مضامین ومقالات

تیرے در کے سوا کوئی دوسرا در نہیں

اسجد عقابی
عالم انسانیت کیلئے یہ سال 2020 ہمیشہ تاریخ میں موجودہ عالمی کورونا وائرس کی وجہ سے یاد کیا جاتا رہے گا۔ غالباً یہ تاریخ انسانی کا پہلا موقع ہے، جب پوری انسانیت اپنی تمام تر طاقت و قوت، اسباب و وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور ادویات کے بیش بہا خزانے سمیت لاچار و مجبور بنی بیٹھی ہے، اور کہیں سے کوئی مدد اور پناہ کی امید بھی نہیں رہ گئی ہے۔ چاند پر کمندیں پھینکنے والے اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ سمندر کی تہوں سے لعل و گوہر یافت کرنے والے عزلت پسندی کی زندگی جئے جارہے ہیں۔ آسمانوں کی بلندیوں کو چھونے والے اور انہیں مسخر کرنے کا دعویٰ کرنے والے خاموش ہیں۔ پوری دنیا کو مٹھی میں قید کرنے کا فیصلہ کرنے والے اپنی خوابگاہوں میں مقید ہیں۔ پوری دنیا میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ایک مہیب سناٹا ہے۔ پراسرار روشنی ہے، لیکن تاریکی کا دغدغہ اپنی چادر پھیلائے ہر سمت پسرا ہوا ہے۔ اور اس تاریکی اور گہری خاموشی میں ایک آواز، ایک صدا، ایک پکار ہے، جو بار بار کانوں سے ٹکراتی ہے۔ جو ان انسانوں کو جن کے نزدیک زندگی شکم مادر سے شروع ہوکر لحد پر ختم ہوجاتی ہے، انہیں دعوت فکر و نظر دے رہی ہے۔ انہیں باور کرایا جارہا ہے۔ زندگی کا یہ قلیل وقفہ جو شکم مادر سے شروع ہوتا ہے، اور اس کی ایک منزل شکم قبر پر پہونچ کر مکمل ہوتی ہے، ان لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، جن کی زندگی کی تگ و دو کا حاصل یہی مختصر حیات ہے۔ جن کی جستجو کا نتیجہ یہی قلیل مدت کی کامیابی ہے۔ ایسے افراد کو کیا یہ بات سمجھ نہیں آتی ہے (لمن الملک الیوم، للہ الواحد القھار)۔ کہاں ختم ہوگئے وہ اسباب و آلات جن پر کل تک یہ نازاں تھے۔ یہی تو مطلب ہے آیت قرآنی کا کہ، اس دنیا کی حیثیت، دنیا بنانے والے کے نزدیک پھسپھسی تار عنکبوت سے زیادہ نہیں ہے۔ پھر کن باتوں پر یہ انسان اترایا کرتے ہیں۔ دندناتے پھرتے ہیں اور اپنی ایجادات اور انکشافات کو اپنی ذاتی صلاحیت گردانتے ہیں۔ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ صلاحیتیں، جو تمہارے اندر ودیعت ہے، یہ کس نے عطا کی۔ ان صلاحیتوں کو عطا کرنے والی ذات کون ہے۔ کیوں یہ اپنے رب حقیقی کو بھول جاتے ہیں۔ کیوں عارضی چیزوں پر اس قدر متمکن ہوجاتے ہیں کہ خالق کائنات سے رشتہ توڑ لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ تو آنکھوں دیکھا، ہر دن، ہر گھڑی کا مشاہدہ ہے کہ، اس دنیا سے سمیٹ کر کوئی کچھ نہیں لے جاتا ہے۔ جو کچھ جمع کرتا ہے، ذخیرہ اندوزی کرتاہے، سب کچھ دھرا کا دھرا رہ جاتاہے۔
کتنا بے بس ہے انسان۔ کاروبار و تجارت بند ہیں، معاشی نظام کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی ہے۔ یہ نتیجہ ہے، انسانی خام عقلوں کے ذریعے بنائے گئے قانون کا۔ جب خدائی قانون سے مفر ہوگا تو کہیں کوئی پناہ نہیں مل سکتی ہے۔ انسان جو، خود اپنے وجود کو باقی رکھنے کا مالک و مختار نہیں ہے۔ جسے عدم سے وجود بخشنے والی طاقت وہ ذات گرامی ہے، جس کے کلمہ (کن) کے ذریعہ نظام عالم وجود میں آیا ہے۔ جس کے نازل کردہ احکامات عین فطرت ہیں۔ جس میں راہ، راہبر اور راہ رو سب کی رعایت ہے۔ جس راہ کا راہی کبھی گم گشتہ راہ نہیں ہوا ہے۔ یہ انسان، اور اس کے ذریعہ بنائے گئے اصول و ضوابط، جو قانون فطرت کے خلاف ہو، کیونکر، اور کس طرح بار آور ثابت ہوسکتے۔ فطرت سلیمہ سے کنارہ کشی اور زور آزمائی کے عوض بے چینی، اضطراب، بے کسی اور افسوس کے سوا کیا حاصل ہوسکتا ہے۔
پوری دنیا میں ایک عجیب سی کشمکش ہے۔ لوگ اپنوں سے دور ہیں۔ اپنوں سے خوفزدہ ہیں۔ اپنوں سے ملنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اپنوں کی تیمارداری سے کترا رہے ہیں۔ اپنوں کو اپنانے سے دور بھاگ رہے ہیں۔ اپنوں سے ملاقات سے بچنا چاہ رہے ہیں۔ حتی کہ میت کے آخری دیدار کو، وہ اپنے جن کیلئے پوری زندگی وار دی گئی تھی، جن کی خوشیوں کی خاطر تنکہ تنکہ چن کر آشیانا بنایا گیا تھا، لیکن آج افسوس اسے دیکھنے کیلئے، اس کی آخری رسومات کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان (یوم یفر المرء من اخیہ) کی اس سے بہتر تعبیر اور کیا ہوسکتی ہے۔ خدا کا یہ فرمان جسے بروز قیامت کی منظر کشی کیلئے بیان کیا گیا ہے۔ عزیز مقتدر نے دنیا میں ہی اس کا نمونہ دکھا دیا ہے۔ یہ درس عبرت ہے ان لفاظی کرنے والوں کیلئے اور تازیانہ عبرت ہے ان نام نہاد دانشوروں کیلئے جو یہ سمجھتے تھے کہ یہ تو ہوائی باتیں ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو اپنے اسباب و وسائل پر اتراتے ہیں۔ اپنی کثرت پر فخر کرتے ہیں۔ اپنے جاہ و منصب کے زعم باطل میں غریبوں کیلئے عذاب بنے جاتے ہیں۔ اپنی مالداری اور زر و جواہر کی رنگا رنگی میں خدائی فرمان (و منھا نخرجکم تارة اخري) کو بھول جاتے ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ، جن کی زندگی کی تمام سعی، اور تمام جد و جہد کا حاصل محض شکم مادر سے شکم قبر تک کے وقفہ کو سدھارنے اور اسے مزید سے مزید تر دلکش بنانا ہے، وہ بھی اپنی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ اسی ذات گرامی سے، اسی مالک الملک سے جس کا دعویٰ ہے (للہ الواحد القھار)۔ امید تو اسی سے ہے۔ لیکن افسوس کہ انسانیت ضلالت و گمراھی میں اس مقام پر پہنچ گئی ہے جسے قرآن نے (و کنتم علی شفا حفرة من النار) سے تعبیر کیا ہے۔
کیا یہ مناسب نہیں ہوتا کہ، انسانیت اس نازک وقت میں، جبکہ اس کے وسائل بےکار ثابت کئے جاچکے ہیں، اس الحی القیوم کی جانب پھر سے پلٹ جائے، اپنے کئے پر نادم و پشیمان ہو، اپنی عارضی کامیابی کو حقیقی کامیابی سے بہتر نہ گردانے، اس ذات باری کے احکامات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، اور اس کے بتائے ہوئے راستے میں ہی اپنی عافیت اور کامیابی کی منزل تلاش کریں۔ ہونا تو یہی چاہئے، اور خدائے واحد سے امید ہے اور دعا ہے کہ انسانیت کو راہ مستقیم کا راہی بنائے۔ انسانیت اور انسانوں کی فلاح و بہبود کا واحد اور ضامن راستہ یہی ہے کہ مالک حقیقی رب العالمین کے بتائے احکامات پر عمل پیرا ہوا جائے۔جس میں دین و دنیا کی کامیابی کا راز مضمر ہے-

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker