ہندوستان

لاک ڈاؤن کے بعد ملک بھر میں مساجد کو کھولنے کے اعلان کا خیر مقدم

حیدرآباد2جون(بی این ایس )
صدر جمعیۃ علما تلنگانہ و آندھراپردیش مولاناحافظ پیر شبیراحمد نے ملک میں منادر و مساجد کو کھولنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب مسلمانوں کی دمہ داری ہے کہ وہ مساجد کو آباد رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طویل عرصہ تک لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں مساجد کو بند کردیا گیا‘ حتیٰ کے حرم پاک بھی مستثنیٰ نہیں رہا۔ یہ اللہ کی انتہائی سخت آزمائش ہے‘ اسلام کی تاریخ میں اب تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بیک وقت تمام مساجد کے دروازے نمازیوں پر بند کردیئے گئے ہوں۔مخصوص حالات میں بعض بعض علاقو ں میں کچھ مدت کے لئے چند ایک مساجد بند رہی ہوں‘ لیکن اجتماعی طور پر دنیا بھر میں مساجد کا بند کیا جانا مسلمانوں کے لئے ایک انتباہ ہے کہ وہ دین پر سختی کے ساتھ عمل پیر ا ہوجائیںاور بطور خاص نمازوں کی پابندی کریں‘ ورنہ اللہ کے قہر کاسامناکرنیکے لئے تیار رہیں۔ انہوںنے کہا کہ نماز باجماعت ادا کرنا مسلمانوں کی بہت اہم ذمہ داری ہے اور نماز ہی ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔ اب مساجد کھل گئی ہیں تو پھر ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم دوڑ کر مسجدوں کو جائیں اور باجماعت نماز ادا کریں۔ گھر میں نماز تو ہوجاتی ہے لیکن مسجدیں کس لئے ہیں او پھر مسجد میں نماز ادا کرنے کی فضیلت الگ ہے اور باجماعت نماز کی فضیلت اور بھی بڑھ کر ہے۔ مسلمان نہ صرف نماز کے لئے مساجد میں جمع ہوتے رہیں بلکہ اپنے دیگر دینی کاموں کو وہیں سرانجام دینے کی کوشش کریں۔ مقامی معاشرتی مسایل پر بھی تبادلہ خیال ہو اور بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کا نظم بھی برقرار رہے۔ کروناوائرس چاہے بیماری ہو یا نہ ہو لیکن یہ ہمارے لئے آزمائش ضرور ہے کہ ہم کس قدر دین پر چلتے ہیں اور اللہ نے جو فرائض اور ذمہ داریاں ہم پر عائد کی ہیں ان سے کس طرح عہدہ برآ ہوتے ہیں۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمدنے کہا کہ 8جون سے ہم مساجد میں اسی طرح جوش و خروش کے ساتھ جمع ہوں جیسے کہ ہم جمعہ کی نماز کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ اگر یہ جذبہ ہم میں پیداہوجائے تو پھر نہ صرف مساجد تنگ دامنی کاشکوہ کریں گی بلکہ ہمارا رعب و دبدبہ بھی بحال ہوجائے گا جس کے لئے مسلمان ساری دنیا میں مشہور تھے۔ اب ہماری تعداد تو بہت زیادہ ہے لیکن ہماری حیثیت گھاس پھوس کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں ‘ اور یہ سب اس لئے کہ ہم نے نمازوں کی پابندی ختم کردی‘ قرأن و سنت کو چھوڑ دیا‘ دنیوی اسباب کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ ضرورت ہے ہے کہ ہم کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لیں اور ہر کام میں اپنی کوشش کرلینے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں‘ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے ۔ خیال رہے کہ جو احول حکومت کی جانب سے طئے کئے گئے ہیں اس کی پابندی ہو،اسلام صاف صفائی کوپسند کرتا ہے ،پاکی آدھا ایمان ہے , کرونابیماری کا کوئی علاج نہیں ہے , الحمداللہ اسلام نے صفائی پر زور دیاہے , پانچ وقت وضو سے بیماریوں سے نجات ہے , ماسک لگانے کے اہتمام کے ساتھ ہی ساتھ شوشل دوری کابھی خاص خیال رکھے۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker