مضامین ومقالات

اب قصہ تمام ہو جائے

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
میں نے کچھ دن قبل قرنطینہ سے متعلق واقعات ومشاہدات اور تجربات پر مبنی ایک مضمون لکھا تھا، ہندوبیرون ہند میں اس کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی، مشہور شاعرو ادیب محترم امام الہدیٰ انور آفاقی دربھنگہ نے اسے” تمام تر احساسات و جذبات سے پر خوبصورت مضمون” قرار دیا، مفتی انس چنڈی گڑھ نے لکھا کہ “مضمون شگفتہ ادب کا حسین مرقع ہے” ناموراہل قلم انوارالحسن وسطوی صاحب نے فرمایا کہ یہ مضمون ان تمام لوگوں کو حوصلہ دے گا جواس دورسے گذر رہے ہیں، ڈاکٹر مظاہر حسین انگلینڈ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھاکہ: اس مضمون کے بین السطور سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بڑی پریشانیوں کا سامنا کیا، اللہ آپ کو صحت مند رکھے، جناب سمیع الحق صاحب پھلواری شریف پٹنہ نے لکھا کہ ” اہل قلم کو اسیر نوئیڈا کی شخصیت پر بھی روشنی ڈالنی چاہیے” شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ “اسیر نوئیڈا” پر دو کتابیں چھپ چکی ہیں اور ڈاکٹر راحت حسین نے اس کی علمی و ادبی خدمات پر مقالہ لکھ کر متھلا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے، اس قسم کے بہت سارے تبصرے سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے موصول ہوئے ، اب سب نقل کردوں تو وہ خود ایک مضمون بن جائے، ان تبصروں میں اس بات کی بھی خواہش کی گئی تھی کہ آگے کے احوال بھی قلم بند کئے جائیں؛ تاکہ قصہ تمام ہوجائے، آج میں بھی اس قصہ کو تمام کردینا چاہتاہوں۔
میں نے لکھا تھا کہ: سرکاری قرنطینہ کے بعد دہلی میں اپنے چچا زاد بھائی وسیم الہدیٰ کے یہاں قیام پذیر ہوگیا تھا، قیام کی مدت طویل ہوئی اور اسی دوران رمضان المبارک آپہونچا، مشورہ ہوا کہ گھر میں ہی تراویح میں قرآن سنایا جائے، یہ وقت کا صحیح اور بہترین استعمال ہوگا؛ چنانچہ ذہن بنا لیا گیا اور تراویح میں قرآن سنایا جانے لگا، وسیم الہدیٰ کے اہل خانہ کے علاوہ ان کے برادرنسبتی نعمت اللہ اور منت اللہ، ان کے ساڑھو کے لڑکا افروز عالم حمزہ مقتدی بن گئے، ایک اور صاحب پڑوس سے آجاتے تھے، الحمد للہ یہ سلسلہ جاری رہا، اور بالآخر تراویح میں قرآن کریم سنانے کی سعادت حاصل ہو گئی، گذشتہ سال بیرون ملک کے سفر کی وجہ سے یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکا تھا، لاک ڈاؤن اور ہوم قرنطینہ کی وجہ سے یہ ایک خیر کا پہلو نکل آیا، اس کے باوجود سوال گھر واپسی کا اپنی جگہ باقی تھا، مولانا اظہار الحق قاسمی اور مولانا محمد اعجاز الرحمٰن شاہین قاسمی جنرل سکریٹری ورلڈ پیس آرگنائزیشن شاہین باغ دہلی، انتہائی فکر مند تھے اور اسباب کے درجہ میں تگ و دو بھی جاری تھی، دن بدن “پاس” بنانے میں سختی برتی جارہی تھی، اور یہ کام دشوار ترین ہوگیا تھا، مولانا اعجاز شاہین نے “پاس” کے لئے درخواست د ی، پانچ دن مسلسل جد و جہد کرتے رہے؛ لیکن نتیجہ صفر رہا، سرکاری افسران کی ایک رٹ تھی کہ واپسی کی کیا جلدی ہے، سبب بتائی، سبب کا مطلب ان کے یہاں خاندان میں موت یا سنگین مرض سے دوچار ہونے کی بات تھی، میں یہ دونوں بات نہیں کہہ سکتا تھا؛ کیونکہ اللہ کے فضل سے ہر طرف خیریت تھی، ایک ناتی ارقم ضیاء بیمارضرور تھا؛ لیکن وہ دہلی صفدر جنگ میں ہی بھرتی تھا، میرے انکار کی وجہ سے یہ معاملہ کامیابی کی دہلیز تک نہیں پہونچ سکا؛ لیکن مولانا اعجاز شاہین مضبوط قوت ارادی کے مالک ہیں وہ ہار کب ماننے والے تھے، انہوں نے دوسرے ضلع میں پاس کے لئے اپلائی کر دیا اور مجھے انتہائی اہم شخص بنا کر پیش کیا، اب تک وہ درخواست پر محنت عام آدمی کی حیثیت سے کررہے تھے، اب کے انہوں نے سرکاری دفتر میں میرا تعارف میری تمام حیثیتوں کے ساتھ کرایا، اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور “پوا پاسی” کا بھی استعمال کیا؛ چنانچہ جو کوشش پانچ دن میں کامیاب نہیں ہوئی تھی، وہ ایک دن میں کامیاب ہوگئی، اور۷/مئی ۲۰۲۰کو “پاس” نکل آیا؛ لیکن اس میں ایک پیچ یہ آگیا کہ اعجاز صاحب نے درخواست ڈرائیور لے کر چار آدمی کے لئے دی تھی؛ لیکن گاڑی “کریٹا” تھی، اور اس میں تین آدمی سے زیادہ کا پاس نہیں دیا جا سکتا تھا، اس لئے میرے نام کے ساتھ 2+ لکھ کر پاس جاری ہوا، ساتھ میں بیٹا ثمر الہدیٰ کو بھی آنا تھا؛ کیونکہ وہ اکتاگیا تھا، اس کو بھی دو ماہ سے زائد ہوگئے تھے، وہ اپنے بیمار بھانجے کو دیکھنے آیا تھا پھر تیمار داری میں لگ گیا اور لاک ڈاؤن سے آمد و رفت کے وسائل بند ہو گئے اس طرح وہ بھی پھنس کررہ گیا، منت اللہ سلمہ ڈاکٹر کو دکھانے دہلی آئے تھے، وہ بھی دوماہ سے یہیں رکے ہوئے تھے، ان کا آنا میرے ساتھ اس لئے بھی ضروری تھا کہ راستے میں جانچ اور پولس سے نمٹنے میں ان کو مہارت حاصل تھی، یہ ڈرائیوری بھی اچھی کرتے ہیں، البتہ ان کے لائسنس کی میعاد ختم تھی، اس لئے ان کی اس صلاحیت کا استعمال اس سفر میں ممکن نہیں تھا، الگ سے ڈرائیور کی ضرورت تھی جو کوئی چوتھا آدمی ہی ہوسکتا تھا، اس طرح بڑے پس و پیش کے بعد طے ہوا کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا؛ لیکن سفر ہم چاروں ایک ساتھ ہی کریں گے؛ لیکن ابھی پریشانی کا دورختم نہیں ہوا، چار بجے شام تک جو ڈرائیور آرہا تھا، اس نے فون اٹھانا بند کردیا، وہ غیر مسلم تھا، شاید اس کو کسی نے بتایا ہوگا کہ سب داڑھی ٹوپی والے ہیں، اس لئے اس نے جان چھڑالینے میں عافیت محسوس کی، اب فوری طور پر ڈرائیور کا انتظام کرنا آسان نہیں تھا، افطار کا وقت ہوگیا تھا، دعا کی گئی کہ اللہ کوئی سبیل نکال دے، گاڑی کا نظم ہمارے پرانے مخلص دوست ڈاکٹر آفتاب عالم پٹنہ جو WHO میں اہم ذمہ دار ہیں نے کیا اور ڈرائیور کے لئے وسیم الہدیٰ سلمہ سرگرم ہوئے، ان کی کوشش سے ہریانہ گڑگاؤں کا ایک ڈرائیور مسلمان چلنے کو تیار ہوا،نام کلیم تھا؛ لیکن مسٔلہ یہ تھا کہ ہریانہ اور دہلی کی سرحدیں سل تھیں، جس میں بیماری سے زیادہ دونوں صوبوں کے وزیر اعلیٰ کی آپسی چقلش اور من موٹاؤ کو دخل تھا، ڈرائیور کو کسی طرح دہلی باڈر پر بلایا گیا، وسیم الہدیٰ اپنے ایک دوست کو لے کر دہلی باڈر گئے اور کسی کسی طرح ڈرائیور کو لانے میں کامیاب ہوئے، الحمدللہ گاڑی، ڈرائیور، پاس سب کچھ موجود تھا، تراویح اور کھانے وغیرہ سے فراغت کے بعد سفر کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا؛ چنانچہ ۸/مئی ۲۰۲۰کو رات کے گیارہ بجے سفر شروع ہوا، بٹلہ ہاؤس میں روڈ سل تھا؛ چنانچہ لوٹ کر آنا پڑا، گلیوں میں بھٹکے، پھر وسیم الہدیٰ نے ایک راہبر کو بھیجا، جس نے خلیل اللہ مسجد کی طرف سےہم لوگوں کو نوئیڈا کے راستے پر ڈال دیا، اس راستے پربھی بھٹکتے رہے کافی دیر بعد نوئیڈا چیک پوسٹ پر ہم لوگ پہونچ سکے۔
نوئیڈا چیک پوسٹ پر یوپی پولس نے گاڑی روک دیا، منت اللہ سلمہ گاڑی سے اترے، پولس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ڈرائیور کا پاس الگ سے نہیں ہوتا ہے، گاڑی کے پاس کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک عدد ڈرائیور ساتھ ہوگا؛ لیکن ظلم و جبر کی عادی اتر پردیش پولس بھلا یہ کب سمجھتی، اس نے سختی سے ایک آدمی کو اترجانے کو کہا، منت اللہ سلمہ نے ڈرائیور کو اتار دیا، اور اسے تسلی دی کہ موٹر سائیکل سے کوئی آکر آپ کو لے جائے گا یہ کہہ کر گاڑی بڑھا دیا، پولس والے کو یہ توقع نہیں تھی کہ اس گاڑی میں دوسرابھی ڈرائیور ہے، ادھر ڈرائیور نے پولس کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ میں غریب آدمی ہوں، کیسے جاؤں گا؟ پولس نے ڈرائیور کو ایک ڈنڈا مارا اور کہا: بھاگ کر گاڑی پر چڑھ جاؤ، منت اللہ کی تکنیک یہی تھی جو کام کرگئی، ڈرائیور گاڑی میں آلیا اور پھر آگے کا سفر شروع ہوا، کلیم اچھی ڈرائیورنگ اور مسلسل ڈرائیورنگ کے ماہر تھے، بھر جو گاڑی چلی ہے تو کہیں پر نہیں رکی، ڈرائیور نے کہیں پر آرام نہیں کیا، صرف ٹول ٹیکس پر گاڑی رکتی اور آگے بڑھتی رہی، فجر کے وقت ہم لوگ لکھنؤ کے سڑکوں سے گذر رہے تھے، پوری رات اطمینان سے گزری، ہوا ہولے ہولے چل رہی تھی، سڑکیں سنسان تھیں، اس لئے کہیں پر نہ پولس والا ملا اور نہ کوئی، دس بجے کے آس پاس ہم لوگ گورکھپور پہونچے، گورکھپور میں سخت چیکنگ تھی، عزیزی منت اللہ سلمہ نے گفت و شنید سے یہاں بھی مسٔلہ حل کیا اور گورکھپور کراس کرنے کے لئے افسر کی جانب سے ایک پرچی حاصل کرلی، جس پر گاڑی نمبر کے علاوہ کچھ نہیں درج تھا؛ لیکن پورے گورکھپور میں تین جگہ اس پرچی نے پاس کا کام کیا اور ہم لوگ بآسانی یوپی سرحد سے نکل آئے، معاملہ بہار کی سرحد میں داخلہ پرگوپال گنج میں پھر اٹکا، یہاں سخت چیکنگ تھی اورتھروپی اسکیننگ ہورہی تھی، منت اللہ پورے راستے پولس سےنمٹتے آئے تھے، یہاں وہ بھی گھبرا گئے، میں نے ایک ذمہ دار کو فون کیا، انہوں نے جو توجہ دی تو ڈی ایم، اے ڈی ایم، اس پی اور اس سنٹر کے ذمہ دار کی توجہ میری طرف ہونے لگی، میں تو گاڑی میں ہی رہا؛ لیکن منت اللہ نے اپنااور ساتھیوں کے نام فون نمبر وغیرہ لکھواکر آگے جانے کی اجازت حاصل کرلی، یہ آخری رکاوٹ تھی جسے عبور کرلیا گیا، لکھنؤ کے بعد مسلسل راستے پر پیدل چل رہے مزدوروں کی حالت زار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، موٹرسائیکل، سائیکل، پیدل اور ٹرک پر سوار مزدور بے یارومددگار بھوکے پیاسے اپنے گھروں کی طرف رواں دواں تھے، ان کے پاؤں کی چپلیں ٹوٹ گئی تھیں، بچے بھوک سے بلک رہے تھے، وہ سامانوں کی طرح ٹرک کے اوپر لدے تھے اور اس حال میں بھی ان سے بڑی بڑی رقمیں ٹرک والوں نے وصول کی تھیں، میں سوچ رہا تھا انسانیت کا جنازہ نکل رہا ہے، ان پریشان حال مزدوروں کی فکر کسی کو نہیں ہے، حالانکہ کھیت کھلیان سے لے کر بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر، بڑے بڑے کل کارخانوں سے ہورہی پیداوار میں ان کا کتنا بڑا حصہ ہے، جو کسان دوسروں کو غلہ فراہم کرتا ہے وہ بھوکا ہے، غیر منصوبہ بندلاک ڈاؤن نے ان کو اس حالت تک پہونچا دیا تھا، دل کڑھتا رہا، آنکھیں ٹپکتی رہیں؛ لیکن کر کچھ نہیں سکتا تھا، دل میں خیال آیا کہ حکومتیں تو ان کے کھانے پینے کے انتظام کی دعویدار ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ کسی کو بھوکا نہیں مرنے دیا جائے گا، پھر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ معا دماغ میں بجلی چمکی کہ رزق رسانی کا کام بندہ کیوں کر کرسکتا ہے، اس کے وسائل و اسباب تومحدود ہیں، یہ کام قادرمطلق اللہ ربّ العزت ہی کرسکتا ہے، خالق کا کام بندہ پورے طور پر انجام دے ہی نہیں سکتا۔ تاہم جس حد تک کی بھی ممکن ہو اس طرف سماجی اور ملی تنظیموں کو توجہ دینی چاہیے اور تمام ان علاقوں میں جہاں سے یہ مزدور گذر رہے ہیں سڑکوں پر کھانے پینے کے انتظامات کرنے چاہیے؛ تاکہ کسی حد تک ان کی مصیبتیں دورہوں، یہ اس وقت کا سب سے بڑا کام ہے، جس کی طرف رفاہی اداروں کی توجہ بالکل نہیں ہے۔
میں سوچتا رہا اور گاڑی آگے بڑھتی رہی، بالآخرساڑھے پندرہ گھنٹےکلیم کی مسلسل ڈرائیورنگ کے بعد ۹/مئی شام کے ساڑھے تین بجے گاڑی مظفر پور کی سرحد میں داخل ہوگئی، یہاں بھی ہرطرف پولس کا پہرا تھا، تین مریض پوزیٹو ملنے کی وجہ سے مظفر پور بھی ریڈ زون میں تھا اور شہر میں گھسنا آسان نہیں تھا، ہم نیشنل ہائی وےپر آگے بڑھتے رہے اور کسی کسی طرح گھر پہونچے، برادرم رحمت اللہ کی خواہش پر ضابطہ کے مطابق صدر ہوسپیٹل مظفر پورجاکر پھر سے چیک اپ کرایا، الحمد للہ سب کچھ نارمل تھا، جان میں جان آئی، پھر بھی اپنے طور پر ہوم کرنٹائن کا فیصلہ لیا، رمضان المبارک کے بقیہ ایام کی حفاظت کے لئے یہ ضروری بھی تھا اور صحت کے لئے مفید بھی، بڑا لڑکا نظر الہدیٰ قاسمی تراویح میں گھر کے لوگوں کو قرآن سناتا ہے، میں بھی شریک ہوجاتا ہوں، اس طرح اب یہ قصہ تمام ہوا، البتہ کورونا کا قصہ باقی ہے، دیکھئے یہ کب تمام ہوتا ہے، عالمی صحت کی تنظیم (WHO)کا کہنا ہے کہ کورونا کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا، دیکھئے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔
اس ابتلاء و آزمائش کے سبق کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ وقت جیسا بھی ہوگذر جاتا ہے، مشکل حالات میں صرف اللہ کا ذکر وہ نسخہ ہے جو قلب میں اطمینان کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور حالات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بخشتا ہے، فرمان الہی ہے الابذكرالله تطمئن القلوب، اس اطمینان قلب کی دولت کے نتیجے میں فرصت کے اوقات کا استعمال آپ علمی کاموں کے لئے کرسکتے ہیں، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،مصنفین زنداں کا ایک طویل سلسلہ ہے، جس سے اہل علم پورے طور پر واقف ہیں، ایک سبق یہ بھی ہے کہ ہر کام کی صلاحیت ہر آدمی کے اندر نہیں ہوتی، اگر منت اللہ سلمہ ساتھ نہیں ہوتے تو آج کی دور کے پولس سے نمٹنا میرے لئے آسان نہیں ہوتا۔ قصہ تمام کرتے ہوئے ان محبین مخلصین کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو ہرروز فون کرکے خیریت لیا کرتے تھے، خود حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم مسلسل خیریت لینے کے لئے فون کرتے رہے؛ حالانکہ دہلی میں BSNLکا مطلب ہوتا ہے “بھائی صاحب نہیں لگے گا” حضرت نے میسج بھی بھیجا، دعائیں بھی کیں اور ان سب کے طفیل یہ مرحلہ آسانی سے گذرگیا، ایسے ہی موقع پر کہا جاتا ہے ،رسیدہ بود بلائے ولےبخیر گذشت۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker