مسلم دنیا

اوپیک پلس تیل کی پیداوار میں کمی جاری رکھنے پر متفق

آن لائن نیوزڈیسک
اوپیک پلس ممالک تیل کی پیداوار میں کمی کے معاہدے میں جولائی کے آخر تک توسیع پر متفق ہوگئے۔تیل کی پیداوار میں کمی کے حوالے سے ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس ریاض میں منعقد ہوا ۔ اوپیک پلس کے حوالے سے سعودی عرب کی نمائندگی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کی۔
العربیہ نیٹ کے مطابق ہفتے کو ہونے والے اوپیک پلس کے اجلاس میں شرکا نے تیل کی پیداوار میں کمی کے دورا نیے کو مزید ایک ماہ کےلیے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔روسی وزیر توانائی الیکزینڈر نوواک کا کہنا تھا کہ اوپیک پلس نے جولائی تک یومیہ تیال کی پیداوار 9.7 بیرل تک رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع نے رائٹرز کے حوالے سے بتایا کہ اوپیک اور روس نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ جولائی کے اختتام تک تیل کی قیمتوں میں کمی کو برقرار رکھا جائے گا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کاوشوں کے نتیجے میں مارکیٹ میں عالمی سطح پر 10 فیصد سپلائی روک دی گئی تھی۔
العربیہ کا کہنا ہے کہ اجلاس سے قبل تیل منڈی کے حوالے سے کیے جانے والے معاہدے کے بارے میں آنے والی بہتری کے بارے میں بھی غور کیا گیا جس میں جمعے کو ویسٹ ٹیکساس خام تیل میں 5.76 فیصد کا اضافہ ہوا جو 39.55 ڈالر تھا جو بعدازاں 5.78 فیصد اضافے کے ساتھ 42.30 ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔
یاد رہے کہ کہا گیا تھا کہ اوپیک پلس کے اجلاس میں عراق اور نائجیریا کو پیداواری کوٹے کی سختی سے پابندی پر مجبور کرنے والی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
اوپیک پلس میں شامل تیل پیدا کرنے والے ممالک نے سابقہ اجلاس میں طے کیا تھا کہ مئی اور جون کے مہینے میں تیل کی یومیہ پیداوار میں 9.7 ملین بیرل کمی کی جائے گی تاکہ کورونا بحران کی وجہ سے تیل کے نرخوں میں نمایاں کمی کی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔پروگرام کے مطابق جولائی سے دسمبر تک تیل پیداوارمیں یومیہ کمی 7.7 ملین بیرل کی جانی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی پیداوار میں کمی میں توسیع کے لیے معاہدہ طے پایا تھا۔دونوں ممالک نے دوسرے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو پیداوار میں کمی کے وعدوں کی تکمیل کی یقین دہانی کراتے ہوئے سخت موقف اپنایا۔
اوپیک پلس کے اجلاس سے قبل دونوں بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے دوسرے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے کہا تھا کہ انہیں پیداوار میں کمی کے معاہدے کی پابندی کرنا چاہیے ورنہ اپریل میں ہونے والی کساد بازاری کی واپسی کا خطرہ ہے جب تیل کی قیمتیں کم ترین سطح پر چلی گئی تھیں۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker