مضامین ومقالاتنوائے خلق

عالمی کتاب میلے میںدارالعلوم کی نمائندگی نہ ہونا باعث تشویش

انور خورشیدی
8467055337
انٹرنیٹ اور شوشل میڈیا کے اس ٹکنالوجی دور میں مطبوعہ کتابوں اورلٹریچر کی اہمیت وافادیت اور اس کے شائقین کی تعداد کم نہیں ہوئی ہے جبکہ عام طور پر بہت ساری معلومات بذریعہ نیٹ اور شوشل میڈیا ہو جاتی ہیں ۔سال رواں ملک کی راجدھانی دہلی کے پرگتی میدان میں لگنے والے 24واںعالمی کتاب میلہ 9جنوری سے شروع ہوکر 17جنوری کو اختتام پذیر ہوگیا ۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنی اپنی مطبوعات کے ساتھ اپنی نمائندگی درج کرائی حتیٰ کہ ہندوستان کے مختلف مذاہب وادیان اور ملی ،سماجی اورفلاحی تنظیموں اور اداروں نے اپنا اپنابک اسٹال لے کر شائقین علم وادب اور علم دوست احباب تک اپنی مطبوعات پہونچائی۔ کتابوں کی خریداری کی غرض سے مختلف ہالوں میں لگے الگ الگ بک اسٹالوں میں جانا ہواتو وہاں تمام ہی ملی تنظیموں ،جماعتوں اور مختلف فرقوں کا بک اسٹال دیکھنے کو ملا ،اس دوران ہماری نگائیں ایشیا کی عظیم درسگاہ دارالعلوم دیوبندکے بک اسٹال کو ڈھونڈنے لگی یا کہیں مسلمانوں کی نمائندہ واحد تنظیم جمعیۃ علماء ہند کا ہی کوئی بک اسٹال نظر آجائے ،مگرکافی تلاش وجستجو کے باوجود کہیں بھی ایسا بک اسٹال نظر نہیں آیا۔ جب تلاش کے لئے ایک ہال سے دوسرے ہال میں گھوم رہا تھا اسی دوران ایک مولوی صاحب عمامہ باندھے ہوئے ہاتھوں میں کچھ رسائل وکتابچے لئے ہوئے ملے ، جو مجھے بھی اپنی کتابیں تھمانے لگے تو میں نے پوچھا کہ یہ کیسی کتابیں ہیں ؟۔ تو اس نے بتایا کہ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کے خلاف کچھ کتابیں ہیں اور ہاتھ سے’’ جماعت احمدیہ ‘‘کے بک اسٹال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ قادیانی ہیں جو اس کتاب میلہ میں آئے ہوئے عام لوگوں کو اپنا پمفلٹ اور کتابچے تقسیم کرتے ہیں اور جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کو منواتے ہیں ۔ میں نے ان سے بھی معلوم کیا کہ دارالعلوم دیوبندیا جمعیۃ علماء ہند کا کوئی بک اسٹال یہاں لگا ہوا ہے تو اس نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کئی سال پہلے دارالعلوم دیوبند کا بک اسٹال لگا تھا اس کے بعد سے دوبارہ نہیں لگا ہے ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایسے عالمی کتاب میلے سے ان بڑے اداروںکی غیر حاضری تشویش کا باعث ہے۔خدا معلوم! ان اداروں کے ذمہ داران کی توجہ اس جانب کیوں نہیں ہے جبکہ مجھ جیسے نہ جانے کتنے لوگ ہونگے جو اس عالمی کتاب میلے میں عالمی شہرت یافتہ دارالعلوم دیوبند کا بک اسٹال ڈھونڈ رہے ہونگے اور نہ ملنے پر کف افسوس مل رہے ہونگے ۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ مجھ جیسے ہزاروں شائقین کو محروم نہیں کیا جائیگا۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker