Baseerat Online News Portal

مساجدمیں نمازاداکرنےوالے مسلمان بھائیوں سے مولانامحمدسفیان قاسمی کی درمندانہ اپیل

دیوبند: 3؍مئی(پریس ریلیز)اب جب کہ لاک ڈاؤن سے باہرآنے کاعمل آہستہ آہستہ شروع ہوگیاہے،اورحکومت کے اعلان کے بعداب مذہبی مقامات میں عبادت کرنے کی سہولت بھی حاصل ہونے والی ہے،ایسے میں کسی قسم کی بےاحتیاطی نہ ہواس سلسلے میں دارالعلوم وقف دیوبندکے مہتمم مولانامحمدسفیان قاسمی نے پریس ریلیزجاری کرکے ملک کے مسلمانوں سے ایک بہت ہی اہم اوردردمندانہ اپیل کی ہے ،انہوں نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ ملک کا خاص و عام طبقہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ وطن عزیز میں کووڈ ۱۹کی قہر سامانیوں کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ جاری ہی ہے بلکہ حالیہ دنوں میں حکومت اور محکمۂ صحت کی جانب سے جاری احتیاطی تدابیر کی گائیڈ لائن کے ساتھ لاک ڈاؤن میں سہولت کاری کے بعد اس وبائی مرض میں تیزی کا رجحان پایا جارہا ہے، حاصل شدہ معلومات کے مطابق جون سے ملنے والی سہولیات میں مذہبی مقامات کے کھولے جانے کی سہولت بھی شامل ہے، چنانچہ مفاد عامہ کے تناظر میں حکمت اورمصلحت کا تقاضہ ہے کہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے مساجد کھل جانے کے بعد مصلی و متولی حضرات حسب ذیل احتیاطی تدابیر کو بروئے عمل لاکر ہمہ جہت حفاظت کو یقینی بنانے میں تعاون کی راہ کو اپنائیں، میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ احوال میں ان حفاظتی تدابیر کو یقینی بنانا ملکی مصالح سمیت امت مسلمہ کے ہر فرد کا دینی و مذہبی فریضہ بھی ہے۔
۱۔ بوقت جماعت سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے دو افراد کے درمیان مناسب فصل کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
۲۔ مساجد میں صرف فرائض کی ادائیگی کریں بہتر ہوگا کہ سنن و نوافل گھر میں ہی ادا کریں تاکہ اختلاط کا زیادہ وقت نہ ہو۔
۳۔ مسجد میں ماسک پہن کر آنا اور وہاں گذارنے والے پورے دورانیۂ وقت میں پہنے رہنا انتہائی ضروری اور لازمی ہے، اس کا خصوصی دھیان رکھا جائے۔
۴۔ میل ملاقات میں مصافحہ و معانقہ سے مکمل گریز کیا جائے، نیز مسجد میں دخول وخروج کے وقت مناسب فاصلہ رکھا جائے اور اس دوران عجلت سے پرہیز کریں۔
۵۔ اذان اور نماز کے درمیان پانچ منٹ سے زیادہ وقفہ نہ رکھا جانا قرین مصلحت ہے نیز امام صاحب کو ہدایت ہو نماز جماعت میں قرأت مختصر ہو اور طوالت سے اجتناب کریں۔
۶۔ از روئے مصالح نماز جمعہ میں خطبہ کو مختصر کیا جائے، جس کو اہل نظر علماء نے اسی مصلحت کے پیش نظر اختصار کے ساتھ مرتب کیا ہے جو کسی بھی عالم سے رابطہ کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ وعظ و خطاب کے سلسلے کو فی الحال مکمل طور پر موقوف رکھا جانا ہی بہتر ہے، جس کا مقصد و منشاء وقفۂ اختلاط کو مختصر سے مختصر رکھنا ہے۔
۷۔ وضو اپنے گھر سے ہی کر کے آئیں، بہتر ہوگاکہ متولی حضرات وضو خانوں اور حماموں کو مقفل رکھیں۔
۸۔ مصلی حضرات اپنی اپنی جانمازیں گھروں سے لیکر آئیں، جبکہ احتیاط کے نقطہء نظر سے مساجد کی صفوں کو لپیٹ کر رکھ دیا جانا عین قرین مصلحت ہے، جبکہ مساجد میں عمومی طور پر رکھی جانے والی ٹوپیوں کے استعمال سے بہ ہر طور گریز کیا جائے۔
۹۔ بہتر تو یہ ہے ہر نماز سے قبل پانچ مرتبہ مسجد کے فرش اور دیواروں کو سینیٹائز کیا جائے، تاہم اگر پانچ وقت اس کا التزام ناممکن یا دشوار ہو تو کم از کم دن میں تین مرتبہ فنائل یا ڈیٹول سے فرش کی دھلائی کا اہتمام ضرور ہوجائے اور متولی حضرات خدام مسجد کو اس کام کی سہولیات و ضروریات فراہم کرتے ہوئے اس خدمت کے لیے متعین لوگوں کو اس جانب متوجہ فرمائیں۔
۱۰۔ مسجد میں جماعت سے قبل یا بعد میں غیر ضروری نشست و برخاست سے التزاما گریز کیا جائے تاکہ کسی بھی سمت سے کسی کی بھی جانب سے اعتراض کا کوئی موقعہ نہ رہے، اسی حوالے سے ان احتیاطی تدابیر کی جانب آپ حضرات کی توجہات کو مبذول کرایا جارہا ہے۔تلک عشرۃ کاملۃ
ذات حق جل مجدہ پر توکل کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ ظاہری تمام اسباب کو اختیار کرتے ہوئے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی فرمودہ مجرب دعائے توکل۔ اللہم ھذا الجہد و علیک التکلان (رواہ الترمذی)پڑھ کر تمام نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردئیے جائیں، ان شاء اللہ یقین ہے من جانب اللہ خیر کا ظہور ہوگا۔ وماتوفیقی الاباللہ

You might also like