مضامین ومقالات

حضرت الاستاذمفتی سعیداحمدصاحب پالنپوری علیہ الرحمہ کی کچھ باتیں

بقلم:

*مفتی محمد اشرف قاسمی
مہد پور،اجین( ایم پی)

کلیوں کو میں سینے کا لہودے کے چلا ہوں

صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

آج جب کہ بددینی پر منبی نظریات اور ملحدانہ افکار وخیالات بظاہر اپنی فتوحات کی منزلیں طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن اس فکری وتہذیبی دریائے شور میں کچھ لوگ سنت وشریعت اور اسلامی تہذیب وتمدن کو بھی اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔اور یہی نہیں کہ سد سکندری بن کرالحاد وبد دینی کے بادسموم کوروک رہے ہیں، بلکہ ہمہ جہت کفر کی یلغار کو کامل حوصلہ وہمت اور پوری قوت وجوانمردی کے ساتھ ہر طرف سےرد(Counter)بھی کررہے ہیں۔
اس گروہ کی طرف سے کفر والحاد کا جس اولی العزمی اور وبلند حوصلگی سے مقابلہ ہورہا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ برآمد ہو کر سامنے آرہا ہے۔ کہ الحاد وکفر کے مراکز میں اسلامی تمدن ،دینی فکر وکلچر پورے فخر کے ساتھ اپنا وجودثابت کرتے ہوئے اپنی فتوحات کے منارے ان مقامات پر تعمیر کررہا ہے جہاں اس کےوجود کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
الحاد وبددینی کی چہار سو یلغار پر سینہ سپر ہو کر مقابلہ آرائی کرتے ہوئے اپنی قوت وشوکت اور اپنی اصالت واصابت، متانت وسنجیدگی کو منوانے والی یہ جماعت فضلائے مدارس اسلامیہ کی ہے۔جو کہ بلا واسطہ یا بالواسطہ طور پر مادر علمی دارالعلوم دیوبند سے نسبت رکھنے والوں پر مشتمل ہے۔
دیوبندی مکتبہ فکر کے روح رواں ومیرکارواں کی حیثیت سے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث وصدرالمدرسین،
قدوةالمفسرين، زبدة العارفين، رئيس المحدثين، استاذالاساتذه، عالم ربانی، علماء سلف کے سچے پیروکار، غیرت وحمیت اسلامی کےعلمبردار، مجسمۂ علم و عمل، اصول وضوابط کے پاسدار، اخلاص و للہیت اور خشیت ایزدی کا پیکر، شارح بخاری و ترمذی، علوم ولی اللہی کے سچے جانشین، فکر نانوتوی وتھانوی کے نقیب وترجمان،مردم شناس و مردم ساز، مربی جلیل، لايخافون لومة لائم کے خوگر، سنت وشریعت کے داعی و مناد، جامع الکمالات والمحاسن، استاذ محترم حضرت اقدس مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری قدس سرہٗ کانام سر فہرست ہے، جنہوں نے احیاء سنت، امحاء بدعت، تحفظ ملت اور اشاعت اسلام کے لئے راہ وفا میں قربان ہونے والی اس مقدس گروہ وجماعت کو اپنے خون جگر سے سیراب فرما کر تشکیل وتعمیر کیا ہے۔
یہ لکھتے ہوئےافسوس ہوتا ہے کہ بتاریخ 25رمضان المبارک 1441ھ مطابق 19مئی2020 بروز منگل بوقت چاشت۔حضرت والا اپنے پیچھے ہزارہا علماء، صلحاء اور طلباء کو روتے بلکتے چھوڑ کر اس دارفانی سے عالم عقبی کی طرف روانہ ہوگئے۔
*انا لله وانا اليه راجعون، ان الله ما اخذ وله مااعطى وكل شئ عنده باجل مسمى.*

حضرت کی وفات حسرت پر آیات پر عالم اسلام کے مختلف حصوں میں اکابر واصاغر کی طرف سے کلمات تعزیت واسترجاع کے ساتھ ہی آپ کی خدمات جلیلہ کے تذکرے ہورہے ہیں۔ جن سے آپ کی زندگی کے کچھ ایسے گوشے بھی کھل کر سامنے آرہے ہیں جن کے بارے میں آپ کے اکثر تلامذہ بھی واقف نہیں تھے۔جیسے کہ آپ کے گھر میں تمام اہل خانہ حتی کہ آپ کی اولاد ذکور کے ساتھ ہی زوجہ محترمہ اور بنات قانتات بھی حفظ قرآن کی دولت سے بہرہ یاب تھیں۔
اسی طرح ملک کی خاتون صدرجہموریہ محترمہ پرتبھا پاٹل صاحبہ کی طرف سے آپ کو سند توصیف عطا کی گئی تھی ۔ جو کہ قانونِ ملکی کے لحاظ سے اس کے حامل کو انتہائی درجہ اعلی ومعزز رتبہ عطا کرتا ہے۔لیکن اس کے بارے میں عام تلامذہ کو اس وقت معلوم ہوا جب آپ اس دار فانی سے رحلت فرماکر باغ بہشت کی سیر کو روانہ ہوگئے۔یعنی آپ نے اس توصیف نامہ کا اس طرح اخفاء فرمایا کہ اس سے اس دنیا میں شہرت وناموری اور دوسرے مادی منافع حاصل کر نے کاخیال بھی آپ کے ذہن میں نہیں گذرا۔

*اپنے تلامذہ کے لئے آپ کی وقیع وزریں ہدایات وتعلیمات*

حضرت الاستاذ نے جس طرح علوم اسلامیہ کے مختلف شعبوں میں اپنی فتوحات کے پھریرے بلند فرمائے ہیں۔ وہیں احیاء سنت، حفاظت ملت و اشاعت دین کے سلسلے میں بہت وقیع وزریں ہدایات وتعلیمات سے اپنے تلامذہ ومنتسبین کو کام کرنے کی نصیحتیں فرمائی ہیں۔
شروع سطور میں بتایا جا چکا ہے کہ اس وقت فکری وتہذیبی تصادم اور ٹکراو کے میدان میں بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ کے اطاعت شعار تلامذہ ہراول دستوں کی حیثیت سے میدان عمل میں رسم شبیری ادا کررہے ہیں۔
اس میدان میں علی ثغر دائم کا مصداق بن کر استقامت واستقلال اور استمرار ودوام کے ساتھ اپنی منزل وفتح کی طرف بڑھنے کے لئے آپ کی روشن ہدایات کی کچھ جھلکیاں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔

*علم میں پختگی پیدا کرو*

دورۂ حدیث کے آخری اسباق میں آپ نے ہم تلامذہ کو نصیحت فرمائی کہ:
“یہاں سے فراغت پر آپ لوگوں کو پورا علم نہیں حاصل ہوگا، بلکہ اس طرح نصابی تعلیم سے علوم کی تحصیل کا طریقہ معلوم ہوا ہے۔ فراغت کے بعد کسی مدرسہ میں دس سال تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد آپ کو کچھ کچھ علم حاصل ہوگا۔اس لئے اپنے کو طالب علم ہی سمجھتے رہو تبھی تمہارے اندر علمی پختگی آسکتی ہے۔”

*خدمت دین کے لئے تقسیم کار*

دورۂ حدیث کے ہی آخری دروس میں طلباء کے آئندہ مشاغل کے پیش نظرفرمایا کہ:
“اس وقت عوام میں کام کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم تبلیغی جماعت ہے۔اس لئے جو کسی مجبوری کے تحت مدرسوں میں تدریسی خدمات نہیں انجام دے سکتے ہیں،اور وہ کاروبار، تجارت وغیرہ میں لگنا چاہتے ہیں؛وہ لوگ دوسال تبلیغی جماعت میں وقت لگائیں۔کیوں کہ ان کے ذمہ پوری مسلم امت کا قرض ہے۔قوم نے آپ کو تاجر یا کسی کارخانے وکمپنی کا نوکر ومزدور بننے کے لئے مدرسوں میں چندہ نہیں دیا ہے۔بلکہ اس لئے تعاون دیا ہے تاکہ آپ دین سیکھ کر دوسروں تک دین کی بات پہونچاؤ، اگر فراغت کے بعد سیدھا کاروبار میں لگ گئے، اوراس آسان پلیٹ فارم سے بھی دین کی تبلیغ وتعلیم کا کام نہیں کیا تو آپ کی گردن سے امت کاقرض باقی رہے گا۔
اسی کے ساتھ جو لوگ ذی استعداد ہیں وہ فراغت کے فورا بعد جماعت میں وقت لگانے کے بجائے تعلیم وتدریس میں مصروف ہوجائیں۔ فراغت کے فورا بعد کسی غیرعلمی کام میں مشغول ہونا علم کے لئےمضر ہے۔”

تقسیم کار کے سلسلے میں تبلیغی جماعت کی بعض فروگذاشتوں پر آپ نکیر فرماتے تھے۔جسے بعض کم علم لیکن احساس ترفع وتعلی کے مریض تبلیغی جماعت کی مخالفت پر محمول کرتے تھے ، گذشتہ دنوں مرکز میں امیر کاندھلوی صاحب نے جماعت کے دائرۂ عمل سے خروج کرتے ہوئے فتوی جاری کرنا شروع کردیا۔تو اس موقع حضرت مفتی صاحب نے ایک ناصحانہ بیان کے ذریعہ تبلیغی جماعت کی صحیح رہنمائی فرماتے ہوئے کہا کہ “ہماری اس بات کو پوری دنیا میں پھیلاؤ۔”
اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں جس طرح دارالعلوم دیوبند کے خلاف جماعت کےبعض امیرحضرات نے اخلاقی فروتنی اور جہالت کا مظاہرہ کیا،اسی طرح اندور شہر میں ایک شخص نے امیر کاندھلوی کی طرف داری کرتے ہوئے حضرت مفتی صاحب کو کافر بھی کہدیا تھا۔
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ
آپ تبلیغی جماعت کے کبھی بھی مخالف نہیں رہے ، بلکہ اگر کسی کے بارے میں معلوم ہوتا کہ یہ تبلیغی جماعت کا مخالف ہے توآپ اس کی بڑی سے بڑی خدمات پر تائید وحمایت کر نے سے گریز کرتے تھے۔مثلا حضرت مولانا کلیم صدیقی پھلتی مدظلہ العالی غیروں کے درمیان کامیاب انداز میں دعوت کا کام کررہے ہیں، تو ان کی تائید ونصرت سے قبل پھلت جاکر جائزہ لیا کہ کہیں آپ تبلیغی جماعت کے مخالف تو نہیں ہیں؟ اطمنان ہوجانے کے بعد آپ نے وہاں اپنی حاضری کا مقصد بیان کرتے ہوئے ان کی تائید وتوصیف فرمائی۔
عالم ربانی کی حیثیت سے یہ آپ کا فریضہ تھا کہ اپنی جماعت کو بے اعتدالی سے بچانے کی کوششیں کرتے رہیں۔
حیرت ہوتی ہے جماعت کے بعض امیروں پر کہ وہ ایک طرف شکیلیوں ، مرزائیوں، حتی کہ کھلے طور پر مرتد یعنی قادیانیوں کے تعلق سے تو نرم گوشہ رکھتے ہیں، لیکن اپنی کوتاہیوں پر اپنے باپ یعنی دارالعلوم دیوبند کی مخلصانہ نصیحتوں کو قبول کر نے کے بجائے جنگ و جدال پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔
اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ تقسیم کار ان کی لغت سے محو ہوگیا ہے۔دوسری طرف صحیح العقیدہ فضلاء مدارس جماعت میں کم وقت دیتے ہیں جس کی وجہ سے بددین اورعیاش قسم کے لوگ تبلیغی جماعت کی غلط رہبری کرتے ہوئے انہیں اپنا ہمنوابنا کر اہل حق کے خلاف صف بستہ کرنے میں کامیاب ہیں۔اگر ہمارے فضلاء تبلیغی جماعت میں وقت لگائیں توپھر کسی بددین اور شریر کو ان کی غلط رہنمائی کا موقع نہیں ملے گا اور علماء وجماعت میں ٹکراو کے بجائے مرافقت پیدا ہوگی۔

*نومسلموں کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے*

ملک میں جس طرح دعوت الی الاسلام کے لئے فضا ساز گار ہے اسی قدر اس فریضہ کی ادائیگی میں مسلمان سستی اور کوتا ہی کررہے ہیں۔ اور اگر اپنی طلب و کوششوں سے کوئی حلقہ بگوش اسلام ہوجاتاہے تو مسلمانوں کی طرف سے اسے اپنائیت کا احساس نہیں کرایاجاتا ہے۔بلکہ اسے بے سہارا چھوڑدیا جاتا ہے۔اس کی شادی وغیرہ کا مرحلہ بہت ہی پریشان کن اور افسوس ناک ہوتا ہے۔حضرت الاستاذ نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ:
“نو مسلموں کو بے سہارا نہ چھوڑو بلکہ ان کو اپنائیت کا احساس کراو اور ان کی بھر پور مدد کرو۔”

*ٹوپی ،کرتا اپنی تہذیب وشعاراختیار کرنے کا فائدہ*
کئی موقعوں پر فرمایا کہ: عام مسلمانوں اوراسکول ومدارس کے طلباء کو کرتا ٹو پی کا اہتمام کرنا چا ہئے ، یہ ہماری تہذیب تو ہے ہی، اسی کے ساتھ ٹو پی پہننے سے ہماری پاپو لیشن( تعداد آبادی) بھی بڑھتی ہے۔بسوں میں پانچ سکھ بھائی بیٹھے ہوتے ہیں ، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری بس میں وہی لوگ ہیں اس لئے ان کے ساتھ عموما کسی قسم کی زیادتی اور بداخلاقی نہیں ہوتی ہے۔جب کہ اسی بس میں اگر سو مسلمان ہوں تو بھی کفار مسلمانوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی زیادتی وجارحیت کی ہمت کرلیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بسوں میں مسلمان اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ۔اگر سب لوگ ٹوپی لگائے ہوں تو پھر ہر طرف مسلمان ہی نظر آئیں گے۔اور کہیں بس وغیرہ میں مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لئے کوئی بدقماش ہمت نہیں کرے گا۔”
اس طرح ٹوپی کرتا سے جہاں ہماری تہذیب کی نمائندگی ہوگی وہیں ہمارے دلوں سے ظالموں کا خوف نکلے گا اور ظالم مرعوب ہوگا۔

*تنظیموں اور ادروں کا باہمی ٹکراؤ سے حفاظت کا نسخہ*

ممبئی و مضافات میں اقامتی مدارس کاوفاق قائم ہے۔لیکن کچھ ارباب مدارس اپنے ذاتی ومخفی تحفظات کے پیش نظر معنئ اتحاد کے حامل جملہ الفاظ کو باہم اختلاف وافتراق کے لئے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ غالبا انہیں تحفظات کے پیش نظر اختلاف پیدا کرنے کے لئے مدارس کے کسی متحدہ پلیٹ فارم کے متوازی دوسرے اسٹیج بھی سجائے جاتے ہیں۔مثلا وفاق کے مقابل میں اتحاد المدارس، اور پھر اس کو توڑنے کے لئے رابطہ مدارس۔
لذت اختلاف کے چشیدہ یہ لوگ باہم ایک دوسرے
کو Cheaterجیسے نامناسب الفاظ سے بھی نوازتے رہتے ہیں۔
ایک مرتبہ شیواجی نگر گونڈی میں رابطہ مدارس عربیہ کے اجلاس میں آپ نے فرمایا کہ:
“ہر مدرسہ والا اپنے اپنے مدرسوں میں رات دن کاموں پر توجہ دے ۔اوراپنے کو برابرکاموں میں مشغول رکھے۔اتنا مشغول رکھے کہ اگر کوئی اس کی برائی بیان کرے تو اس کو اپنی برائی سننے کا موقع ہی نہ ملے ، اور مصروفیت میں اگر خلاف مزاج کوئی بات کان میں پڑ بھی جائے تو اس کے پاس جواب دینے کی فرصت نہ ہوا۔جب برائی سننے اور جواب دینے کی فرصت نہیں ہوگی تو پھر برائی کرنے کی فرصت کہاں مل جائے گی؟اس طرح اپنے اپنے کاموں میں مشغولیت سے بہت سے فتنے بند ہوں گے۔اور ہمارے اداروں کی حسن کار کردگی میں اضافہ ہوگا۔
اور اگر ہم اپنے کو زیادہ مصروف نہیں کریں گے تو پھر لازمی طور پر فرصت کے لمحات کو عیوب جوئی میں صرف کریں گے۔جس سے اختلاف پیدا ہوگا۔اور ہم اپنے اساسی مقاصد سے ہٹ جائیں گے۔”

*تنقید وتعاقب میں خوش اسلوبی*

آپ عظیم محدث،ممتازفقیہ،صاحب طرز انشاپراداز، کامیاب مصنف وادیب ، مقبول مدرس ہونے کے ساتھ ہی جید الاستعداد مناظر بھی تھے۔
مناظروں میں عموما فریق مخالف کو شکست وہزیمت سے دوچار کرنے کے لئے سخت کلامی اختیار کی جاتی ہے۔
لیکن عام حالات میں یہ طریقہ مزاج شریعت کے خلاف ہے ۔قرآن نے جدال احسن کی ہدایت فرمائی ہے۔آپ کے مناظرانہ کلام میں جدال احسن کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ اس وقت عالم اسلام میں عمل بالحدیث کے عنوان سے ایک طبقہ نے امت کو اکابر واسلاف سے بدظن کرنے اور ائمہ متبوعین کا باغی بنانے کا پیشہ اختیار کیا ہوا ہے۔ مختلف گمراہ فرقوں کی طرح آپ نے اس بدنصیب فرقہ کا بھی تعاقب فرمایا ہے۔اس فرقے کا ایک بڑااور بھونڈا دعوی یہ بھی ہے کہ:
“قرآن وحدیث کے ہوتے ہوئے کسی فقیہ یا محقق امام کی تقلید یا کسی ایک مسلک سے بندھ کر زندگی گزارنا شرک ہے۔”
آپ بے بڑی خوش اسلوبی اور سنجیدگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ طبقہ ایک طرف تقلید کو شرک کہتا ہے دوسری طرف خوداپنے ایک مستقل مسلک کی تقلید کرتا ہے ۔جس پر دلیل یہ ہے کہ اگر کسی دوسرے مسلک کاکوئی عالم اس کے سامنے حدیث پیش کر کے کوئی مسئلہ بتاتا ہے۔تو یہ اس کے ذریعہ حدیث کی روشنی میں بیان کردہ مسئلے پر عمل نہیں کرتا یے، جب تک کہ اس کے مسلک کا کوئی عالم یا شخص اس کی تصویب نہ کردے۔یہی تو علماء کی تقلید ہے۔اگر حدیث پر عمل کرنا تھا تو دوسرے مسلک کے علماء کے ذریعہ پیش کردہ حدیث پر بھی عمل کرنا چاہئے۔لیکن یہ اپنے خاص مسلک کی تقلید کرتے ہیں اس لئے حدیث کے بجائے اپنے علماء کی بات کو مانتے ہیں۔
اس طرح معروضی انداز میں آپ کے تعاقبی کلمات سے اگر کسی ضدی کو ہدایت نہ ملے تو عام مسلمانوں کو بہر حال حق کی تشخیص میں سہولت ہوتی ہے۔

*ثریا ستارہ کے سلسلے میں غلط فہمی کا ازالہ*

موجودہ حالات میں جب کہ کووڈ19کے سلسلے میں مختلف توہمات میں لوگ مبتلاء ہیں۔ کہیں تالی تھالی بجاکر اس سے نجات حاصل کرنے کوشش کی جارہی ہے،تو کہیں موم بتی اور چراغ جلاکر اس کو بھگانے کی اپیل ہورہی ہے۔کچھ لوگوں نے گائے کے پیشاب کو تریاق قرار دے کر باقاعدہ اس کے پیشاب پینے کی پارٹیاں منعقد کرڈالیں ۔اس سائنٹیفِکٹ زمانے میں ان احمقانہ باتوں پر دنیا ہنس رہی تھی کہ کسی نے ثریا ستارہ کی روایت کو بیان کر کے اعلان کردیا کہ حدیث میں آیا ہے کہ 12مئی کو کووڈ 19 ختم ہوجائے گا۔
اس طرح اسلام پر بھی ہنسنے کا موقع تلاش کیا جانے لگا۔
بعض سنجیدہ علماء نے بھی غیر شعوری طور پر اس پروپیگنڈہ کی تائید شروع کردی۔راقم الحروف نے اس موقع پراس کی تردید میں “ثریا ستارہ ایک گمراہ کن پروگنڈہ” عنوان کے تحت ایک طویل تحقیقی مضمون لکھا تھا۔اسی اثنا ثریا ستارہ سے متعلق روایت کے بارے میں حضرت مفتی صاحب کا آڈیو بیان بھی آگیا۔ جس سے بندہ کو کافی خوشی ہوئی ۔کیوں کہ آپ کے بیان سے بندہ کی تصویب ہوتی تھی۔
آپ کے بیان میں اہم بات یہ تھی کہ جہاں دوسرے لوگوں کی تردید کی گئی تھی وہیں تھانوی سلسلہ کے ایک بڑے عالم کا بھی تعاقب کیا گیا تھا۔لیکن اس تعاقب میں آپ نے موصوف کی ذاتی عظمت وبزرگی کوہر طرح تحفظ فراہم کیا۔
ہم طلباء کے لئے مجادلہ اور تعاقب میں آپ کا یہ اسلوب بہت ہی کار آمد اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔

*جیسی سوچ ویسا انجام*

کسی کے انتقال پر مروجہ طریقہائے تعزیت سے آپ کو ہر گز اتفاق نہیں تھا، اسی طرح مقابر پر کتبے لگا کر فاتحہ خوانی کے لئے مجمع اور بھیڑ سے بھی آپ کو نفور تھا۔کیوں کہ یہ باتیں سنت اور شریعت کے خلاف ہیں۔
مختلف سنن ومستحبات کی طرح
مقابر کے سلسلے کی سنتوں کو بھی صرف سلسلہ تھانویہ میں باقی رکھا گیا ہے۔ ورنہ اب دیوبندی مکتبہ فکر میں بھی اس سلسلے میں کوتا ہی پائی جارہی ہے۔حضرت ہمیشہ سنت کی ترجمانی کرتے ہوئے موجودہ کوتا ہی پر تعمیری تعاقب فرماتے تھے۔ شاید احیاء سنت اور امحاء بدعت کا یہی محمود ومقبول جذبہ تھاکہ جس کی بر کت سے مزار قاسمی یا کسی مخصوص قبرستان کے بجائے عام مسلمانوں کے ساتھ جوگیشوری ممبئی کی خاک میں عین سنت کے مطابق آپ مرہونِ راحت ہوگئے۔
آپ کی نماز جنازہ اور تدفین میں شریک نہ ہونے پر لاکھوں آنکھیں مصروف وضو ہیں ، اسی طرح آپ کی تربت پر فاتحہ خوانی کے لئے بے شماردل بے قرار ہیں۔ لیکن سنت کا جوجذبہ آپ کے دل میں تھا، اور جس کی آپ اپنے تلامذہ کو تعلیم وتاکید فرماتے رہے۔اللہ نےآپ کی مبارک سوچ وفکر کے مطابق ایساانتظام فرمایا کہ آپ کی آخری خواب گاہ پر فاتحہ خوانی کے لئے بھی کوئی خلاف سنت اقدام نہیں کرسکتا ہے۔اب قبر پر بغیر کتبہ اور بغیر مجمع کے حاضری ہوگی اور فاتحہ خوانی بھی۔
آپ پر اللہ تعالی کی بے حساب اور بے کراں رحمتیں نازل ہوں، رب ذوالجلال آپ کی جملہ حسنات کو قبول فرمائے، اور قبر میں کروٹ کروٹ راحت و سکون نصیب فرماتے ہوئے آپ کو جنت الفردوس کا مکیں بنائے۔

آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

کتبہ:آپ کا ایک گمنام شاگرد:
محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء:
شہر مہد پور،ضلع اجین، ایم پی
29رمضان المبارک1441ھ
مطابق2020/05/23ء

ashrafgondwi@gmail.com

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker