مسلم دنیا

کوروناوائرس کی وجہ سے معیشت بند کرتے ہیں تو غریب آدمی مر جاتا ہے: عمران خان

آن لائن نیوزڈیسک
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اگر معیشت بند کرتے ہیں توغریب آدمی مر جاتا ہے۔بدھ کو کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘پہلے دن سے میرا موقف دیکھ لیں، کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ ‘ بلاول لگے ہوئے تھے کہ لاک ڈاون، لاک ڈاون۔ بلاول کو تو پتا ہی نہیں کہ بیچارے غریب لوگ رہتے کس طرح ہیں۔ بلاول ہاؤس میں اگر لاک ڈاؤن ہو جائے تو آسان ہے کھانا بھی مل رہا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیم کرنے والوں نے کچھ اہم امور کے بارے میں نہیں سوچا جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اختیارات جس قدر سنٹرلائزڈ رہیں گے مسائل اس قدر زیادہ ہوں گے۔’جس قدر آپ اختیارات کو عوام کے قریب لے جائیں گے وہ زیادہ بہتر طور پر بتا سکیں گے کہ ان کو کیا چاہیے‘وزیراعظم نے کہا کہ جتنے آپ فیصلے عوام سے دور رکھیں گے وہ فیصلے غلط ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’میں شروع سے ہی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا حامی رہا ہوں‘
عمران خان نے کہا کہ ’ہمارا المیہ رہا کہ پہلے مرکزی سسٹم تھا سب کچھ فیڈریشن کے پاس تھا، اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ صوبوں کے پاس چلا گیا وہاں سے اسے جانا چاہیے تھا بلدیاتی سسٹم کو، لیکن بات وہاں تک نہیں گئی۔‘کراچی کے مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ اختیارات نیچے تک منتقل نہیں ہوئے، فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں۔اگر کسی پارٹی کی مرکزی طاقت کچھ اور ہے تو وہ اسی کو لے کر آگے چلتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بالکل اسی طرح پنجاب میں بھی اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوئے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں بھی بلدیاتی طور پر جو طاقت نیچے منتقل ہوئی وہ بھی سنہ 2008 کے بعد بننے والی حکومتوں نے واپس لے لی۔
’سنہ 2013 میں اگر کسی صوبے نے اختیارات نیچے تک منتقل کیے تو وہ کے پی تھا جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب ہم تاریخ کا بہترین بلدیاتی سسٹم لے کر آ رہے ہیں۔ اس کے تحت ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں ایک بہترین لوکل گورنمنٹ سسٹم بنے گا، جس میں پیسہ کسی کے ذریعے نہیں براہ راست ویلج کونسلز کو جائے گا۔‘عمران خان کا کہنا تھا کہ ’تحصیل کونسلز اور شہروں کے ڈائریکٹ انتخابات ہوں گے جن میں ناظم یا میئر منتخب ہوں گے‘انہوں نے کہا کہ کراچی اور لاہور جیسے شہروں کے مسئلے تب حل نہیں ہو سکتے جب تک ان کے ڈائریکٹ الیکشنز نہ ہوں۔این ایف سی ایوارڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا اس کا 65 فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد سکیورٹی اور قرضوں کی اقساط کے بعد شروع ہوتا ہے وفاق سترہ ارب کے خسارے سے، اس لیے سارا فیڈرل بجٹ قرضے لے کر بنتا ہے۔
’اس سسٹم پر بات کرنے کی ضرورت ہے، اس کا پھر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے‘۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker