Baseerat Online News Portal

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

مکرمی!
شوال اسلامی تقویم کا دسواں مہینہ ہے،یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے وہ بڑی خوشی کا دن لیکر آتا ہے جسے لوگ عید الفطر کے نام سے جانتے ہیں،اس دن اللہ نے روزہ رکھنا حرام قرار دیا ہے ،تاکہ رمضان کے مقدس مہینہ میں بندہ نے بھوک اور پیاس کی جس شدت کو برداشت کیا ہے،اسے اس خوشی کے دن بھلا کر وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے خوب لطف اندوز ہوسکے،اور جوش و خروش اور بڑی عقیدت کے ساتھ اس دن کو مناسکے،لیکن عید الفطر کے بعد اللہ تعالٰی نے کچھ ایسے روزے بھی رکھے ہیں جو اگرچہ فرض کی حیثیت نہیں رکھتے تاہم اسکی جزا فرض سے کم بھی نہیں ہے،یہ شوال المکرم کے چھ روزے ہیں جنکے بارے میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ دن کے روزے رکھے تو یہ اس کے لیے(ثواب کے لحاظ سے) سال کے روزے ہونگے،(صحیح مسلم 1164) یہ حدیث ترمذی،ابوداود،ابن ماجہ اور مسند احمد میں بھی وارد ہوئی ہے، اس کی شرح بیان کرتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت بتصریح اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے جیسا کہ شوافع اور حنابلہ کا موقف ہے،اگرچہ امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمہما اللہ نے اسے مکروہ قرار دیا ہے،لیکن انہوں نے جو علت بیان کی ہے وہ قیاس مع الفارق کے قبیل سے ہونے کے سبب اس صریح حدیث کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی،
امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث (759)کو پیش کرنے کے بعد فقہ الحدیث پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس مسئلے میں جابر،ابوہریرہ اور ثوبان رضی اللہ عنہم سے بھی حدیثیں مروی ہیں،اسی لئے علماء کی ایک جماعت نے شوال کے چھ دنوں کے روزے رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے،امام ترمذی نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا بھی قول نقل کیا ہے جس میں انہوں نے ہر مہینے کے تین روزوں کی طرح اسے بھی بہترین عمل بتایا ہے،عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض احادیث میں ان کو رمضان کے ساتھ ملانے کا حکم وارد ہوا ہے،تاکہ رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ساتھ ان چھ روزوں کی بدولت مکمل سال روزے رکھنے کاثواب حاصل ہوجائے،اور اس طرح بندہ جب اللہ سے ملے تو اس حال میں ہو کہ وہ ساری زندگی روزے کی حالت میں گزارنے کا ثواب حاصل کرچکا ہو،امام احمد،ابن ماجہ اور ابن خزیمہ نے اپنی اپنی کتابوں میں ایک حدیث روایت کی ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان روزوں کے ثواب کی وضاحت فرمائی ہے،حدیث یوں ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے مکمل روزے رکھے تو ایک مہینہ کا ثواب دس مہینوں کے برابر ہے،اور عید الفطر کے بعد چھ دنوں کے روزے دو مہینوں کے روزے کے برابر ہے،چنانچہ یہ مکمل ایک سال ہوا،قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا: جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس حصے ملیں گے (الانعام 160)ابن ماجہ 1715،یہی وجہ ہے کہ امام الاولیاء حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس شوال کے چھ روزوں کا تذکرہ ہوتا تو وہ فرماتے اللہ کی قسم یقینا اللہُ تعالی سارے سال کے روزوں کے بدلے اس ماہ کے روزوں سے راضی ہوگیا،(یعنی اس ماہ کے چھ روز ے سال بھر کے برابر ہیں)۔
لیکن یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جس شخص نے رمضان کے روزے کسی عذر کی بناء پر مکمل نہیں رکھے تو اسکے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے فرض روزوں کی قضاء کرے،پھر اسکے بعد پورے مہینہ میں پے در پے یا متفرق طور پر ان چھ روزوں کو رکھ کر خود کو انعامات خداوندی کا مستحق بنائے۔
حافظ عبدالسلام ندوی (مظفرپور بہار)

You might also like