ہندوستان

اردوزبان کواپنے ہی گھرمیں اپنے وجوداوربقاکی لڑائی لڑنی پررہی ہے: امجدعلی

جالے: 22؍مئی(رفیع ساگر؍بی این ایس)اردو زبان نہ صرف ہندوستان کی بلکہ دنیا کہ مقبول ترین زبانوں میں سے ایک ہے اور ریاست بہار سمیت ہندوستان کے مختلف ریاستوں میں دوسری سرکاری زبان ہونے کی حیثیت بھی رکھتی ہے جو آئینی طور پر تسلیم شدہ 22 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ اس لئے یہ کہنے میں کوئی گریز نہیں ہیکہ ہندوستان اردو کا اپنا گھر رہا ہے اور آج بھی ہے لیکن افسوس کا مقام ہیکہ آج زبان کی آڑ میں سیاسی داؤپیچ کے سبب زبان اردو کو اپنے ہی گھر میں اپنے وجود کے بقا کی خاطر نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ باتیں مقامی بلاک کے دوگھرا گاؤں میں واقع امجد کلاسیز کے ڈائریکٹر امجد علی نے دربھنگہ میں واقع سی ایم لا کالج کے صدر دروازہ پر اردو نیم پلیٹ کے تعلق سے پیدا ہوئے حالیہ تنازعہ کے پس منظر میں نمائندوں کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ للت نارائن متھلا یونیورسیٹی کے تحت سی ایم لا کالج کے مین گیٹ پر اردو نیم پلیٹ کا دوبارہ چسپاں کرنا گردونواح کے سیاسی ، ملی ، سماجی و فلاحی تنظیموں کے لیڈران ، طلبا اور محبان اردو کی مسلسل جدوجہد اور کاوشوں کا نتیجہ ہے جو ہماری اتحاد کی جیت ہے ۔ اس کیلئے میں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جہنوں نے اس کیلئے آواز بلند کئے ساتھ ہی یونیورسیٹی انتظامیہ کے فیصلے کا خیرمقدم بھی کرتا ہوں جہنوں نے مسئلے کی حساسیت کو سمجھ کر بروقت کارروائی کی۔ اس کے تعلق سے مسٹر امجد علی نے کہا کہ آج نہ صرف اردو کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ ہماری مشترکہ تہذیب و ثقافت و تشخص اردو اور اس کے حقوق کو غیرفطری طور پر پامال کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسی طرح اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے متحد ہوکر لڑینگے تو یقینا ہر خطے میں ہماری فتحیابی ممکن ہے لیکن آج افسوس ہیکہ ہماری ذاتی انتشار کا فائدہ اٹھاکر لوگ اجمالی وجود پر ہی حملہ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نئی نسل اردو سے دور ہوتی چلی جارہی ہے جوکہ لمحہ فکریہ ہے اس لئے ہمیں چاہئے کہ نئی حکمت عملی طے کر ان نسلوں کو نہ صرف اردو سے جوڑنے کی کوشش کی جائے بلکہ اردو کے تئیں ان کے دلوں میں محبت و انسیت پیدا کر اردو کی تحفظ و ارتقا کو یقینی بنائی جائے کیونکہ اگر ہم اردو لکھنے ، پڑھنے ، بولنے سمجھنے سے محروم ہوگئے تو آئندہ ہم اپنی تاریخ ، تہذیب و تمدن ، رسم و رواج سے بھی محروم ہوجائیں گے ۔ مسٹر امجد علی نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کسی قوم کو نیست و نابود کرنے کیلئے اس پر حملہ کیا گیا تو پہلے اسے شاندار ماضی سے کاٹنے کیلئے ان کے مقامی و مادری زبانوں سے متروک کر دیا گیا بعد میں ان کی تعداد کروڑوں میں رہ گئی مگر وہ اپنی تاریخی ورثہ کو متروکہ زبانوں میں ہی کھو دیا لہذا آج ہم سبھی کو اپنی زبان اور وجود کی تحفظ کیلئے متحد ہوکر یکساں طور پر آگے آنا ہوگا اس کے بعد ہی ہم اپنی شناخت کو بچا پائیں گے ۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker