مضامین ومقالات

حضرت الاستاذ پالن پوری رحمہ اللہ کے ساتھ پیش آئے میرے محبت بھرے کچھ واقعات

از : امین افسر کیرانوی

سال ۲۰۰۸ کا آغاز تھا بندہ بنگلور جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم سے دار العلوم دیوبند دورہ حدیث مطلوب کے لیے اپنے چودہ ساتھیوں کے ہمراہ دیوبند وارد ہوا اور رب کریم کے فضل اور اپنے اساتذہ عظام کی دعاؤں سے داخلہ امتحان میں اوّل پوزیشن سے کامیاب ہوا *ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء*

۱۔ *عبارت میں غلطی پر حضرت الاستاذ کی محبت*

حضرت الاستاذ بخاری شریف جلد اوّل اور ترمذی شریف جلد اوّل پڑھاتے تھے بندہ ان خوش نصیب طلبہ میں سے ایک تھا جو پابندی سے عبارت خوانی کا شرف پاتے تھے ہمارے ترجمان مولوی حامد بھوپالی ہوا کرتے تھے اللہ انہیں جزائے خیر دے ایک دن کے ناغے سے عبارت پڑھنے کا موقعہ وہ اکثر دیتے ایک روز جمعرات کا دن تھا بریانی کی درخواست چٹھی کی شکل میں حضرت الاستاذ کو پہنچ چکی تھی ذہن کھانے میں لگا تھا بندہ عبارت پڑھ رہا تھا عجیب اتفاق کہ ایک مقام پر عبارت “یقول أبو ھریرةَ” بالفتح کی جگہ “یقول أبو ھریرةُ” بالضم منہ سے نکل گیا غلطی چھوٹی ہونے کے ساتھ چونکہ موٹی تھی تو ساتھی ہنس پڑے مجھے فوراً احساس ہوا اور میں حضرت کو دیکھنے لگا کہ اب تو میری لٹیا ڈوبی ؛لیکن عجیب شان اللہ کی کہ خلاف معمول حضرت بھی مسکرا رہے ہیں پھر فرمایا : *“چل چل تیرے لیے سب چلیگا”* یہ غایت محبت تھی !!!

*عبارت کی غلطی پر پیاری سی پھٹکار*

ایک موقع پر بندہ ترمذی شریف کی عبارت پڑھ رہاتھا اللہ جانے کیا غلطی ہوئی یا اٹک ہوئی حضرت الاستاذ نے ٹوکتے ہوئے فرمایا:
*” تیری چڑیا جیسی تو آواز ہے ؛ بس رہنے دے تجھ سے اچھا تو میں ہی پڑھ لوں”*

پھر حضرت الاستاذ نے ایک حدیث خود پڑھی مناسب شرح فرمائی پھر فرمایا *“چل پڑھ”* وللہ الحمد ساتھیوں نے سبق کے بعد کہا کہ تم بچ گئے ورنہ ایک بار حضرت کسی کو “بس رہنے دے “فرمادیں تو آئیندہ پورے سال اس کا نمبر آنا ممکن ہی نہیں!

*ایک بار میری دیر حاضری پر عجیب شفقت*

بعد مغرب حضرت الاستاذ کی ترمذی ہوا کرتی تھی ایک روز کا واقعہ ہے کہ مجھے اس روز چائے پی کر آنے میں اتنی دیر ہوگئی کہ حضرت الاستاذ دار الحدیث تشریف لا چکے تھے اور مسند پر تشریف رکھ چکے تھے سب جانتے ہیں کہ اگر کوئی طالب علم حضرت الاستاذ کے درسگاہ تشریف لے آنے کے بعد درسگاہ آتا اور حضرت الاستاذ کی نظر پڑجاتی تو کیا مجال کہ وہ بیٹھ سکتا؟ اس کو باہر کردیا جاتا حضرت الاستاذ فرماتے: *“اسے باہِر نکالو ، چل چلاجا تیرے بغیر بھی سبق ہوجائیگا”* الغرض کہ مجھے دیر ہوگئی اب کتاب ہاتھ میں لیے میں پریشان کہ اندر جاؤں یا نہ جاؤں ! اگر جاتا ہوں تو حشر معلوم ہے اور نہیں جاتا ہوں تو سبق چھوٹنے کا غم! اللہ کا شکر کہ ایک عجیب ترکیب اللہ نے ذہن میں ڈالی وہ یہ کہ مہمان کو حضرت الاستاذ باہر نہیں نکالتے تھے وہ جب بھی آوے اسے اجازت تھی میں نے سوچا چلو آج طالب علم کا بھیس تبدیل کرکے مہمان کے بھیس میں اندر داخل ہوتا ہوں سردی کا زمانہ تھا چادر پاس تھی میں نے چادر سے میواتی انداز میں سر پر پگّڑ باندھا اور ترمذی شریف کو ایک تھیلے نما بیگ میں رکھا اور نظر جھکاتے ہوئے درسگاہ میں گھس گیا حضرت الاستاذ کے بائیں جانب سے دار الحدیث کا دروازہ کوئی بیس قدم دوری پر ہوگا وہ فاصلہ مجھے طے کرنا تھا میں چلا جار ہوں ایک ایک قدم ایسا بھاری کہ بیان نہیں کرسکتا اور ادھر تقریباً ایک ہزار طلبہ کا مجمع میرے انجام کو سوچ کر مجھے دیکھتا اور ہنستا جارہا حضرت الاستاذ کو بھنک لگ گئی حضرت بھی مڑ کر مجھے برابر دیکھتے جارہے اور مسکراتے جارہے ہیں میں اپنی تیسری تپائی کو چھوڑ کر سیدھے حضرت الاستاذ کے تخت کی جڑ میں جا بیٹھا سارے طلبہ بے اختیار ہنس پڑے میں نے گردن اٹھا کر حضرت الاستاذ کو دیکھا تو دنگ رہ گیا کہ حضرت خود بھی رومال منہ پر لگائے بے تحاشہ ہنس رہے ہیں پھر فرمایا: *ابے بھیس کے انڈے تجھے اتنی دور سے چل کر یہیں مرنا تھا؟ وہیں دروازے پر مرتا یہاں تک آنے کی کیا ضرورت تھی”* یہ فرمایا اور پھر ہنسے اور اپنے مخصوص انداز میں لا الہ الا اللہ پڑھتے ہوئے کتاب کھولی اور سبق شروع فرمایا !

*حضرت والا کو میرا اخلاص بھرا ہدیہ*

ایک روزبخاری کے درس سے فارغ ہوکر جانے لگے میرے اندر عجیب محبت کی کیفیت تھی میں نے سوچا کہ آج حضرت کو ٹھنڈا جوس پیش کرونگا پیسے تو پاس نہیں تھے ؛لیکن حضرت الاستاذ کی محبت میں جوس کی دکان پہنچا معراج ریسٹورینٹ کے بالکل سامنے والا بندہ اس سے ایک بڑا گلاس انار کا رس تیار کروایا کہ پیسے کل دے دونگا اور لیکر دوڑتے ہوئے حضرت الاستاذ کی راہ دیکھنے لگا حضرت کے محلے کے قریب پہنچ کر حضرت کو دیکھ لیا اور رفتار آہستہ کرلی کہ جب حضرت بالکل گھر کی سیڑھی پہ ہونگے تب درخواست کرونگا ؛ چنانچہ قریب پہنچ کر سلام کیا تو حضرت والا نے دیکھ کر پوچھا کیا بات ہے ؟میں نے عرض کیا حضرت آپ کی خدمت میں یہ انار کا رس لایا ہوں تو فرمایا “اسے واپس لیجا” میں طالب علموں سے کچھ نہیں لیا کرتا ! میں نے آبدیدہ ہوکر عرض کیا کہ حضرت بڑی محبت سے لایا ہوں ایک بار قبول فرمالیں تو حضرت والا نے فرمایا ٹھیک ہے وہاں رکھ دو اور کل اپنا برتن لیجائیو ! میں رکھ کر محبت میں روتا ہوا وہاں سے واپس آگیا!

*دیوبند میں ایک ہنگامہ اور میری تلاوت*

رات کے تقریباً دس بج رہے تھے بخاری ثانی کا درس شروع ہوا چاہتا تھا کہ اچانک خبر پھیلی کہ باہر دو سی آئی ڈی دو طلبہ کو بنگلہ دیشی ہونے کے الزام میں گھیرے ہوئے ہیں چند منٹوں میں تین چار ہزار طلبہ ان کے گرد جمع ہوگئے اور سی آئی ڈی کے دونوں لوگوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا قبل اس کے کہ ان کی دھلائی ہوتی مولانا مدراسی اور دو ایک اساتذہ آ پہنچے اور ان دونوں کو مہمان خانے میں چھپادیا وہ تو بچ گئے لیکن جس بائک پہ وہ آئے تھے اس کا ہم طلبہ نے ستیا ناس کردیا اور دل کھول کر کئی قسطوں میں اسے پھوڑا اور اس کے پرزے پرزے کر ڈالے قصہ مختصر کہ اچانک اعلان ہوا کہ سب طلبہ دار الحدیث پہنچ جائیں حضرت شیخ الحدیث پالنپوری دامت برکاتہم طلبہ سے اہم بات کرنے کو تشریف لارہے ہیں کوئی پل بھر میں سارا دار الحدیث طلبہ سے کھچا کھچ بھر گیا اور کچھ ہی دیر میں حضرت الاستاذ بھی تشریف لے آئے اور فرمایا کوئی تلاوت کرو ساتھیوں نے تلاوت کلام پاک کے لیے میرا انتخاب کیا اور مائک مجھے دیا گیا میں نے اللہ کی توفیق سے اس وقت الہامی آیات پڑھیں جو یہ تھیں *محمد رسول اللہ والذین معہ أشداء علی الکفار رحماء بینہم ۔۔۔الخ* جن میں صحابہ کا کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہونے کا مضمون ہے تلاوت کے اختتام پر حضرت الاستاذ نے فرمایا *ابھی ہمارے عزیز نے جو آیات پڑھی ہیں بالکل اسی موقع کے مناسب ہیں* میرےعزیزو ! تم نے جو کیا بہت اچھا کیا! ایسا ہی کرنا چاہیے تھا ! اب کوئی بھی دار العلوم میں قدم رکھنے سے پہلے سو بار سوچے گا ؛لیکن اب اتنا کافی ہے اب کیا کرنا ہے ؟ اب یہ کرنا ہیکہ کہ چپ چاپ جاؤ اور اپنے کمروں میں بستر لگاؤ اور پڑکے سوجاؤ ! باہِر کوئی نہ جائے ۔الغرض ایک ہنگامے کو مزید خطرناکی سے حضرت الاستاذ نے یوں بچالیا !

*حضرت کے سلام کا جواب اور مجھے دو مرتبہ محبت سے“گدھا” فرمانا*

حضرت اپنے معمول کے موافق سب سے پہلے مسند کے پاس کھڑے کھڑے سلام فرماتے اور طلبہ جواب دیتے میری عادت تھی میں سب سے ممتاز الگ انداز میں پوری تجوید کے ساتھ عربی لہجے میں سب سے بلند آواز میں جواب دیتا ایک روز تشریف لائے اور حسب معمول سلام کیا میں نے اسی انداز میں جواب دیا تو میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا “ادھر ایک گدھا بیٹھتا ہے جو سلام کا جواب چبا چبا کر دیتا ہے “! میں سمجھا حضرت والا کو برا لگتا ہوگا دو تین دن تک معمولی آواز میں جواب دیا۔
غالبا چوتھے روز جب تشریف لائے تو فرمایا ادھر اس طرف ایک گدھا بیٹھتا تھا اور سلام کا جواب دیتا تھا وہ کہاں چلا گیا اس کی آواز ہی نہیں آتی اب؟!!

*“آخری درس بخاری اور میری ایک حماقت”*

بخاری کا آخری سبق تھا حسب معمول حضرت الاستاذ نے مسلسلات کی ایک روایت کے مطابق سورہ صف کی تلاوت فرمائی اور جہاں جہاد کا ذکر ہے وہاں ہمیں ایسی ہمت دلائی کہ ہر طالب علم گویا بجائے خود اپنے آپ کو مجاہد تصور کررہا تھا نہ جانے مجھے کیاعجیب جوش آیا اور میں نے ایک زور دار نعرہ لگادیا “ نعرہ تکبیر “؛لیکن بد قسمتی سے ایک بھی طالب علم نے “اللہ اکبر “ کہکر جواب نہ دیا یہ دیکھ کر میں فورا اپنی تپائی کے نیچے چھپ گیا اور چوری سے حضرت الاستاذ کو دیکھنے لگا کہ اب کیا حکم صادر فرماتے ہیں تو حضرت نے اندازہ لگالیا کہ یہ حماقت مجھ نالائق ہی کی ہوسکتی ہے پھر میری طرف دیکھتے ہوئےفرمایا : نالائق یہ وقت کوئی نعرہ لگانے کا ہے؟ انتہی

آہ اب تم سا کہاں سے لاؤں!

امین افسر کیرانوی

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker