مضامین ومقالات

یہ مزدورہیں ،کتنے مجبور ہیں؟

رفیع الدین حنیف قاسمی
رفیق تصنیف دار الدعوۃ والارشاد ، یوسف گوڑہ حیدرآباد
ایک دل دلہلادینے والی تصویر وائرل ہوئی جس میں ایک عورت کی ریلوے اسٹیشن پر لاش پڑی ہوئی تھی ، جس میںایک معصوم بچہ ماں کو نیند سے بیدار کرنے کی کوشش کررہا ہے ، وہ یہ سوچ کر اپنی ماں کی اوڑھی ہوئی چادر کھینچ رہا ہے کہ اس کی ماں سوئی ہوئی ہے، اس کو جگایا جائے،بچہ بہت دیر تک اس کی چادر سے ایسے ہی کھیل رہا ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر یہ دردناک تصویر اور ویڈیو خوب وائرل ہورہی ہے، بچہ یہ سوچ رہا ہے کہ اس ماں سوئی ہوئی ہے ؛ حالانکہ اس کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے سو گئی ہے، وہ موت کے آغوش میں چلی گئی ہے اس کو اس لئے اس طرح ہمیشہ سونا پڑا کہ ملک میں غریب اور مزدور کے جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،اس کے شوہر کا کہنا ہے کہ مسلسل دو دن سے کچھ کھائے پیئے بغیر مشکل سے سفر کر رہے تھے، اس لئے کہ جو ٹرینیں لمبی مسافت پر چل رہی ہیں، وہ اس قدر سست رفتاری کے ساتھ رواں دواں ہیں، گھنٹوں نہیں دنوں کے اعتبارسے لیٹ چل رہی، ایک خبر کے مطابق اسپیشل ٹرینوں کی یہ حالت ہے کہ سورت سے سیوان جانے والے ٹرین دو دن کے بجائے یہاں وہاں بھٹکتے ہوئے نو دن میں میں پہنچ۔
اچانک لاؤ ک ڈاؤون کی وجہ سے ملک میںمزدور ہر جگہ پھنس کر رہ گئے ، یہ غریب مزدور جو روز مرہ کی کمائی پر اپنی زندگی کا بسیرا کرتے ہیں، جو دوسرے اسٹیٹس سے آکر یہاں کما کر گذر بسر کرتے ہیں، جب لاؤک ڈاؤن وجہ سے ان کی کمائی اور روزہ مرہ کی زندگی گذارنے کی کوئی صورت نہیںرہی تو لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے میں ہی یہ سارے مزدور دہلی کی سڑکوں پر اتر آئے ، دوسرے مرحلے کے بعد ممبئی اور ملک کے کونے کونے سے اپنے گاؤں اور شہروں کی طرف پیدل اور سیکلوں پر سوار رواں دواں نظر آئے، ان مزدوروں کی اس ہمہ ہمی ، گہما گہمی میں جانیں بھی گئی، اپنی زندگیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، کئی جگہ بسیں الٹ گئی، ٹرین کی پٹریوں پر چلتے ہوئے اورنگ آباد میں17مزدور ٹرین کی زد میں آگئے، اس طرح اس لاؤک ڈاؤن کی انتشار کی صورتحال میں یہ مجبور مزدور جو کہ دوسرے اسٹیٹس کے باسی تھے ، ان کے پاس سوائے روزہ مرہ کی کمائی کے علاوہ کھانے اور کرائے گھر کے کرایہ کی ادائیگی کی کوئی صورت نہ تھی، نہ تو وہ کرایہ ادا کرنے کی پوزیشن میں تھے ، نہ نان شبینہ کی انتظام کی سکت رکھتے تھے، اس لئے وہ بغیر کسی دھوپ چھاؤں ، لمبی مسافتوں تین سو ، چار سو ، پانچ سو ہزاروں کیلو میٹر کی مسافت طئے کرنے سے بھی نہیں کترارہے تھے ، اتنی مسافت کو پیادہ پااس دور میں طئے کرناکوئی تو مجبوری تھی ہوگی جس کی وجہ سے یہ جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے ، پیروں کی آبلہ پائی اور جسم کی تھکان کو برداشت کرتے ہوئے منزلوں کی جانب رواں دواں تھے ، جب لاؤک ڈاؤں میں کچھ نرمی بھی ہوئی تو ٹرینوں کے ٹکٹ کے حصول کے لئے بڑے مراحل تھے، جس میں پرمیشن اور اجازت کا کھٹن مرحلہ ، پھر کہیں پر بھی کھانا ندارد ہونے اور پیاس بچھانے کے لئے پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کے سفر کے باوجود بھی انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔
فلاحی اور رفاہی تنظیموں اور اصحاب خیر اور متمول حضرات نے اس مواقع سے جو بھر پور خدمت انجام دی ، گاؤں گاؤں دیہات دیہات ان مزدروں کے لئے کھانے کا نظم کرنے کی سعی وکوشش کی، یہ بھی قابل دید تھی، رفاہی اور فلاحی تنظیموں نے اس موقع سے جو اپنی انتھک کوشش سے گھر گھر راشن پہنچایا، کھانے کا نظم کیا ، لوگوں کے چولہوں کو جلتے رہنا دیا جس کی وجہ سے بھی ایک بڑی مصیبت ٹل گئی، خصوصا مسلم تنظیموں اور مسلمان متمول حضرات نے غریبوں اور ملک کے باسیوں کا بغیر تفریق مذہب وملت کے خوب خیال کیا،لیکن کوئی کتنا کچھ کرتا؟ کیا کرتا؟ بہر حال مزدور کی صورتحال نہایت ابتر ہوگئی، سوائے اس کے کہ وہ اپنے گھر جانے کے ان کو اپنا آگے کا کوئی پلان اور مستقبل نظر نہیں آرہا تھا، جس میں بھی ٹرین کے کرایہ کے حوالہ سے من مانی پر کورٹ کو پھٹکار لگانے پڑی ۔اور یہ کہنا پڑاکہ مہاجر مزدوروں سے کرایہ وصول نہ کیا جائے ، جس کا بوجھ ریاستی حکومتیں برداشت کریںگے ، روانگی کے مرکز پر ان کے کھانے پینے کا نظم ریاستی حکومتیں اور دوران سفر یہ سہولت ریلوے مہیا کرے گیا اور درخواست دینے پر بجلد ان کے روانگی کا انتظام کریںگی۔یہ احکامات بھی در اصل اس وائرل ویڈیو کے پس منظر میں آئے۔
راہول گاندھی خصوصا مزدوروں کے مسئلہ کو خوب اٹھاتے رہے ہیں، آج صدر کانگریس سونیا گاندھی نے اسپیک اپ انڈیا کی مہم شروع کرتے ہوئے کہا : ایسے حالات اور سرکاری کی بے رخی کبھی نہیں دیکھی اور یہ بھی کہا کہ : پہلی بار ملک میں ایسا درد ناک منظر دیکھا جب مزدور ننگے پاؤں سینکڑوں کلو میٹر پیدل چلنے کئے مجبور ہیں، ان کے درد وکسک اور سسکیوں کو سب نے سنا مگر حکومت نے نہیں۔سوشل میڈیا پرمزدوروں اور مہاجروں کے لئے اٹھائی گئی آواز پر ’’اسپیک اپ انڈیا ‘‘ کو خوب پذیرائی حاصل ہوئی، جس سے 10؍ کروڑ لوگ جڑے اور اپنی آواز اٹھائی، دنیا بھر میں اس مہم نے میڈیا پر پہلا مقام حاصل کیا، چونکہ ان حالات غریب اور خصوصا مزدور اور روز مرہ کے اساس پر زندگی گذارنے والے بہت پریشان ہیں۔جس میں کانگریس کی طرف سے حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومت مزدروں کے لئے فورا اپنا خزانہ کھول دے، چار مطالبات میں ایک تو یہ کہ سرکار اگلے 6ما ہ تک تمام مزدروں اور غریبوں کو ہر ماہ 7ہزار 5سور روپیے ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرے ، جب کہ ابتدائی مدد کے طور پر انہیں 10ہزار روپے فراہم کرے، منریگا کے تحت کم از کم 200؍دنوں کا کام مہیا کروایا جائے، چھوٹی صنعتوں کے لئے پیکیج جاری کیا جائے اور مزدروں کو ان کے گھر واپس لانے کا بہتر سے بہتر انتظام کیا جائے ۔
بہر حال مزدور کسی بھی قوم کا اثاثہ اور اس قوم اور ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، ملک کی ترقی کا سارا دارومدار مزدوروں پر ہوتا ہے، جو مختلف کمپنیوں اور تعمیرات وغیرہ کے شعبہ میں اپنے آپ کو کھپا کر ملک کی ترقی کے کاز کو آگے بڑھانے کے کام کو انجام دیتے ہیں، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے ، ان حالات میں حکومتیں مزدوروں اور مجبوروں بے کسوں کا سہارا بنے ، ان کے روزہ مرہ کے زندگی کے لئے کام آئے،ان کی مدد واستعانت کرے، اس طرح ملک وقوم ترقی کرسکتی ہے، مزدوروں کو اسی طرح بلکتا سسکتا چھوڑ کر ، ان کو موت کے منہ کے دہانے پر چھوڑ کر ملک کی ترقی کا خواب صرف خیال کام ہے ، اس لئے حکومتوں ان آفات سماوی کے موقع سے مزدروں کو اس طرح بے سہارا چھوڑنا کہ وہ رہیں یانہیں ، وہ اپنے رحم وکرم پر جئیں ، یہ سوچ بالکل درست نہیں،یہی عوام اور نہتے اور کمزور لوگ ہوتے ہیں جو حکومتیںبناتے اور بگاڑتے ہیں ۔
اس لئے حکومتوں کے چاہئے عوام کے تئیں ان کے بنیادی حقوق تحفظ کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ، غریب نہتے مزدوروں کو ان کے حوالے کر کے موت کے منہ میں نہ چھوڑ دے ۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker