مضامین ومقالات

رکسول : لاک ڈاون میں جمعیۃ علماء کی مسیحائی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

محمد سیف اللہ رکسول

مبائل : 9939920785

ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول اور اس کے قرب وجوار کا پورا خطہ یوں تو آزادی کے بعد سے ہی حکومت کی بے مروتی اور عدم توجہی کے سبب معاشی بحران کا شکار ہوکر اپنی قسمت کا ماتم کرتا رہا ہے اور تنگ دستی و فاقہ کشی یہاں کے عوام کا مقدر رہی ہے اس کے نتیجے میں یہاں کی عوام کو جن مشکلات کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا رہا اس کی بھی اپنی ایک دلخراش داستان ہے جس کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے،لیکن افسوس اس طویل مدت میں نہ تو مرکز کی توجہ کبھی اس سرحدی خطہ کے مسائل کے حل کی جانب اٹھی اور نہ ہی ریاستی حکومت نے اس طرف توجہ دینا ضروری سمجھا ایسی صورت حال میں نتیجہ یہ ہوا کہ رکسول کا پورا منظر نامہ ہی ہمیشہ بدحالی کی دلدل میں پھنس کر سسکیاں لیتا رہا۔

ادھر کرونا کے نام پر 8 بجے والے صاحب کی جانب سے اچانک لاک ڈاون کے اعلان بعد جب سڑکوں سے لے کر ریل کی پٹریوں تک میں خون کی چھیٹیں نظر آنے لگیں اور ملک میں ایک عجیب وغریب قسم کی افراتفری نے جنم لیااس کا سیدھا اثر رکسول پر بھی پڑا،دیکھتے دیکھتے دکانیں بند ہو گئیں،سارے کاروبار نے دم توڑ دیئے،یومیہ مزدور کو فاقہ کشی نے آگھیرا،گھروں کے چولھے بند ہو گئے،لوگوں نے سرمایہ داروں کی طرف نگاہیں اٹھانی شروع کر دیں،حکومت کی جانب سے کئے ہوئے وعدے انہیں شدت سے آنے لگے،بے بس کسان بھوکوں مرنے لگا،معصوم بچوں کی چیخیں سنائی دینے لگیں،یکایک پوری انسانیت کو جو جہاں تھا وہیں رہنے پر مجبور کر دیا،ہند نیپال کی سرحد پر دونوں جانب پھنسے انسانوں کی بے بسی ماتم کی شکل لینے لگی،اس چنگیزی وہٹلری فرمان نے پوری انسانیت کو تباہی کے منہ میں دھکیل دیا، پیٹ کی آگ نے انہیں موت کا مسافر بنا دیا،ماوں کے پیٹوں میں پلنے والے بچے موت کی نیند سونے لگے،کتنے ہی شیر خوار بچوں نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں، لوگ لاشوں کو اپنے کندھے پر اٹھانے کو مجبور ہو گئےاور اپنے بوڑھے ماں باپ کو کندھوں پر لے کر چلنے والوں کی قطاریں لگ گئیں اور ہر طرف پھیلی بے بسی نے پوری انسانی بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

غرض یہ کہ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا،حکومتیں اپنے وعدے بھول کر خاموشی کی نیند سو رہی تھیں،مقامی نمائندے روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے، انتظامیہ تماشائی بن کر بے بسوں کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہی تھی،سرکاری ونیم سرکاری نمائندے فائلیں درست کرنے میں مصروف تھے،جن لوگوں کے کندھوں پر عوامی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں وہ راہ فرار اختیار کر رہے تھے،جس کی وجہ سے سڑکوں سے لے کر گلیوں تک افسردگی پھیلی ہوئی تھی،ایسے وقت میں ہمیشہ کی طرح غریب مزدوروں کی زندگیاں بچانے کے لئے کوئی سرکاری عملہ نہیں آیا،کسی سرکاری ایجنسی نے مسیحائی نہیں کی،کسی سرکاری تنظیم نے ان مزدوروں کے آنسو نہیں پوچھے،کسی ساہو کار کی موٹری نہیں کھلی،اپنی دولت پر ناز کرنے والوں کو انسانیت پر کوئی ترس نہیں آیا بلکہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہر کوئی اس طرح منظر نامے سے غائب ہو گیا کہ گویا ان غریبوں اور مزدوروں سے ان کا کوئی رشتہ نہیں،اپنے مزدوروں اور اپنے گھروں میں کام کرنے والے ملازموں تک کو لوگ بھول گئے،ایسے تکلیف دہ حالات میں ایک صحافی کی حیثیت سے جب میں نظر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو مجھے جمعیة علماء رکسول،اور آدا پور بلاک کے سابق پرمکھ محمد اسلم سمیت ان لوگوں پر رشک آتا ہے جنہوں نے لاک ڈاون کے پہلے ہی دن سے غریبوں کے درد کو محسوس کیا ان کی آہیں سنیں،ان کے دکھ درد کو بانٹا،ان کے احساس کو سمجھنے کی کوشش کی اور عام سڑکوں سے لے کر گلیوں تک مزدوروں کی داد رسی کے لئے پھیل گئے انہوں نے اپنی اس مہم میں ذات مذہب کی بھی کوئی تفریق نہیں کی بلکہ بلا تفریق انسانی جذبے کے تحت ہر ضرورت مند تک پہونچنے اور ان کے سوکھے ہوٹوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی،انہوں نے بند ہوتے چولھوں کو زندگی دی، دودھ کے لئے تڑپتے بچوں کے لئے دودھ کا انتظام کیا،بیمار لوگوں کے علاج کی سبیلیں نکالیں اور اس طرح گویا ان کی احساس میں ڈوبی نگاہیں ملک کے ٹھیکیداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہ رہی تھیں کہ تم نے ہمیشہ غریبوں کا مذاق بنایا اور اپنے آقا کی نگاہوں سے ان غریبوں کو چھپانے کے لئے دیواریں بنائیں،مگر ہم نے ان دیواروں کو پھاند کر محتاجوں کی مدد کی،اپنی تنگ خیالی سے مجبور ہوکر تم نے ہمیشہ قتل عام کرائے،جگہ جگہ نفرت پھیلائیں،ہمارے کردار کو نشانہ بنانے کے لئے ہمیں گالیاں دیں،مگر ہم نے انسانیت کا سبق پڑھا کر محبت کے دیپ جلائے اور تمہیں دعائیں دیں، تم نے مزدوروں پر ظلم کئے اور ہم نے انہیں گلے لگایا،تم نے غریبوں پر قہر ڈھائے اور ہم نے ان پر پھول برسائے، تم نے عوام کے نوالے چھینے اور ہم ان کا پیٹ بھرنے کے لئے اپنے بچے بوڑھے کے ساتھ آگے آئے، تم نے مزدوروں کو بے یارو مددگار،بھوکے ننگے سڑکوں پر سنسان اجنبی راستے کے حوالے کردیا اور ہم قدم قدم پر ان کے لئے راحت کا سامان لے کر حاضر رہے، تم نے سماج میں آگ لگائی اور ہم نے اس آگ پر محبت کا پانی ڈالا، تم نے نفرت کی آگ پھیلانے،دنگا کرانے، ملک کو ہندو مسلم کے خانے میں بانٹنے اور ملک کو خانہ جنگی کا شکار بنانے تک ملک کو برباد کرنے کے سارے حربے اپنائے،مگر ہم نے تمہارے ان حربوں اور سازشوں کو اپنے عزم واستقلال سے ناکامی کی منزل تک پہونچایا،ورنہ یہ بات مت بھولو کہ اگر ہم نے بھی تمہاری راہ اپنائی ہوتی،اگر ہم نے تمہارے جرموں کا حساب لے لیا ہوتا تو تم کب کے تاریخ کا حصہ بن گئے ہوتے اور زمانہ تم سے تمہاری بے حسی کا حساب مانگ رہا ہوتا،اگر ہم اپنے گھروں سے نکل کر سڑک پر نہ آئے ہوتے تو نہ جانے کتنی انسانیت کراہ کراہ کر دم توڑ چکی ہوتی،کتنے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر خاموشی کی نید سو گئے ہوتے اور کتنے ہی یتیموں بے سہاروں نے موت کو گلے لگا لیا ہوتا،
اگر ہم نہ ہوتے تو تیری وہ دیوار بھی گر گئی ہوتی جس کو تونے ٹرمپ سے چھپا نے کے لیے اٹھائی تھی 30 فیصد لوگ مر گئے ہوتے جن کو تونے اپنے جملوں کے زہریلے گھونٹ پلائے تھے ، آج وہ ہم ہی ہیں جو اپنے بچوں اور بچیوں کی شادیوں کے لیے رکّھے پیسے کپڑے اور دگر سامان ان ضرورت مندوں کو دیدیے جن کو بھوک پیاس نے تڑپا دیا تھا، آج پورے ملک کے مسلمان انہی ضرورت مندوں کو بھوکا نہیں مرنے دینے کے لیے اپنی عید کو بھی سادگی سے منانے کا عہد کیا اور کوئی خریداری نہیں کی،تم نے تو ہم سے وفا داری کا ثبوت مانگا تھا مگر ہم نے تو اپنے سارے عمل کو وفاداری کے خوبصورت جھولے میں ڈال دیا اگر یقین نہ آئے تو سڑکوں پر اتر کر ہماری قوم کے بچوں کو دیکھ لو،ان کے چہروں کے اتار چڑھاو کو پڑھو اور اندازہ لگاو کہ ان معصوموں نے تمہارے سروں سے کس طرح بدنامی کے داغ کو دھونے کے لئے اپنی قربانیاں دی ہیں، بس یہ سمجھ لو کہ تم ہمارے خلاف نفرت پھیلانے میں لگے رہے مگر ہم نے اسے محبت کے ماحول میں بدل کر اپنا فرض پورا کیا کیونکہ یہ مجھے میرے آقا کی طرف سے ذمہ داری ملی تھی اگر ہم ایسی مصیبت کی گھڑی میں سامنے نہ آتے تو شاید قیامت کے دن جوابدہی ہمیں شرمندہ کر دیتی۔
رکسول کے مجموعی منظر نامے کا جائزہ لیتے ہوئے جب اس نمائندہ نے جب مفتی ضیاءالحق سکرٹری جمعیةعلماء رکسول سے بات کی اور ان سے ان کے اب تک کے اقدامات کی تفصیلات پوچھیں تو انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن لگنے سے لیکر اب تک کئی ہزار خاندانوں کو راشن کٹ بانٹے گئے اور جو ایسے حالات میں بھی اپنے منہ نہیں کھولے تو اُنکے گھروں پر جاکر شب کی تاریکی میں راشن کا کٹ پہونچایا گیا تاکہ سماج کا کوئی بھی فرد بھوکا نہ سوئے،انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ قدم آدا پور کے سابق پرمکھ محمد اسلم جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائیوں کا مرہون احسان ہے اگر وہ نہ ہوتے تو شاید عوامی مفادات کے تحفظ کے لئے مصیبت کی اس بھیانک گھڑی میں اتنا بڑا قدم اٹھا پانا آسان نہیں ہوپاتا،انہوں نے کہا کہ ہماری یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عام زندگی بحال نہیں ہو جاتی،انہوں نے واضح کیا کہ سماج کا ہر فرد ہماری محبت کے زیر اثر ہے اور میں ہر کسی کی خدمت کرنے کو اپنا فرض مانتا ہوں ۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker