مضامین ومقالات

مندروں کا سیاح مسجد کیوں پہنچا؟

معصوم مرادآبادی

وزیراعظم نریندرمودی نے حال ہی میں خلیجی مملکت متحدہ عرب امارات کا کامیاب دورہ کیا۔ اس دورے کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے جہاں ایک طرف امارات کو ہندوستان میں 4لاکھ 89کروڑ کی سرمایہ کاری پر راضی کرلیا، وہیں امارات کی حکومت سے ابوظہبی میں ایک عالیشان مندر تعمیر کرنے کے لئے آراضی بھی لے لی۔ امارات ہندوستان میں جس خطیر رقم کی سرمایہ کاری کرے گا، اتنا سرمایہ تو امریکہ چین اور جاپان مل کر بھی ہندوستا ن میں نہیں لگارہے ہیں۔وزیراعظم مودی کے اس دورے کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ وزیراعظم بننے کے بعد پہلی مرتبہ کسی مسلم ملک میں گئے ہیں اور وہاں انہوں نے اپنے دورے کا آغاز ایک مسجد کے دیدار سے کیا ہے۔ ابوظہبی میں واقع دنیا کی حسین ترین مساجد میں سے ایک شیخ زائد مسجد اپنی رعنائی اور حسن کے اعتبار سے منفرد ہے اور اسے دنیا کی تیسری بڑی مسجد کہاجاتاہے۔واضح ہوکہ ابوظہبی میں ابھی تک کوئی مندر موجود نہیں تھا جبکہ دبئی میں کرشن اور شیو کے دومندر موجود ہیں۔ متحدہ عرب امارات سعودی عرب کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ہندوستانی آباد ہیں۔ امارات میں ہندوستانیوں کی مجموعی آبادی 26لاکھ ہے جو امارات کی کل آبادی کا 30فیصد ہے۔ابوظہبی کی شیخ زائد مسجد میں داخل ہوکر وہاں کی سیر کرنا وزیراعظم مودی کا ایک ایسا قدم تھا جس سے ہندوستان میں موجود فرقہ پرست اور تنگ ذہن عناصر چراغ پا ہوسکتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے امارات کے حکمرانوں سے ابوظہبی میں مندر کی تعمیر کے لئے اراضی فراہم کرنے کا وعدہ لے کر ان کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ۔ مودی کے مداح ایک سینئر ہندی صحافی ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک کے لفظوں میں ’’ابوظہبی میں شیخ زائد مسجد میں جاکر اور مندر کے لئے زمین لے کر مودی نے ایک تیر سے کئی شکار کرلئے ہیں۔ ہندوؤں کی واہ واہی بھی لوٹ لی اور مسلمانوں کی بھی ۔‘‘
وزیراعظم نریندرمودی اقتدار سنبھالنے کے 15مہینوں کے دوران یوروپ اور امریکہ اور ایشیا کے متعدد ممالک کا سفر کرچکے ہیں اور ان ممالک میں اپنا رنگ جمانے کے لئے انہوں نے سرکاری خزانے سے کروڑوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ ان کے دوروں کو کامیاب بنانے کے لئے ان ممالک میں مقیم سنگھ پریوار کے ہمدردوںنے بڑی جانفشانی کی ہے لیکن ان ملکوں کے سفر کے دوران وزیراعظم مودی ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکے جسے بیان کیاجاسکے۔ لیکن کسی مسلم ملک کے اپنے پہلے ہی سفر میں ان کی جھولی بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی نے ابوظہبی کی شیخ زائد مسجد میں وزیراعظم کی حاضری کو ان کی مذہبی رواداری سے تشبیہ دی ہے۔ لیکن یہاں پوچھاجانے والا سوال یہ ہے کہ وہ شخص جو اندرون ملک مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرنے سے ہمیشہ دامن بچاتا رہا ہو، اس نے بیرون ملک اس رواداری کو ضروری کیوں گردانا ۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ وزیراعظم مودی اب تک ملک میں موجود تمام فرقوں ، طبقوں اور یہاں تک کہ قبائلی باشندوں کی دستار کو اپنے سر کی زینت بناچکے ہیں۔ لیکن انہوں نے آج تک اس ٹوپی کو اپنے سرپر رکھنے سے دیدہ ودانستہ گریز کیا ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک علامت تصور کی جاتی ہے۔ احمدآباد میں اپنی مسلم مخالف شبیہ درست کرنے کے لئے انہوں نے وزیراعلیٰ کے طورپر ایک پروگرام کے دوران کچھ مسلمانوںکو اسٹیج پر بلایا تھا۔ لیکن ان میں سے جب ایک درگاہی مسلمان نے انہیں ٹوپی پہنانے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کا ہاتھ روک لیا اور کہاکہ وہ ٹوپی نہیں پہنیں گے۔ حالانکہ تب سے اب تک حالات بہت بدل چکے ہیں اور مودی اس بات کے شدید خواہش مند ہیں کہ نمائندہ مسلمانوں کا کوئی وفد ان سے ملاقات کرکے ان کی عزت افزائی کرے۔ اس سلسلے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدیداران پر ان کی خاص نظریں ہیں۔لیکن اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی سربرآوردہ مسلم وفد نے ان سے ملاقات نہیں کی ہے البتہ مسلمانوں جیسے نظر آنے والے کچھ گندم نما جوفروش ان کے دربار میں حاضری لگاکر حق نمک ادا کرچکے ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم نے ابوظہبی کی شیخ زائد مسجد میں اس لئے قدم رکھا کہ وہ بہار کے انتخابات میں مسلم رائے دہندگان کو اپنی طرف راغب کرسکیں۔ لیکن غور سے دیکھاجائے تو وزیراعظم کے دورۂ امارات کا اصل مقصد ان کے مجوزہ دورہ اسرائیل کو جواز فراہم کرنا ہے۔ اسرائیل کے سفر کو آسان اور مفید بنانے کے لئے وہ کچھ مسلم ممالک میں اپنی حاضری درج کرانا چاہتے ہیں۔ امارات کے سفر کے بعد وہ آئندہ اکتوبر میں سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھنے والے ہندوستان کے پہلے وزیراعظم ہوں گے۔ انہیں اسرائیل سے خاص لگاؤ ہے اور اس لگاؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ ہندوستان اور یہودی مملکت کے درمیان معاشی ، دفاعی اور زندگی کے دیگر میدانوں میں تعاون اور اشتراک آسمان کو چھورہاہے۔ حال ہی میں انڈین پولیس سروس کے 75سے زیادہ زیر تربیت افسران نے اسرائیل جاکر داخلی امور اور سرحدی امور سے نپٹنے کی خاص ٹریننگ حاصل کی ہے۔ اس وقت ہندوستانی قیادت کے جتنے قریبی رشتے اسرائیل کے ساتھ ہیں اتنے شاید ہی کسی دوسرے ملک کے ساتھ ہوں۔ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور وزیراعظم نریندرمودی اکثر فون پر راز ونیاز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیل کے خلاف پیش ہونے والی حقوق انسانی کی پامالیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک قرارداد پر ووٹ دینے سے ہندوستان نے انکار کردیا تھا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابوظہبی کی شیخ زائد مسجد اپنے طرز تعمیر اور حسن ورعنائی کے اعتبار سے انتہائی منفرد اور دلکش ہے۔ کوئی تین برس قبل جب راقم الحروف نے اس مسجد کو دیکھاتھا تو بے ساختہ اس کے معماروں کو داد دینے کا جی چاہا تھا۔ لیکن ہندوستان دنیا کے ان معدود ے چند ملکوں میں سے ایک ہے جہاں مسلم دور حکومت میں تعمیر ہونے والی تاریخی مسجدوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے کبھی اس بات کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ وہ خود اپنے ملک کی کسی مسجد میں جاکر سیلفی اتارتے۔ مسجد توکجا وزیراعظم کسی ایسی تقریب میں بھی شرکت نہیں کرتے جس میں مسلمان کثیر تعداد میں موجود ہوں۔ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد نہ صرف پی ایم ہاؤس میں منعقد ہونے والی افطار پارٹی کا سلسلہ منقطع کیا بلکہ وہ صدر جمہوریہ کی افطار پارٹی میں شرکت سے بھی پہلو تہی کی ۔حالانکہ پروٹوکول کے اعتبار سے ان کے لئے اس افطار پارٹی میں شریک ہونا ضروری تھا۔ اب تک باجپائی سمیت جتنے بھی وزیراعظم گزرے ہیں وہ باقاعدگی سے صدرجمہوریہ کی افطار پارٹی میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ لیکن وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے اوپر کوئی ایسا الزام نہیں لگنے دیا جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ وہ مسلمانوں کی ’منہ بھرائی ‘کررہے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے اور ہندوراشٹر کے نقشے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی کسی ملک کے سفر پر جاتے ہیں تو وہاں کے حکمرانوں کو پیش کرنے کے لئے گیتا اور گنگا جل لے جانا نہیں بھولتے۔ وہ ان ملکوں میں موجود مندروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کے درشن کرتے ہیں۔ اگر انہیں ہندوستانی آئین کی بنیادی روح کا پاس ہوتا تو وہ یقینا سیکولرزم کو فروغ دینے کے لئے غیر ملکی رہنماؤں کو گنگا جمنی تہذیب سے متعلق کوئی علامت پیش کرتے۔ ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ وزیراعظم اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ کیونکہ عام انتخابات کے دوران انہوں نے جوحکمت عملی تیار کی تھی اس کا مقصد مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کو ختم کرکے ہندوتو کا پرچم بلند کرنا تھا جس میں انہیں خاطرخواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ملک کی پارلیمنٹ میں پہلی بار مسلم نمائندگی سب سے کم تعداد میں درج کی گئی۔ یہاں تک کہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش سے ایک مسلم نمائندہ بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔ہندوراشٹر کی راہ ہموار کرنے کے لئے مسلمانوں کو سیاسی طورپر بے اثر بنانا بی جے پی اور سنگھ پریوار کی حکمت عملی کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے ۔
ایک مسلم مملکت کی فراخ دلی دیکھئے کہ وہ اپنی سرزمین پر مندر بنانے کے لئے جگہ دیتی ہے لیکن جس ملک کا وزیراعظم مندر بنانے کے لئے جگہ کا طلب گار ہے، اس میں خود اس کی پارٹی کے چوٹی کے لیڈران مسجدوں کو شہید کرنے کے مجرم ہیں۔ ان کے پاس بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد متھرا اور کاشی سمیت ملک کی تین ہزار مسجدوں کی فہرست ہے جنہیں توڑ کر وہ مندر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ ہم آپ کو یاد دلادیں گہ جس وقت وزیراعظم نریندرمودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے اور وہاں 2002میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی تو اس دوران تقریباً600 مسجدیں شہید کی گئیں۔شرپسندوںنے میونسپل کارپوریشن اور انتظامیہ کی مدد سے ان مسجدوں کو زمیں بوس کرکے وہاں راتوں رات مندر تعمیر کرلئے تھے۔ اتنا ہی نہیں شہرۂ آفاق شاعر ولی گجراتی کے مزار سمیت درجنوں مزار بھی تباہ کردیئے گئے جن کی تعمیرنو کی اجازت آج تک نہیں ملی ہے۔ فرض کیجئے اگر امارات کے حکمراں وزیراعظم کی طرف سے ابوظہبی میں مندر تعمیرکرنے کی تجویز کے جواب میں یہ کہتے کہ اگر وہ اپنے ملک میں شہید کی گئی مسجدوں کی تعمیر نوکرادیں تو انہیں ابوظہبی میں ایک عالیشان مندر تعمیر کرنے کی اجازت دینے میں کوئی قباحت نہیں ہوگی تو وزیراعظم کا جواب کیا ہوتا؟
masoom.moradabadi@gmail.com
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker