مضامین ومقالات

مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اورلیڈران کی معنی خیز خاموشی!

سرفراز احمدقاسمی (حیدرآباد )

برائے رابطہ:8099695186

پوراملک لاک ڈاؤن  اور کرونا وائرس کی وجہ سے ان دنوں  پریشان ہے،اور  اس حکومت  کی کارکرگی  کا اگرجائزہ لیا جائےتو یہ حکومت  ہرسطح پر  بالکل ناکام  ثابت ہوئی ہے،ہوناتو یہ چاہئے تھاکہ  یہ حکومت  لوگوں   کے مسائل ومشکلات کو حل کرتی اور اس پر توجہ لیکن  افسوسناک  بات یہ  ہےکہ اس نے انتہائی  ناکامی اور بےحسی کامظاہرہ  کیاہے،اور اپنے عمل سے اس نے یہ ثابت کیاہے کہ ملک کے لاکھوں  غریب ،مزدور  اورپرشان حال   لوگوں  کی پریشانیوں  سےانھیں کوئی  دلچسپی اور  سروکار نہیں ہے، انھیں لوگوں  سے کوئی ہمدردی نہیں ہے،اپنی سیٹ بچانا اور عیش وعشرت  کرنا،مزے لینا اور موج مستی  کرناہی حکومت  پربیٹھے ہوئےلوگوں کامقصد ہے،لوگوں  کی فلاح وبہبود   کاکام انکے بس کی بات نہیں ہے،انھیں  صرف تخریبی  سرگرمیوں  میں دلچسپی ہے،فرقہ پرستی ہی انکااہم اور خاص ایجنڈہ ہے،اور 6سال کے عرصے میں  اس حکومت  نے یہی سب کیاہےملک کی  تعمیر وترقی  میں   اب تک کوئی  ادنی  ر ول  نہیں نبھایا ،جسکی وجہ  سے بھارت روز بروز انتہائی  تنزلی اور تخریب  کی جانب بڑھ رہاہے، اگر ملک کی یہی حالت رہی تو پھر آنے والے دنوں    میں ملک کی حالت مزید بدتر ہوجائےگی اور ملک ایسے دوراہے پرکھڑا ہوجائے گا جہاں  سے واپسی انتہائی  مشکل   بلکہ ناممکن ہوگی،اورپھر ملک  کو برباد ہونے سےکوئی نہیں روک سکتا،آزادی کے بعد سے ملک کی ہرحکومت   نے مسلمانوں  کےساتھ سوتیلا سلوک  کیا ہےاور ایک منظم منصوبہ  کے تحت   مسلم نوجوانوں  کو  تعلیم اور سرکاری   مراعات  سے دور رکھا گیااور کبھی پوٹا کےنام پر توکبھی ٹاڈا کےنام مسلمانوں  کو گرفتار کرکےانکی زندگیاں  تباہ  وبرباد کی گئی ،آج بھی لاکھوں   ،معصوم  مسلمان  سلاخوں  کےپیچھے ہیں اور انکاکوئی پرسان حال نہیں ،گذشتہ 6 کے عرصہ میں  اس حکومت  نے ملک میں برسوں  سےہورہےظلم وستم اور ناانصافی  میں مزید  اضافہ  کردیاہے،اور یہ سلسلہ  پوری شدت کے ساتھ جاری ہے،دسمبر 2019 میں  موجودہ  حکومت  نے سی اے اے کےنام سے ایک کالاقانون پاس کیاتھا جسکے نتیجے میں   آسام ،بنگال ،تری پورہ ،کیرلہ  سمیت ملک بھر کی مختلف ریاستوں  میں احتجاج  شروع ہوگیاتھا،دہلی کی جامعہ ملیہ،علی ج گڑھ مسلم یونیورسٹی ،جےاین    یو،شاہین باغ  کے علاوہ   حیدرآباد ،بنارس  اور ملک کی دیگر بڑی یونیورسٹیوں  میں  احتجاج  چل رہاتھا،اور اس سیاہ  قانون  کو واپس لینے کی مانگ  کی جارہی تھی،اسی کے نتیجے میں   جنوری  میں پور ی  دہلی کو آگ کی نظرکردیاگیا ،اور جی بھرکر فسادیوں  کو حیوانیت  کاننگا ناچ ناچنے کاموقع دیاگیا،کئی دنوں  تک    پوری دہلی فساد میں جھلستی  رہی،آگ  وخون  کاکھیل کھیلا جاتارہالیکن اسکوروکنے کےلئے پوراسسٹم خاموش تماشائی  بنارہا،دنیانے اس حیوانیت  اور حکومت  کی بےشرمی وبےغیرتی کاتماشہ بھی دیکھا،لاک ڈاؤن  اور کورونا وائرس کی آڑ میں  اب پورے ملک  میں uapa کے سیاہ قانون  کے تحت ،پورے ملک میں مسلم نوجوانوں  کی گرفتاریاں جاری ہیں،اور چن  چن کر ان  نوجوانوں  کو سلاخوں  کے پیچھے  ڈالاجارہاہے  ،ایک خفیہ رپورٹ  کے مطابق  صرف دہلی میں  ڈھائی  ہزار سےزائد لوگوں  کو اب  تک گرفتار  کیاجاچکاہے،اسکے علاوہ   ملک بھر کے ان شہروں  میں   جہاں   جہاں  کامیاب  اورمسلسل احتجاج چل رہاتھا اور وہاں  مسلمانوں  نے اس احتجاج  میں اہم کرداراداکیاتھا ایسے تمام لوگوں  کی  نشاندہی  کرکے گرفتار کیا جارہاہے جسکی تعداد  ہزاروں  میں ہے،افسوسناک بات یہ  ہے کہ  ایک  طرف لاک ڈاؤن   اورکروناکی مہاماری ہےافراتفری  کاعالم ہے،لوگ بےروزگار  وپریشان ہیں ایسے میں بڑی تیزی کے ساتھ   یہ حکومت  مسلمانوں  سے انتقام لےرہی ہے،اسی انتقام کانتیجہ ہےکہ قوم کے ان معصوم  نوجوان  بچوں  اوربچیوں  کی زندگی اجیرن بنانے کی  پوری تیاری کرلی گئی ہے،حیرت ناک بات یہ ہےکہ   اتنے بڑے پیمانے پرمسلمانوں کے خلاف  کارروائی  ہونے کے باوجود  ہرطرف سناٹاہے ،کہیں سےکوئی   مظبوط  آواز نہیں اٹھائی  جارہی ہے،جمعیة علماء (محمود مدنی) نےاس سلسلے میں عدالت میں اپلیکیشن   دائر کی ہے، جسکی سراہنا کی جانی چاہئے،لیکن اسکے علاوہ دیگر مسلم تنظیمیں ،این جی اوز اور سیاسی پارٹیوں  کے وہ لیڈران  جو مسلمانوں  کے ووٹ پرپلتے ہیں  ایسے تمام لوگ  مجرمانہ اورمعنی خیز خاموشی  کیوں  اختیار کئے ہوئےہیں؟کیا ایسے لوگ  اب مسلمانوں   اور مظلوموں  کی حمایت میں آواز اٹھانے سےڈرنےلگےہیں؟آخر کس مصلحت کی بنیاد  پر انکی زبانیں گنگ ہیں؟جب یہ لوگ  مسلمانوں  کےساتھ ہورہی ناانصافی اور ظلم وبربریت  کےخلاف آواز بلند نہیں کرسکتے توپھرمسلمان ایسےلوگوں کو ووٹ کیونکر دیں؟کیایہ لوگ مسلم ووٹ کے مستحق ہیں؟ہمیں اس پر سنجیدگی  سےغورکرناہوگا،اگرہم نے اسےسنجیدگی سے نہ لیاتو پھرہماری تباہی وبربادی مقدرہے ،نفرت کازہر صرف حکومت  کے ہی دلوں  میں  نہیں ہےبلکہ  عدالت اور پولس بھی اب  اس رنگ میں رنگی جاچکی ہے،ہرطرف مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضاء  پیدا کردی گئی ہےپولس کی مسلم دشمنی اور نفرت انگیز مہم کااندازہ اس  واقعےسے لگایاجاسکتاہےکہ  گذشتہ مارچ میں  ایک غیرمسلم وکیل  کو ہاسپٹل جاتےہوئے راستے میں پولس نے شدید زدوکوب کیا،بعدمیں جب پولس کومعلوم  کومعلوم  ہواکہ  جسکی بینڈبجائی گئی ہےوہ مسلم نہیں ہےگرچہ اسکو داڑھی ہےاوراسکی شکل وصورت  مسلم جیسی ہی ہے تو اس وکیل  سے پولس نے ان الفاظ میں معذرت کی کہ”بھئی ہم تو دنگوں میں بھی  ہندوؤں  کےساتھ رہتےہیں پھر عام حالات  میں کیسے کسی ہندو کو مارسکتے ہیں؟جس بندے نےآپکو پیٹاہے وہ پکا ہندو ہے،اسے آپ کی داڑھی سے دھوکہ  ہواہے”آپ کو یاد ہوگاکہ  ٹھیک اسی طرح کاواقعہ فروری میں  دہلی فساد کے دوران  بھی پیش آیاتھا،جسکو انگریزی  اخبار”انڈین ایکسپریس ” نےشائع بھی کیاتھا،واقعہ یہ تھاکہ ایک ہندو کو فسادیوں  کی بھیڑنے گھیرلیاتھااوربڑی مشکل سے وہ وہاں  سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے،اسکےلئےانھیں  ہندو ثابت کرناپڑا،غالبااسی شخص کو پینٹ کھول کر اپنی مذہبی پہچان بتانےکےلئےکہاگیاتھا،ان واقعات سے اندازہ لگایاجاسکتاہےکہ حالات کتنے سنگین  اوربھیانک ہوچکےہیں ،ماحول  میں کس قدر نفرت گھول دیاگیاہے،ان  واقعات  سے کیا آپ کو نہیں لگتاکہ شدت پسند ہندو اور  ملک کی فرقہ پرست پولس  دونوں  شانہ بشانہ  چل رہےہیں ،اور یہ سب ایک منصوبے کےتحت ہورہاہے،پھرایسے حالات میں  کیا ہمیں اب بھی  خاموشی  اختیار  کرنی چاہئے؟کیا ہم  اب بھی بیدار  ہونےکےلئے تیار نہیں ہیں؟کیا ہم ہوش کے ناخن نہیں لیں گے؟
کیاہم اسی طرح خواب غفلت کامظاہرہ  کرتےرہیں گے؟یہ وقت ہمیں سنجیدگی ،متانت  اوربردباری کےساتھ  منظم لائحہ عمل طے کرنےاور غوروفکرکرنےکی دعوت دےرہاہے،کیاہم اسکےلئےتیارہیں؟جامعہ ملیہ  اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی  جنھوں  نے مایوسی  اور ناامیدی کے ماحول  میں   امیدکی کرن فراہم کی ،اپنےحقوق کی جدوجہد کےلئے لڑائی لڑنےکاحوصلہ عطاکیا،”تحریک  شاہین باغ” جو 100دن سےزائد چلنےوالی  دنیاکی سب سے بڑی ،مثالی اورمنظم تحریک ثابت ہوئی،ان سب  جگہوں  میں  سرگرم اورفعال رہنےوالے ہزاروں  نوجوانوں  کوصرف اسلئے ” پس دیوارزنداں “کیاجارہاہے تاکہ پھرکبھی یہ  لوگ  اپنے حقوق  ،ناانصافی  اورظلم وستم کےخلاف آواز بلند نہ کرسکیں،کیاایسے  موقع پرقوم  کےان انمول  ہیرے  اور قیمتی  سرمایے کی حمایت میں ہماری مسلم تنظمیں اورہمارے قائدین ولیڈران آواز بلںد نہیں کرسکتے؟،انکی زندگیوں  کواجیرن بنانےسےنہیں روکاجاسکتا؟اگرہم یہ نہیں کرسکتے  تو پھر ہمیں سمجھناہوگاکہ ہم ایک مردہ قوم ہیں، اور ایک  میت سے زیادہ ہماری  کوئی  حیثیت  اوراقات نہیں ہے،اگرآج ہم نے ان نونہالوں  کی حفاظت نہ کی  اور انکی حمایت میں کھڑے نہ ہوئے،انکے خلاف ہورہےپولس کی بربريت  ،مصائب وآلام کےخلاف آواز نہ اٹھاسکے توکل ہمارے حقوق  کی بازیابی  کےلئے  کوئی آگے نہ آسکےگا،یھراس وقت ہماری ہرآواز صدابصحراثابت ہوگی ،جسکی  ایک پیسے کی کوئی حیثیت  نہیں ہوتی،کچھ دنوں قبل عالمی سطح پر مذہبی آزادی پرنظر رکھنےوالی امریکی ایجنسی یوایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم (یوایس سی آئی آرایف)نے بھارت سے کورونا وائرس کی اس مہاماری کےدرمیان متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنےوالے گرفتار مسلم نوجوانوں کورہاکرنےکی اپیل کی ہے،اپنے ٹویٹ پیغام میں اس کمیشن نے کہاہےکہ کووڈ19 کےاس دورمیں ایسی رپورٹ آئی ہےکہ بھارتی حکومت سی اےاے کی مخالفت کرنےوالے مسلم مظاہرین کوبڑی تعداد میں گرفتار کررہی ہے،جس میں صفورا زگربربھی ہیں جو حاملہ ہیں ایسے وقت میں بھارت کو چاہئےکہ وہ انھیں رہاکرے،اوران لوگوں کو نشانہ نہ بنائے جو احتجاجی مظاہروں کےذریعے اپنےجمہوری حقوق کااستعمال کررہےہیں ،یادرہے 27سالہ صفورا جامعہ ملیہ کی طالبہ ہیں دہلی پولس نے شہریت ترممیمی قانون کےخلاف ہونےوالےمظاہروں میں شامل ہونےکی وجہ سے 10اپریل کوانھیں گرفتارکرلیاتھاجسکی وجہ ابھی تک وہ جیل میں ہیں،اسکےعلاوہ اس کمیشن نے گرفتار کئےگئے تمام لوگوں پرافسوس کااظہاربھی کیاتھا،یہ ایک خوش آئند خبرہے لیکن یہ ہرگز کافی نہیں ہے،ہمیں اپنے حقوق کی لڑائی خودسے لڑنی ہوگی اور اسکےلئےمنظم ومتحدہوکرآوازبلند کرناہوگا،مسئلہ اسی وقت حل ہوگاجب ہم خود اسکےلئےآگےبڑھیں گےورنہ تو کوئی قابل قبول حل نکلنا مشکل ہے،شاید ایسےہی موقع کےلئےکسی شاعر نےکہاہےکہ
زمانہ جب کبھی بارود کی بوچھار بنتاہے
ہمارا حوصلہ فولاد کی دیوار بنتاہے
تمہارا ظلم کافی ہےہمیں بیدارکرنےکو
جولوہا ضرب سہتاہے وہی تلواربنتاہے

(مضمون نگار کل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کےجنرل سکریٹری ہیں)

[email protected]

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker