اخبارجہاں

غریب ملکوں کو ویکسین فراہمی کے لیے پونے 9 ارب ڈالر کے عطیات

آن لائن نیوزڈیسک
گیوی ویکسین الائنس نے کہا ہے کہ عطیہ دینے والے ملکوں، اداروں اور فلاحی تنظیموں نے 2025 تک غریب ملکوں کے عوام کو ویکسین فراہم کرنے کے لیے اسے مجموعی طور پر 8 ارب 80 کروڑ ڈالر دینے کے وعدے کیے ہیں۔
یہ وعدے لندن میں منعقدہ اجلاس میں کیے گئے جس کے لیے منتظمین نے 7 ارب 40 کروڑ ڈالر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ لیکن، اعلان کردہ رقوم اس سے زیادہ ہوگئیں۔ ان رقوم سے دنیا کے غریب ترین ملکوں میں مزید 30 کروڑ بچوں کو خسرہ، پولیو اور خناق سے بچاؤ کی ویکسینز دینے میں مدد ملے گی۔
ویکسین اتحاد نے جمعرات کو یہ بھی بتایا کہ اس نے کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کے لیے ابتدائی طور پر 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جمع کیے ہیں۔ اس غرض سے اس کا ہدف 2 ارب ڈالر ہے۔ یہ رقم پیشگی ادا کرنے سے ممکنہ ویکسین کی لاکھوں خوراکیں سستی مل سکیں گی۔
ویکسین کی یہ خوراکیں غریب ملکوں کے طبی عملے اور زیادہ خطرے میں کام کرنے والے کارکنوں کو فراہم کی جائیں گی اور کچھ مقدار ضرورت پڑنے پر استعمال کی جائے گی۔
گیوی، عالمی ادارہ صحت اور یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس بحران کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک سال سے کم عمر کے 8 کروڑ بچوں کی معمول کی ویکسینیشن میں تعطل پڑگیا ہے اور وہ بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔
اجلاس کی میزبانی کرنے والی برطانوی حکومت سب سے زیادہ رقوم کا اعلان کرنے والوں میں شامل تھی۔ اس نے اگلے پانچ سال تک 41 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سالانہ دینے کا وعدہ کیا۔ بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن اس عرصے میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر فراہم کرے گی۔ دوسرے بڑے عطیہ دہندگان میں ناورے، جرمنی اور امریکہ شامل ہیں۔
بل گیٹس نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کو شکست دینے کے لیے صرف سائنس کافی نہیں۔ اس کے لیے سخاوت بھی ضروری ہے۔ اور آج ہم نے یہی دیکھا کہ سرکاری اور نجی شعبوں کے رہنما گیوی کے ساتھ تعاون کے لیے پیش قدمی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین جب تیار ہوگی تو پیشگی ادائیگی کرنے کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگوں کو مل سکے گی۔
گیوی کے مطابق، آٹھ حکومتوں نے پہلی بار ویکسین اتحاد کے لیے عطیہ دینے کا وعدہ کیا۔ ان میں بھوٹان، برکینافاسو، کیمرون، فن لینڈ، یونان، نیوزی لینڈ، پرتگال اور یوگنڈا شامل ہیں۔
گیوی سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت سے شروع کیا گیا منصوبہ ہے جسے گیٹس فاؤنڈیشن، عالمی ادارہ صحت، عالمی بینک، یونیسف اور دوسرے اداروں کی حمایت حاصل ہے جو غریب ملکوں کے لیے تھوک کے حساب سے ویکسین کا حصول ممکن بناتے ہیں۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker