خبردرخبر

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

نوراللہ نور

ہرقوم و ملت کے پاس ایک قلعہ اور ایک آہنی حصار ہوتا ہے جو اس کی بقا و سالمیت کی ضامن ہوتا ہے اور اس کے مضبوط حصارون میں قوم کے عروج و ارتقا کے امور طے ہوتے ہیں
اس میں پس و پیش نہیں کہ اسلام ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت خوبیوں کا حامل مذہب ہے اور اس میں بھی کوئی تردد نہیں ہے اس کی سالمیت و ابدیت کا مالک اللہ کی ذات خود ہے مگر اس کے باوجود اس کے ظاہری اسباب و وعوارض ہیں اور وہ خستہ حال عمارتوں ؛ بوسیدہ مکانوں اور جھگی جھوپڑی کی شکل میں مدارس اسلامیہ کا ناقابل تسخیر حصار ہے جہاں ملت اسلامیہ اور ان کے ماننے والے کا تحفظ مضمر ہے وہیں سے انسانیت کی معراج کا فیصلہ ہوتا ہے اور مضبوط سپاہی تیار ہوں ہوتے ہیں
کبھی کبھی انسان کی عقل و خرد پر ماتم کرنے کا من کرتا ہے کتنا احمق ہوتا ہے انسان جس آشیاں میں رہتا ہے اسے پھونکنے میں کوشاں رہتا ہے

آج جب کہ ہر طرف وبا کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں اور مالی بحران سے سب کے لئے مسلہ کھڑا ہوگیا ایسے نازک حالات میں مدارس اسلامیہ کی حالت بھی دگرگوں ہے اور اسٹاف تک کو تنخواہیں دینے کا بندو بست نہیں ایسے وقت میں ہمیں ان مدارس دست و بازو ہونا چاہیے تھا اور اس کے نظام کے لئے سر جوڑ کر غور و فکر کرنا چاہیے تھا مگر کچھ نا اہل اور دنیا پرست لوگ یہ طعن کر رہے ہیں کہ اگر استطاعت نہیں ہے تو ان اسلامی قلعہ کو مقفل کر دینا چاہیے کچھ لوگ خواہاں ہیں کہ یہ شمع تا ابد اپنی روشنی نہ دے سکے :

ان نا اہلوں کی مطالبات سمجھ سے بالاتر ہیں کیونکہ ملت اسلامیہ کے چند فیصد افراد ہی مدارس کا رخ کرتے ہیں اور گنتی کے لوگ ہی جو دین مصطفیٰ کو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے قیمتی لیل و نہار امت کے بے خبر لوگوں کے لئے صرف کر تے ہیں
اور اپنی نور سے ان کے زندگی اور ان کے گھر سے ظلمات کو دور کرتے ہیں
جب کہ امت کا اکثریت طبقہ اپنے بچوں کو اسکول کالج ؛ یونیورسٹی میں تعلیم دیتے ہیں مگر پھر بھی ان کو یہ سفید پوش اور سنجیدہ طبع لوگ ہی کھٹکتے ہیں اور مدارس بند کرنے کی غیر ذمہ دارانہ اور نامعقول مطالبات کرتے ہیں
سب سے پہلی بات آپ مدارس کو بند کرنے کی رائے کیسے دے سکتے ہیں آپ سے ایک فطرہ کی رقم دی نہیں جاتی دس مرتبہ پس و پیش کے بعد تمہارے جیب سے پیسے نکلتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ تالا بندی کردی جائے ؛ آپ ہزاروں خرچ کر کے دنیوی تعلیم حاصل کرتے ہو تو کوئی دقت نہیں ہوتی ؛ مگر جہاں آخرت بنانے کی اور انسانیت سازی کا درس ہوتا ہے اس سے تکلیف اور کلفت ؛ آپ کی رقم سے یہ مدارس کوئی آسایش کا سامان مہیا نہیں کرتے بلکہ تمہاری آخرت کی فکر میں سر گرداں رہتے ہیں آپ کو دنیوی حاصل کرنے ڈاکٹر اور انجینئر سے بڑی انس و محبت ہے ٹھیک ہے مگر ان بوریہ نشیں ؛ انسانیت کے امیں سے کیا دقت ہے ؟؟

ویسے بھی ان لوگوں کو مطالبات بھر مار کرنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے ان کی تدفین اور ان آخری نماز یہی دوکوڑی کے مولوی صاحب پڑھاتے ہیں ؛ آج وہ جن کی اقتدا کرتے ہیں وہ انہیں مدارس کے پروردہ ہیں اور آج اگر اس زعفران زار ماحول میں بھی مسجد آباد ہیں اور ایمان کی رمق باقی ہے تو انہی داڑھی ٹوپی والوں بدولت :

ویسے ازل سے ہی غیروں نے اس قلعہ کی انہدام کی کوشش کی ہے اور ازل سے ہی یہ زمانوں کی لہروں سے محاذ آرا رہا ہے کیونکہ ان کو اس ضوفشانی اور مردم خیزی کا علم ہے مگر اپنوں کو نہیں اب اگر اپنے بھی اس کے قفل بندی اور مسماری کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ شمع اپنی مدھم سی لو کھو دے گا :
ہم نے ہمیشہ سے ہی غیروں کی طرح اس خستہ حال مگر قوت ایمانی سے مضبوط عمارت کو ڈھانے کی سازشیں کی ہیں جس طرح ان مدارس نے تمام صعوبتوں اور تلخیوں کو برداشت کرکے ہمیں ایمان کی لذت سے آشنا کرایا ہے اسی قدر ہم نے اس کی ناقدری کی ہے کبھی ان بوسیدہ لباس اور فاقہ کش لوگوں نے اپنی شکم سیری کے لیے دست سوال دراز نہیں بلکہ ہمیشہ امت کے مسایل پیش پیش رہے

ہمیں مقفل کرنے سے پہلے ان کی کارناموں اور کار گزاری کو یاد کرنا چاہیے کہ انہیں بوریہ نشیں کی وجہ سے ہندوستان جنت نشاں ہے اور ایمان کی جو روکھی سوکھی لو باقی ہے وہ انہیں مدارس کی دین ہے یہ مدارس خود تو مضبوط و مستحکم نہیں ہے مگر امت کو جو جیالے فراہم کیا ہے اور جو استحکام بخشا ہے اس سے انحراف احسان فراموشی ہوگی :

ایک ایسا قلعہ جو آپ کے ایمان کا محافظ ہو اور آپ کے مستقبل کا معمار ہو اس کے قفل بندی کا ارادہ رکھنا انتہائی احمقانہ سوچ کی طرف مشیر ہے اگر یہ ہلکی سی لو بجھ گئی تو وہ خسارہ ہوگا جس کا اندازہ مشکل ہے

ہمیں اسے خانہ خراب اور برباد کرنے سے قبل اندلس و فلسطین کے حالات پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے یقینا اگر ہماری اس طرح کی سوچ رہی تو اندلس سے بدتر حال ہمارا ہوگا
ہمیں اس طرح کی ذہنیت اور تنفر کے بجائے اس کی بازیابی کے لیے کوشاں ہونا چاہیے تاکہ ہم دنیا بھی بنا سکے اور آخرت کے ذخیرہ اندوزی کر سکے اور اپنے ایمان و یقین کے تحفظ میں ان مدارس کے ہمدوش ہونا چاہیے
ویسے امت کے مدارس کے متعلق اس حالت اور سوچ کو دیکھتے ہوئے شعر کا ایک ٹکڑا ذہن میں آرہا ہے کہ

“اس گھر کو آگ لگ گئی اس گھر کے چراغ سے”

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker