ہندوستان

مہاجر مزدوروںکو لاک ڈاؤن سے پہلے جانے دیا ہوتا تو کورونا وائرس کے معاملے اتنے نہ بڑھتے: رپورٹ

نئی دہلی،31 ؍مئی (بی این ایس )
ماہرین صحت کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ اگر مہاجر مزدوروں کو لاک ڈاؤن نافذکئے جانے سے پہلے گھر جانے کی اجازت دی گئی ہوتی تو ملک میں کورونا وائرس کے معاملے کو بڑھنے سے روکا جا سکتا تھا کیونکہ اس وقت یہ بیماری کم پھیلی تھی۔ ایمس، جے این یو، بی ایچ یو سمیت دیگر اداروں کے پبلک ہیلتھ کے ماہرین کے کورونا وائرس ٹاسک فورس کی ایک رپورٹ میں کہا گیاکہ واپس آ رہے لوگ ملک کے ہر حصے تک انفیکشنن لے کر جا رہے ہیں۔زیادہ تر ان اضلاع کے دیہی اور شہری مضافاتی علاقوں میں جا رہے ہیں جہاں معاملے کم تھے۔انڈین پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن (آئی پی ایچ اے )، انڈین ایسوسی ایشن آف پرویٹو اینڈ سوشل میڈیسن (آئی اے پی ایس ایم ) اور انڈین ایسوسی ایشن آف ایپڈیمولوجسٹ(آئی اے ای ) کے ماہرین کی طرف سے تیار کی گئی اس رپورٹ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس بھیجا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں 25 مارچ سے 30 مئی تک ملک گیر لاک ڈاؤن سب سے سخت رہا اور اس دوران کورونا وائرس کے کیس تیزی سے بڑھے۔ رپورٹ میں کہاگیا پالیسی سازوں نے واضح طور پر عام انتظامی افسرشاہوں پر اعتماد کیا۔پبلک ہیلتھ، احتیاطی ادویات اور سماجی سائنسدانوں کے علاقے میں سائنسدانوںکے ساتھ بات چیت محدود رہی۔اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان انسانی بحران اور بیماری کے پھیلنے کے لحاظ سے بڑی قیمت ادا کررہا ہے۔ماہرین نے پبلک ہیلتھ اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے مرکز، ریاست اور ضلع سطح پر پبلک ہیلتھ اور احتیاطی صحت کے ماہر اور سماجی سائنسدانوں کی ایک کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker