ہندوستان

جامعہ فیض القرآن وسئی کے ذمہ داران کاقابل تقلیدقدم،مساجدکے امام وموذن اورمدارس کے اساتذہ کی خاموش مددکاکیافیصلہ

ممبئی: 24؍مئی(پریس ریلیز)
مولانامحمداسجدقاسمی ناظم جامعہ فیض القرآن ریچرڈ وسئی ضلع پال گھر مہاراشٹرنے پریس بیان جاری کرکے یہ اطلاع دی ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب اچانک تالہ بندی اور لوک ڈاؤن کے حکومتی فیصلے نے ہر طبقے کو متاثر کیا۔بالخصوص وہ طبقہ جو کسی کے ماتحتی میں کام کررہا تھا شدید تکلیف میں آگیا۔بہت سارے لوگ جو ہر روز کواں کھود کر گویا پانی بھرنے والے تھے ان کے تو کھانے پینے اور دوا دارو کے لالے پڑگئے. ان حالات میں بہت سارے ٹرسٹوں اور تنظیموں کے ذمہ داران سامنے آئے اور جنگی پیمانے پر راشن اور کھانے کا انتظام کیا. ان حالات میں جامعہ فیض القرآن کے ذمہ داروں نے محسوس کیا کہ بہت ساری مساجد کے ائمہ انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ہیں. یہ سفید پوش حضرات اپنی کہانی کس کو سنائیں. لوگ تو مزدوروں غریبوں اورمستحقین زکوٰۃ کی امداد میں مشغول تھے. ایک امام کے گھر میں ڈلیوری تھی جیب میں ضروری خرچہ بھی نہیں تھا ایک امام صاحب کی والدہ ماجدہ کو ڈائلیسس کی ضرورت تھی. ایک امام اور مؤذن صاحب کو پچھلے تین مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ان کے راشن پانی اور بچوں کے دودھ کی ضرورت نہیں پوری ہو پارہی تھی. ان تمام مسائل اور مشکلات کے پیش نظر جامعہ فیض القرآن کے ذمہ داروں نے میٹنگ کرکے فیصلہ لیا کہ حتی الامکان ان ائمہ کی خبر گیری کی جائے. چنانچہ گذشتہ 25 رمضان کو یہ اشتہار شائع کیاکہ جس امام یا مؤذن کو ضرورت ہو جامعہ فیض القرآن کو رابطہ کرکے اپنا نام اور رابطہ نمبر بھیج دیں انشاءاللہ آپ کے مقام و مرتبہ کا احترام رکھتے ہوئے آپ کا نام مخفی رکھا جائے گا اور انتظام ہوتے ہی آپ سے رابطہ کرکے آپ کے مقام تک پہنچا دیا جائے گا. چنانچہ اشتہار شائع ہوتے ہی بیت سارے احباب نے رابطہ کیا. تادم تحریر رابطہ جاری ہے. الحمد للہ کچھ رقم کا انتظام ہوا ہے. لیکن ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے. اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان وارثین انبیاء کرام کی بہترین کفالت فرمائے تاکہ یہ احباب بالکل فارغ البال ہوکر دلجمعی کے ساتھ دین حق کی خدمت میں مشغول رہیں.

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker