رمضان وعیدینمضامین ومقالات

حدیثِ رمضان المبارک

عبد اللہ سلمان ریاض قاسمی
(ستائیسواں روزہ )
صدقۃ الفطر: فطر کے معنیٰ روزہ کھولنے کے ہیں۔اس خوشی اور شکریہ میں کہ رمضان المبارک خیرو خوبی کے ساتھ ختم ہوگیا اور روزے کھل گئے اور عید الفطر کا مبارک دن آگیا۔ مسلمانوں پر ایک اور انعام کیا گیا اور ان پر عید کے دن ایک صدقہ مقرر کیا گیا تاکہ اس کے ذریعہ سے حق سبحانہ وتعالیٰ کی مزید رضا اور خوشنودگی حاصل کریں۔ اور اس خوشی کے دن اپنے مفلس و نادار مسلمان بھائیوں سے غفلت و لاپروائی نہ ہو۔بلکہ ہر مسلمان کے گھر کھانے پینے کا سامان پہنچ جائے اس صدقہ کو صدقہ ء فطر کہتے ہیں۔
روزہ کے دوران روزہ دار سے جوتقصیرات و کوتاہیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ ان کے نقصانات سے روزوں کو پاک و صاف کرنے کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آسان صورت بتلائی ہے تاکہ ہمارے روزے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوسکیں وہ ہے صدقہء فطر جس کی ادائیگی سے ہمارے روزوں کی چھوٹی موٹی کوتاہیاںمعاف ہوجائیں۔ نیز مساکین اور غربا عید کے دن لوگوں کے سامنے دست ِ سوال دراز کرنے سے بچ جائیں اور وہ صدقہ لے کر عید کی مسرتوں اور خوشیوں میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوجائیں۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
عَنْ بنِ عَبَّاسٍ قالَ فَرَضَ رَسُول ُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَکوٰۃالفطرِ طَہْرَۃً لِلصِّیَامِ مِنَ اللَّغْوِ وَ الرَّفَثِ وَ طُعْمَۃً لِلمَسَاکِیْنِ مَنْ اَدَّہَا قَبْلَ الصَّلٰوۃِ فَہِیَ زَکوٰۃٌ مَقْبُولَۃٌ وَمَنْ اَدَّاہاَ بَعْدَالصَّلٰوۃِ فَہِیَ صَدَقَۃٌ مِنَ الصَّدَقاَتِ۔ (ابوداؤد)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے روزوں کو بے ہودہ باتوں اور لغو کلام سے پاک کرنے کے لئے نیز مساکین کو کھلانے کے لئے صدقہ فطر لازم قراردیا ہے جو شخص صدقہ ء فطر نماز عید سے پہلے ادا کرے گا تو اس کا صدقہ مقبول صدقہ ہوگا، اور جو شخص نمازعید کے بعد ادا کرے گا تو اس کا وہ صدقہ بس صدقات میں سے ایک صدقہ ہوگا۔
عن ابن عمر قال فرض رسول اللہ ﷺ زکوٰۃ الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعیر علی العبد الحر والذکر والانثی والصغیر والکبیر من المسلمین وامربھا ان تؤدی قبل خروج الناس الی الصلوٰۃ۔(بخاری ج:۱،ص:۲۰۴)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام نے مسلمانوں میں سے ہر غلام،آزاد،مرد عورت اور چھوٹے بڑے پر زکوٰۃ فطر(صدقۂ فطر) کے طور پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جوَ فرض قراردیا ہے، نیز آپ نے صدقۂ فطر کے بارے میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کو عیدالفطر کی نماز کے لیے جانے سے پہلے دے دیا جائے۔
جس شخص کے پاس اتنا مال ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یا اتنا مال تو نہ ہو مگر ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال اس کے پاس موجود ہواور قرض سے محفوظ ہو تو اس پر امام اعظمؒ کے نزدیک صدقہ الفطر ادا کرنا واجب ہے اس مال پر سال کا گذرنا ضروری نہیں۔
ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ ء فطر عید کی نماز جانے سے پہلے ادا کردینا چاہئے۔اور یہ جس کو عرف عام میں فطرہ کہتے ہیں گھر کے ہر فردکی طرف سے دیا جائے گا۔
٭٭٭

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker