Baseerat Online News Portal

کورونا وائرس سے بچنے کے لئے یہودیوں نے اسرائیل کی جانب ہجرت کرناشروع کردیا

آن لائن نیوزڈیسک
کرونا وائرس کی عالمی وبا نے گزشتہ چند مہینوں میں جان و مال کے نقصان کی شکل میں جو تباہی مچا رکھی ہے، وہ تقریبا سو سال کے عرصے میں ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پہلی عالمی جنگ کے بعد اسپینش فلو کی وبا میں کروڑوں افراد کی جانیں تلف ہوئی تھیں۔
کرونا کی وبا کے اثرات کو معاشرتی زندگی میں بھی شدید طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک دلچسپ پہلو جو توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے یہودی اب بڑی تعداد میں دوسرے ملکوں سے نقل مکانی کر کے اسرائیل میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں کرونا وائرس سے نہایت کم تعداد میں ہلاکتوں کی خبریں ملی ہیں۔ اسرائیل نے جب کہ سیاحوں کی آمد پر پابندی لگا رکھی ہے، ہجرت کر کے آنے والے یہودیوں کو وہ نقل مکانی کی اجازت دے رہا ہے۔
یروشلم سے وائس آف امریکہ کے لئے لنڈا گریڈسٹائین نے اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ اسرائیل یہودیوں کی واپسی کے حق کو تسلیم کرتا ہے جس کے پس پردہ اس کی یہ پالیسی ہے کہ جبر و استبداد کی ایک طویل تاریخ اور خطرات کے پیش نظر یہودی آبادی کو محفوظ پناہ گاہ مہیا کی جائے۔
جب سے اسرائیل کا قیام عمل میں آیا ہے، وہاں بہت بڑی تعداد میں طیاروں میں بھر بھر کر یہودیوں کی آمد کا خیر مقدم کیا جاتا رہا ہے۔ تمام یہودی تارکین وطن کو از خود شہریت دی جاتی رہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ یہاں امریکہ سے بھی بہت سے یہودی نقل مکانی کر کے اسرائیل جا رہے ہیں، ان ہی میں نیلی گرس گوٹ بھی شامل ہیں، جن کی عمر نوے برس ہے، انھوں نے اچانک ہی ترک وطن کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ اسرائیل میں اپنے بچوں کے ساتھ شمولیت کی متمنی ہیں، جو پہلے ہی سے وہاں مقیم ہیں۔ یہ بزرگ خاتون نہیں چاہتیں کہ اب اپنی بقیہ زندگی نیویارک میں عمر رسیدہ لوگوں کے لئے مخصوص کسی مرکز میں گزاریں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں سے ملنے کے لئے اسرائیل آتی جاتی رہی ہیں تاہم کرونا کی آفت نے انھیں اب نقل مکانی کے فیصلے پر آمادہ کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ فی الوقت اسرائیل اس اعتبار سے محفوظ ترین ملک ہے۔
ان کی بیٹی دینا نے بتایا کہ ہم نے یہ محسوس کیا کہ بروکلین، نیویارک میں ایک جنازہ گھر کے پڑوس میںِ جہاں تھوڑے تھورے وقفے سے کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی میتیں لائی جاتی رہی ہیں، میری والدہ کا مزید قیام کرنا ان کے لئے ذہنی اذیت کا باعث ہو سکتا ہے، اور ان کے لئے واحد محفوظ جگہ اسرائیل ہی ہو سکتا ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ متعدد اسرائیلی تنظیمیں، شمالی امریکہ سے ہر سال تقریبا چار ہزار یہودیوں کی نقل مکانی میں ان کی مدد کرتی ہیں۔
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران یہودیوں کی ہجرت کے موجودہ سلسلے میں پچاس لوگوں کو لے کر ایک طیارہ گزشتہ ہفتے ہی اسرائیل پہنچا ہے۔ اس میں سوار ترک وطن کرنے والے ایک شخص نے اپنے احساسات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی مسرت کی بات ہے کہ اسرائیل نے مصیبت کی موجودہ گھڑی میں اپنے لوگوں کے لئے دروازے کھول دئیے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرکرونا وائرس کی عالمیگیر وبا طول پکڑتی ہے تو ہجرت کے خواہش مند یہودیوں کی تعداد میں آئندہ اور بھی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ عمرانیات کے ماہرین کے لئے یہ یقیناً ایک نہایت دلچسپ اور غور طلب بات ہے۔

You might also like