Baseerat Online News Portal

لاک ڈاؤن میں خواتین نے مردوں سے زیادہ ملازمت گنوائی

نئی دہلی:10؍جون ( بی این ایس )
لاک ڈاؤن 25 مارچ سے ہندوستان میں کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ ہوا، تاہم اپریل تک 12کروڑ ہندوستانی اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ مئی میں ہونے والے قومی روزگار کے سروے کے مطابق خواتین مردوں سے زیادہ ملازمت سے محروم ہو ئی ہیں، خواتین مستقبل کے بارے میں بھی فکر مندی بڑھ گئی ہے۔ایسی ہی ایک کہانی21 سالہ سیما منڈا کی ہے،سیما کے والدین چاہتے تھے کہ بیٹی کی جلد شادی ہوجائے ، لیکن سیما نرس بننا چاہتی تھی۔ وہ سوچتی تھی کہ نوکری صرف بھائی کی ہی کیوں میںبھی برسرروزگار ہوجاؤں؟ گزشتہ موسم گرما میں سیما گھرسے بنگلور آئی تھی۔ یہاں اسے شرٹ سلائی فیکٹری میں کام ملا۔ سیما کا کہنا ہے کہ اس نوکری نے اسے معاش کی فکر سے نجات ملی، لیکن لاک ڈاؤن نے اس سے یہ خوشی چھن گئی ۔وہیںماہرین کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران ہندوستان میں ارینج میرج میںبھی اضافہ ہوا ہے۔ اہل خانہ ان شادیوں کو بیٹی کی مستقبل کی حفاظت سمجھتے ہیں۔ ہندوستان میں میرج کی کئی بڑی ویب سائٹوں کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد شادی کی رجسٹریشن میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ہندوستان میں خواتین شادی کی وجہ سے نوکریوں پر نہیں جاتی ہیں ، لیکن اس سے ان کی معاشی آزادی میں فرق پڑتا ہے۔ خواتین کے لئے گاؤں سے باہر جاکر ملازمت کرنا مشکل ہے۔بہت سی خواتین کو ان چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں اپنے والدین کی اجازت سے جلدی شادی نہ کرنا اور گاؤں سے باہر کام پر جانے کی اجازت نہیں۔کچھ اندازوں کے مطابق اس سال ہندوستان کی معیشت میں 5 فیصد کمی ہوگی، اور یہ کمی آزادی کے بعد سے سب سے بدترین فیصدی ہوگی ، اس صورت میں خواتین کیلئے کئی مشکلات کھڑی ہوں گی ۔

You might also like