Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا * بانی وناظم المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد

مقتدیوں کے لئے لمبارکوع کرنا
سوال:- امام صاحب نماز پڑھا رہے تھے ، اور رکوع میں اٹھنے کا ارادہ تھا ، محسوس ہوا کہ کچھ لوگ نماز میں شرکت کے لیے آرہے ہیں ، ایسی صورت میں ان کی رعایت کرتے ہوئے رکوع کو تھوڑا طویل کردینا ؛ تاکہ وہ بھی جماعت پاجائیں ، درست ہوگا ؟ ائمۂ مساجد کو اس کی نوبت پیش آتی رہتی ہے ۔ ( محمد قمرالدین، بیڑ)
جواب :- حدیث میں یہ بات آئی ہے کہ رسول اللہ ا بعض اوقات بچوں کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیا کرتے تھے ؛ کیوں کہ ان کی مائیں نماز میں شریک رہتی تھیں ، اس سے معلوم ہوا کہ فی الجملہ شرکائِ نماز کی رعایت شریعت کے خلاف نہیں ، فقہاء نے لکھا ہے کہ کسی آنے والے متعین شخص کے آنے کا احساس کرتے ہوئے نماز کو طویل کرنا مکروہ ہے ؛ کیوں کہ اس میں خیال ہوتا ہے کہ اس کی وجاہت سے متأثر ہو کر نماز طویل کی گئی ہے ؛ حالانکہ نماز ہے ہی اس لیے کہ انسان اللہ کی بڑائی اور کبریائی کے سوا ساری بڑائیوں کو دل سے نکال دے ، ہاں!اگر کسی متعین شخص کی رعایت میں نماز کو لمبی نہ کرے ، بلکہ پہچانے بغیر آنے والوں کی رعایت میں رکوع کو ایک دو تسبیح کے بقدر لمبا کردے تو یہ درست ہے ، مگر اتنی ہی مقدار رکوع کو طویل کرسکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں ؛ تاکہ دوسرے نمازیوں کے لیے گرانی کا باعث نہ ہو: فإن کان الإمام عرف الذي یجیٔ ، یکرہ ؛ لأن ذلک یشبہ المیل إلیہ ، و إن کان لا یعرف ، لا بأس بذلک مقدار تسبیحۃ أو تسبیحتین مقدار ما لا یثقل علی من خلفہ (کتاب التجنیس والمزید لصاحب الہدایہ: ۲؍۱۶)

ٹیپ کی ہوئی دعاء پر آمین کہنا
سوال:- اگر ٹیپ رکارڈ میں دعائیں محفوظ ہوں اور رکارڈر پر انہیں سنا جائے ، تو کیا اس پر آمین کہنا چاہیے ؟ ( سید حسنین، کریم نگر)
جواب:- کسی دعاء پر آمین کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آمین کہنے والا بھی اس دعاء میں شریک ہے اور دعاء کرنے کے لیے یہ بات ضروری نہیں ہے کہ مکلف شخص ہی دعاء کرے ، دعاء نابالغ بھی کر سکتا ہے ، یہاں تک کہ غیر مسلم بھی دعاء کرسکتا ہے ؛ اس لیے ٹیپ رکارڈ کی دعاء پر آمین کہنا جائز ؛ بلکہ مستحب ہے ، اور آمین کہنے والا ان شاء اللہ ان دعاؤں کو مانگنے والا متصور ہو گا ۔

ستۂ عید کس طرح رکھے جائیں ؟
سوال:- عید کے بعد جو چھ روزے ستۂ شوال کے نام سے رکھے جاتے ہیں ، اس کا حکم کیا ہے ؟ ان روزوں کو ایک ساتھ رکھنا چاہئے یا الگ الگ ؟ ( محمد مصطفیٰ، بیگم پیٹ)
جواب:- رسول اللہ ا نے ان روزوں کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے ؛ اس لئے یہ روزہ مستحب ہے ، انہیں مسلسل بھی رکھا جا سکتا ہے اور الگ الگ بھی ، فقہاء نے لکھا ہے کہ بہتر ہے کہ ہر ہفتہ میں دو دن روزہ رکھ لیا جائے ، اس طرح شوال کے تین ہفتوں میں چھ روزے مکمل ہو جائیں گے: تستحب الستۃ متفرقۃ ، کل أسبوع یومان (ہندیہ: ۱؍۲۰۱)

احرام باندھنے کے بعد عمرہ نہیں کرسکے ؟
سوال:- میرے ہم زلف اور نسبتی ہمشیرہ سعودی عرب میں مقیم ہیں ،یہ دونوں عمرہ کی نیت سے جدہ سے احرام باندھ کر بذریعہ کار مکہ کے لئے روانہ ہوئے ، دورانِ سفر مکہ سے بہت پہلے ان کی کار حادثہ کا شکار ہوگئی ، دونوں کو شدید چوٹ آئی ، میرے ہم زلف کا آپریشن ہوا ، اور نسبتی ہمشیرہ کو ٹانکے لگے اور عمرہ بھی نہیں کرپائے ، فی الحال عمرہ کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہیں ، ایسی صورت میں ان کے لئے کیا حکم ہے ؟ کیا ان کو دم دینا ہوگا اور دینا ہو تو کیا سعودی عرب میں ہی دینا ہوگا یا ہندوستان میں بھی دے سکتے ہیں ؟ ( تنویر حسن، نامپلی )
جواب:- جو شخص حج یا عمرہ کا احرام باندھ چکا ہو اور کسی وجہ سے سفر نہیں کرپایا ، تو اسے ’’ محصر ‘‘ کہا جاتا ہے ، محصر کے لئے قربانی دینا اور آئندہ عمرہ یا حج جس کا ارادہ کیا تھا ،اسے پورا کرنا واجب ہے (البقرہ: ۱۹۶) قربانی کرنے کی صورت یہ ہے کہ حرم میں قربانی کرائی جائے اور جس کو قربانی کا وکیل بنائے ، اس سے دن متعین کرلے ، مقررہ دن پر قربانی کی جائے اور قربانی کے بعد ہی وہ شخص حلال ہو : و إذا جاز لہ التحلل یقال لہ ابعث شاۃ تذبح فی الحرم و واعد من تبعثہ بیوم بعینہ یذبح فیہ ثم تحلل (ہدایہ مع الفتح: ۲؍۱۲۴) اس لئے ان حضرات کو جلد سے جلد حرم میں دم دینا چاہئے ، حدود حرم سے باہر قربانی کرانا کافی نہیں اور صحت یاب ہونے کے بعد جلد سے جلد اس عمرہ کی قضا کرنی چاہئے ۔

سود سے آڈیٹر کی فیس ادا کرنا
سوال :-انکم ٹیکس سے متعلق حسابات پیش کرنے کے لئے آڈٹ کرانی پڑتی ہے ، اور آڈیٹر کو ایک خطیر رقم ادا کرنی ہوتی ہے ، کیا سود کی رقم سے آڈیٹر کی فیس ادا کی جاسکتی ہے ؟ (عبدالقادر، ہمایوں نگر)
جواب :- آڈٹ کرانا حساب و کتاب کو منضبط اور منقح کرنے کی ایک صورت ہے اور اس کا تعلق صرف انکم ٹیکس سے نہیں ہے ؛ بلکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو اپنے کار وبار کی کیفیت سمجھنے میں سہولت بہم پہنچتی ہے ؛ لہٰذا سودی رقم سے آڈیٹرس کی فیس ادا کرنا جائزنہیں ؛ کیوں کہ یہ سودی رقم کو اپنے کام میں لانے کے مترادف ہوگا ۔

استطاعت کے باوجود قرض ادا نہیں کرنا
سوال:- کیا شہید کا قرض بھی سارے گناہوں کی طرح معاف ہوگا ؟ یا پھر ورثہ کے ذمہ واجب الاداء ہوگا ؟ اگر کوئی قرض دار باوجود استطاعت کے قرضہ ادا نہ کرے تو اس سے قرضہ وصول کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہوگا ؟ (محمد بلال، دلسکھ نگر)
جواب:- قرض چوںکہ بندوں کے حقوق میں ہے اور بندوں کے حقوق اس وقت ادا ہوتے ہیں کہ یا تو ادا کردئے جائیں ، یا معاف کرالئے جائیں ؛ اس لئے شہادت کی وجہ سے یوں تو تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، جیساکہ حدیث میں وارد ہوا ہے ، مگر قرض معاف نہیں ہوتا: عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص ص : أن رسول اللہ ا قال : یغفر للشہید کل ذنب إلا الدین (مسلم، حدیث نمبر: ۴۸۸۳) اس سے قرض کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ، استطاعت کے باوجود قرض ادا نہیں کرنا سخت گناہ ہے اور کبائر میں سے ہے ،اور شرعا واجب ہے کہ جوں ہی قرض ادا کرنے کی استطاعت پیدا ہوجائے قرض ادا کردے ۔

رخصت کی تنخواہ
سوال:- رخصت اور غیر حاضری میں کیا فرق ہے ؟ آیا دونوں ایک ہی چیز ہے ،یا الگ الگ؟ رخصت کی اور غیر حاضری کی حد شریعت میں کہاں تک ہے ؟ دورِ حاضر میں مدارس اور کالجس ، یونیورسٹی وکمپنی میں جو رخصت دی جاتی ہے ، ان ایام رخصت کی تنخواہ بعض میں ملازمین ومدرسین کو ادا کی جاتی ہے اور بعض میں ادا نہیں کی جاتی ، مناسب تنخواہ کی تخفیف کہاں تک درست ہے ؟ آیا یہ رخصت صحابہ ، تابعین اور اس وقت کے زمانہ میں تھی یا نہیں ؟ اس زمانہ میں رخصت کے ایام کی تنخواہیں بیت المال سے ادا کی جاتی تھیں ، یا نہیں ؟ جیساکہ یہ شخصی مدارس یا اسکول وکالج والے کرتے ہیں ، یا رخصت مدرسین وملازمین کے لئے کتنی ہونی چاہئے ؟ (عبدالستار، ملک پیٹ)
جواب:- رخصت اور غیر حاضری وغیرہ فقہی اور شرعی اصطلاحات نہیں ہیں ؛ بلکہ یہ عرفی یعنی لوگوں کی مروجہ اصطلاحات ہیں ، عام طور پر اجازت لے کر نہ آنے کو رخصت اور بلا اجازت غائب ہوجانے کو غیر حاضری کہا جاتا ہے ، —-جہاں تک ایام رخصت کی تنخواہوں کا مسئلہ ہے تو اس کا تعلق فریقین کے باہمی معاہدہ سے ہے ، یا تو معاملہ طے پانے کے وقت یہ بات متعین ہوگئی ہو کہ رخصت کتنے دنوں کی ہوگی ، جس کی تنخواہ دوسرا فریق کام کے بغیر ادا کرے گا ، یا پہلے سے اصول و قواعد بنے ہوئے ہوں ، جن میں رخصت با تنخواہ وغیرہ کا ذکر ہو ، اس کے مطابق فریقین عمل کے پابند ہوںگے ، اور ایام رخصت کی تنخواہ ملازم کے لئے جائز ہوگی ، مقررہ ایام رخصت سے زیادہ دنوں کی تنخواہ ملازم کا اپنے طور پر لے لینا یا جو شخص کمپنی یا ادارہ کی طرف سے اس کی نگرانی پر مامور ہو، اس کا خلافِ اصول اپنے طور پر رخصت با تنخواہ دے دینا جائز نہیں ، دونوں صورتیں خیانت میں داخل ہونے کی وجہ سے گناہ ہیں ، صحابہ و تابعین کے دور میں کیا تعامل تھا ؟غالبًا اس کی وضاحت نہیں ملتی ؛ لیکن رسول اللہ ا نے ایک اصول مقرر کردیا ہے کہ جو معاہدہ ہو اس پر فریقین قائم رہیں : المسلمون عند شروطہم (سنن بیہقی، حدیث نمبر: ۱۱۷۶۲)؛ لہٰذا جب ملازمت طے پانے کے وقت کمپنی اور ملازم کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا ،تو اب وہ دونوں اس اصول کے مطابق اس کے پابند ہیں ۔

قسم کے ذریعہ حرام روزی
سوال:- میری زندگی کا گذر بسر عدالت میں جاکر کسی ایک پارٹی کے حق میں جھوٹی قسم کھاکر ہزار روپیہ حاصل کرنے اورقرآن خوانی اور آیت کریمہ کے معاوضہ پر ہے ، میں چار پانچ لوگوں کو لے کر مسجد کے پاس کھڑا ہوجاتاہوں اور قرآن پڑھنے کی دلالی کرتاہوں ، محلہ کے لوگ کہتے ہیں کہ عدالت میں جھوٹی قسم کھانا اور قرآن خوانی کی دلالی کرنا جائز نہیں ہے ، اس سلسلہ میں صحیح حکم دریافت ہے ؟ (عنایت اللہ، کھمم)
جواب:- آپ کا سوال پڑھ کر افسوس ہوا ، جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے اور جھوٹی گواہی دینے کا گناہ تو عام حالات میں جھوٹ بولنے سے بھی بڑھ کر ہے ، آپ ا نے ایک دفعہ فجر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کرفرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر رکھا ہے : عدلت شہادۃ الزور بالإشراک باللہ ثلاث مرات الخ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۳۱۲۴)پھر عدالتوں میں حلفیہ قسم لی جاتی ہے اور قرآن مجید بھی اٹھوایا جاتا ہے ؛ اس سے جھوٹ کی کیفیت میں اضافہ ہوتاجاتا ہے ، پیسے لے کر قرآن مجید، یا اس کی کسی آیت کا پڑھنا بھی جائز نہیں ، یہ قرآن مجید کی بے احترامی ہے اور قرآن کو بیچنے کے مترادف ہے اور جو عمل خود جائز نہ ہو اس کی دلالی کرنا بھی جائز نہیں ؛ اس لئے ناجائز اور حرام طریقہ پر پیسے حاصل کرنے اوراس کو اپنے گذر بسر کا ذریعہ بنانے سے آپ فوراً باز آجائیں ،اللہ سے ڈریں اورحلال روزی حاصل کرنے کی کوشش کریں ، اللہ تعالیٰ رزاق ہے ، ضرور حلال رزق عطا فرمائیںگے ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like