ہندوستان

ماب لنچنگ سے بہارشرمسار،جے شری رام نہ بولنے پربجرنگ دل کے لوگوں نے نوجوان پرکیاچاقوسے حملہ

نئی دہلی: 6؍جون(بی این ایس)
ملک میں مذہبی فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں لگاتار سامنے آ رہی ہیں ۔ تازہ ترین معاملہ بہار کے چمپارن کا ہے جہاں ’جے شری رام‘ کا نعرہ نہیں لگانے والے اقلیتی طبقہ کے ایک نوجوان پر چاقو سے حملہ کیا گیا۔ قاتلانہ حملہ کے بعد بیہوش ہو چکے نوجوان کو مردہ سمجھ کر جرائم پیشے وہاں سے فرار ہو گئے لیکن کافی جدوجہد کے بعد اس کی جان بچ سکی اور اس وقت وہ ہسپتال میں زیرعلاج ہے اورخطرے سے باہرہے۔
ہندی نیوز پورٹل ‘دی کوئنٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق قاتلانہ حملہ میں بری طرح زخمی ہوئے نوجوان کا نام اسرائیل ہے اور اس کی عمر 18 سال ہے۔ مہسی باشندہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے اسے زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہا اور منع کرنے پر انھوں نے چاقو سے اس کا گلا کاٹنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ جن لڑکوں نے اسرائیل پر حملہ کیا، ان سب کا تعلق بجرنگ دل سے ہے۔
اسرائیل کی شکایت کے بعد پولس نے 6 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے لیکن ہنوز کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ مہسی تھانہ انچارج اونیش کمار کے حوالے سے ‘کوئنٹ نے بتایا کہ واقعہ 2 جون کا ہے اور شکایت ملنے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ معاملے کی جانچ شروع کردی گئی ہے۔ حالانکہ کچھ میڈیا ذرائع پر آ رہی خبروں میں کہا گیا ہے کہ پولس سپرنٹنڈنٹ نے ‘جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے کی وجہ سے حملہ کی بات پر شبہ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پوری جانچ کے بعد ہی سچ سامنے آ سکے گا۔
لیکن زخمی اسرائیل نے ‘کوئنٹ سے بات کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اس پر حملہ ‘جے شری رام کا نعرہ نہیں لگانے کی وجہ سے ہی کیا گیا۔ اس نے بیان دیا ہے کہ “بارش کی وجہ سے ہمارے یہاں لائٹ نہیں تھی۔ میں دن میں تقریباً ڈھائی بجے موبائل چارج کرنے کے لیے اپنے دوست کے پاس بتھنا گیا تھا۔ تبھی مداری چوک سے جو راستہ بتھنا جاتا ہے، وہاں کچھ لڑکے کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک لڑکے نے مجھے کہا کہ اِدھر کہاں جا رہے ہو، بتھنا میں میاں یعنی مسلمان کا جانا منع ہے۔ پھر ان لڑکوں نے مجھے گھیر لیا اور پکڑ کر ‘جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ جب نعرہ نہیں لگایا تو مجھے مارنا شروع کر دیا۔ کپڑے سے میرا منھ بند کرنے کی کوشش کی۔ تبھی ان میں سے ایک لڑکے نے کہا کہ گلا کاٹ دو اس کا اور پھر اس نے چاقو سے میرے گلے پر حملہ کیا۔ میرے سر میں چوٹ آئی جس سے میں بیہوش ہو گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو ہسپتال میں تھا۔
اسرائیل نے اپنی ایف آئی آر میں جن 6 لوگوں کا نام لکھوایا ہے وہ رام گوپال، انشو، راہل برنوال، لکھن، پرنس، ابھشیک اور نتیش ہیں۔ ان میں سے کسی کی بھی گرفتاری ابھی تک نہیں ہو ئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک نامزد ملزم پرنس کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ “ہم پر جھوٹا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ہم واقعہ کے وقت کہیں دوسری جگہ گئے ہوئے تھے۔ قصداً اس معاملے کو ہندو-مسلم کا رنگ دیا جا رہا ہے۔”
نیوزپورٹل کوئنٹ کا کہنا ہے کہ جب ان لڑکوں سے یہ پوچھا گیا کہ وہ لوگ کس تنظیم سے وابستہ ہیں، تو پرنس نے واضح لفظوں میں کہا کہ وہ سارے لڑکے بجرنگ دل سے ہیں۔ اس درمیان کوئنٹ کی بات گولو کھلانی نامی ایک شخص سے بھی ہوئی جو خود کو بجرنگ دل کا چکیا ڈویژن سربراہ بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ لوگ (ملزمین) بجرنگ دل سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے انھیں پھنسایا جا رہا ہے۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker