسے رمضان کا مہینہ ملا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی ، اللہ اسے جہنم میں ڈال دے اور اپنی رحمت سے دُور کردے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے آمین کہا ، اور جو شخص اپنے والدین کو یا والدین میں سے کسی ایک کو پائے اور ان کی فرمانبرداری نہ کرے ( بلکہ بدسلوکی کرے ) اللہ اسے جہنم میں داخل کردے ، اپنی رحمت سے دُور کردے ، آپ آمین کہیں تو میں نے آمین کہا ، اور جس شخص کے پاس آپ کا ذکر آئے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے پھر مرجائے تو اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے اور اپنی رحمت سے دُور کردے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے آمین کہا ۔ (صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر : ۹۰۷ ، حدیث حسن )
اس کے علاوہ رمضان کی ساعت اجابت میں بھی محروم رہنے والے جن لوگوں کا تذکرہ حدیث میں آیا ہے ان میں سے کچھ آپس میں ایک دوسرے سے کدورت و رنجش رکھنے والے ، قرابت داروں سے ناطہ توڑنے والے ، ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکاکر پہننے والے ، شراب نوشی کرنے والے اور کسی کی جان لینے والے اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والے ہیں ، اس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم رمضان بالخصوص آخری عشرہ کے خیر و برکت سے مستفید ہوں ، ہماری مغفرت ہو ، ہم پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ، ہمیں جہنم سے خلاصی ملے اور ہماری دُعائیں قبول ہوں تو ہمیں حرماں نصیبی کا سبب بننے والی ان باتوں سے فوراً توبہ کرنی چاہئے ، کدورتوں اور رنجشوں کو ختم کرکے صلح مصالحت کرلینی چاہئے ، حقوق العباد میں کوتاہی ہورہی ہے تو اسے ادا کرنی چاہئے ، والدین کی اگر نافرمانی ہورہی ہے تو اس سے پرہیز کرنا چاہئے اور اگر وہ خلافِ شرع باتوں کا حکم یا مشورہ بھی دیں ، جیسے کسی کا حق ادا نہ کرنے کو کہیں تو بھی ان کی بات اگرچہ نہ مانی جائے مگر ان کے ساتھ بدسلوکی نہ کی جائے ؛ بلکہ حسن سلوک کا برتاؤ کیا جائے ۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کے دروازے پیر و جمعرات کو کھولے جاتے اور ہر ایسے طالب مغفرت بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والا نہ ہو ، سوائے اس شخص کے جس کے اپنے بھائی (مسلمان ) سے رنجش و کدورت ہو ، ان کے بارے میں فرشتے سے کہا جاتا ہے ، اسے چھوڑے رہو ، (اس کی مغفرت نہیں ) یہاں تک کہ یہ دونوں آپس میں صلح صفائی کرلیں ۔ ( صحیح مسلم ، بر وصلہ ، مؤطا امام مالک ، حسن الخلق )
ہمیں چاہئے کہ ہم اس رمضان اور اس کے بچے ہوئے چند ایام کو غنیمت جانیں ، خوب طاعت و بندگی کریں اور محرومی کا سبب بننے والی چیزوں سے اجتناب کریں ۔

٭٭٭

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker