شخصیاتمضامین ومقالات

زنجیر کی شکست -مولانا محمد رفیق قاسمی کی وفات

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

تحریکی و دینی حلقوں میں یہ خبر نہایت افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن مولانا محمد رفیق قاسمی کا آج صبح تقریباً 8 بجے اچانک حرکتِ قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا _ وہ 76 برس کے تھے _ گزشتہ سال بھی انہیں دل کا دورہ پڑا تھا _ اس وقت علاج معالجہ کے بعد وہ صحت یاب ہوگئے تھے _ آج صبح دل کا شدیدہ دورہ پڑا ، جس سے وہ جاں بر نہ ہوسکے اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی _

مولانا رفیق قاسمی کی ولادت 1365ھ/1946ء میں ریاست اترپردیش کے ضلع بلرام پور میں ہوئی _ آپ کے والد کا نام مولانا محمد الیاس تھا _ آپ کی ابتدائی تعلیم مدرسہ فرقانیہ گونڈہ (یوپی) میں ہوئی _ اس کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے ، جہاں 5 برس اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے فضیلت کی سند حاصل کی _ مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور سے بھی کچھ فیض اٹھایا _ ان دونوں بڑے مدارس کے جن اساتذہ کرام سے انہیں خصوصی استفادہ کا موقع ملا ان میں دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید فخر الدین احمد ، صدر المدرسین مولانا محمد ابراہیم ، مہتمم مولانا قاری محمد طیب ، مظاہر علوم کے شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ، ناظم مولانا اسد اللہ اور استاذ مولانا محمد صدیق صاحب قابلِ ذکر ہیں _ تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا نے کچھ اوقات مدرسہ شمس العلوم ضلع سدھارتھ نگر ، مدرسہ ناصر العلوم گونڈہ ، مدرسہ اسلامی میرٹھ اور جامعہ محمدیہ بلرام پور وغیرہ میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ اس کے بعد جماعت کی سرگرمیوں کے لیے وقف ہوگئے _

مولانا رفیق قاسمی 1975 میں جماعت اسلامی ہند ، ریاست اترپردیش کے اضلاع گونڈہ و بہرائچ کے ناظم ، پھر علاقہ بریلی کے ناظم مقرر کیے گئے _ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ (جون 1975) کے بعد جب جماعت کی سرگرمیوں کو خلافِ قانون قرار دے کر ذمہ داران و ارکان جماعت کو جیلوں میں بند کردیا گیا تھا ، مولانا کسی وجہ سے گرفت میں نہیں آسکے تھے _ اس عرصے میں وہ بہت زیادہ سرگرم رہے _ مختلف جیلوں میں مقیّد رفقائے جماعت سے ملاقات کرنا اور ان کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا ، جن رفقاء کی بیل اپلیکیشن سیشن کورٹ سے خارج ہوجاتی تھی ، ہائی کورٹ سے ان کی ضمانت کے لیے کوشش کرنا ، کورٹ سے متعلق اخراجات کا انتظام کرنا اور ہمہ وقتی کارکن اور دیگر ارکان کے اہل خانہ کے معاشی مسائل کے لیے وسائل کاانتظام کرنا ، ان دنوں مولانا کی مصروفیت کے کام تھے _

1982 میں جناب سید حامد حسین کو حلقۂ اتر پردیش کا امیر مقرر کیا گیا تو مولانا رفیق قاسمی کو ان کا معاون خصوصی بنایا گیا _ حامد حسین صاحب کے انتقال کے بعد انہیں کچھ عرصہ قائم مقام امیر حلقہ ، اس کے بعد امیرحلقہ مقرر کیا گیا ۔ وہ اتر پردیش فلاح عام سوسائٹی کے بھی ناظم رہے _ 1995 میں مولانا محمد سراج الحسن کی کل ہند امارت کے زمانے میں انہیں مرکز جماعت میں بلالیا گیا اور شعبۂ خواتین کے اضافی چارج کے ساتھ شعبۂ اسلامی معاشرہ کا کل ہند سکریٹری بنا دیا گیا _ اس ذمے داری پر وہ مارچ 2019 تک فائز رہے _ مولانا جماعت کی اعلیٰ اختیاراتی باڈی مجلس نمائندگان کے بھی رکن رہے _ رواں میقات میں (جو اپریل 2019 سے شروع ہوئی ہے) وہ جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے تھے ۔

مولانا رفیق قاسمی نے مختلف ممالک (کویت ، جاپان ، ترکی ، ایران ، سعودی عرب) کا سفر کیا _ ان اسفار میں انھوں نے ہر جگہ جماعت کی نمائندگی کی _

مولانا مرحوم کا ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ مختلف مذاہب کے رہ نماؤں سے وہ خصوصی دعوتی روابط رکھتے تھے _ ‘دھارمک جن مورچہ’ کے تحت انہیں مشترکہ مسائل کے حل کی خاطر مشترکہ جدوجہد کرنے کے لیے جوڑنے کی کوشش کرتے تھے _ یہ مذہبی رہ نما بھی ان پر بہت اعتماد کرتے تھے اور ان کی خوب قدر و ستائش کرتے تھے _ اسی طرح مسلمانوں کے مختلف مسالک و مکاتبِ فکر کے علماء اور دینی رہ نماؤں سے بھی ان کے قریبی تعلقات تھے _ خاص طور پر حلقۂ دیوبند کے اکابر ، علماء اور نمائندہ شخصیات سے ان کے بے تکلف تعلقات تھے اور وہ حضرات بھی ان سے انسیت ، محبت اور اپنائیت محسوس کرتے تھے _ ان کی وجہ سے جماعت اور حلقۂ دیوبند میں کافی حد تک دوریاں کم ہوئیں اور قربت بڑھی _ دار العلوم دیوبند اور مظاہر علوم کے متعدد مواقع پر ان کے اسفار سابق امرائے جماعت اسلامی ہند ڈاکٹر محمد عبد الحق انصاری اور مولانا سید جلال الدین عمری کے ساتھ ہوئے _ وہاں ان مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان ان کے خطابات بھی ہوئے _ مولانا کی حیثیت ایک ‘زنجیر’ کی سی تھی جو ذمے دارانِ جماعت کو حلقۂ دیوبند کے اکابر سے جوڑے ہوئے تھے _ افسوس کہ ان کی وفات سے یہ زنجیر ٹوٹ گئی ہے _ وہ مسلمانوں کی دینی تنظیموں کے کل ہند وفاق ‘آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند کے بھی رکن تھے _

مولانا قاسمی نے خود تو تصنیف و تالیف کا کام نہیں کیا ، لیکن لکھنے والوں کی خوب سرپرستی اور ہمّت افزائی کی _ جماعت اسلامی ہند نے دسمبر 2006 میں ملک گیر سطح پر’ اسلامی خاندان مہم’ کے نام سے ایک دس روزہ پروگرام کا انعقاد کیا تھا _ اس کے نگراں مولانا بنائے گئے تھے _ اس موقع پر اسلامی خاندان کے مختلف پہلوؤں پر 16 کتابچے تیار کروائے گئے تھے _ مجھ سے بھی مولانا نے ایک کتابچہ ‘ رحمِ مادر میں بچیوں کا قتل _ انسداد کی تدابیر’ کے عنوان سے لکھوایا تھا _ یہ کتابچے بڑی تعداد میں پورے ملک میں تقسیم کیے گئے _ بعد میں انہیں دو مجموعوں کی شکل میں ‘اسلامی خاندان’ اور ‘اسلام کا معاشرتی نظام’ کے نام سے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع کردیا گیا تھا _ گزشتہ چند برسوں میں مولانا کی نگرانی میں مرکز جماعت اسلامی ہند میں پورے ملک کے منتخب علماء اور ائمہ مساجد کے دس روزہ کئی پروگرام منعقد ہوئے _ ان کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے ، جماعت کے باہر کے دینی حلقوں میں جماعت کا اچھا تعارف ہوا اور پھیلائی گئی بہت سے غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا _

مولانا رفیق قاسمی سے راقم سطور کے گھریلو تعلقات تھے _ میرے والد جناب محمد شفیع خاں اور میرے خسر حکیم محمد سلیمان صدیقی (مرحومین) سے ان کے قدیم تحریکی تعلقات تھے ، اس بنا پر وہ برابر مجھ پر شفقت فرماتے تھے اور محبت کا اظہار کرتے تھے _ ان کی وفات میرے لیے بھی بہت صدمے کا باعث ہے _ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی دینی و تحریکی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور سیئات سے درگزر فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے ، ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور تحریک کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین!

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker