Baseerat Online News Portal

عالمگیر وبا کی وجہ سے مہاجرین کی صورت حال بدتر ہو رہی ہے: اقوام متحدہ

آن لائن نیوزڈیسک
مہاجرین کے عالمی دن کے موقعے پر اقوام متحدہ کے حکام نے انتباہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمگیر وبا سے دنیا بھر میں مہاجرین کے مسائل مزید بدتر ہوں گے۔ لاکھوں مہاجرین اور بے گھر افراد کو صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت ماضی کی نسبت زیادہ لوگ جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔
ادارے کے اندازے کے مطابق، انہتر اعشاریہ پانچ ملین لوگ تنازعات اور پر تشدد حالات کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً تیس ملین مہاجرین دوسرے ایسے ملکوں میں پناہ گزیں ہیں، جہاں معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں، اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جن حالات میں مہاجرین رہ رہے ہیں، ان کی وجہ سے ان کی صحت خطرات میں گھری ہوئی ہے اور یہ کرونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ چھت، پانی، خوراک اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان مہاجر کیمپوں میں کرونا کی وبا پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں، جس پر عالمی ادارہ صحت کو سخت تشویش ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، فلیپو گرانڈی اس اندازے سے متفق ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے مہاجرین کیمپوں میں نہیں رہتے اور جن مقامی آبادیوں میں یہ مقیم ہیں وہ پہلے ہی کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہیں۔
لاطینی امریکہ کے سترہ اٹھارہ ملکوں میں وینزی ویلا کے چالیس لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اسی طرح افریقہ میں مہاجرین کی بہت بڑی تعداد ہے۔ پاکستان اور ایران میں لاکھوں مہاجرین ہیں۔ ان سب جگہوں پر جو حالات ہیں، ان کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی بھی وقت کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
گرانڈی نے کہا ہے کہ انھیں اس بارے میں بھی تشویش ہے کہ کرونا وبا نے ان سے ان کا روزگار بھی چھین لیا ہے۔ لاک ڈاون اور دوسری احتیاطی پابندیوں کی وجہ سے ان کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو گئے ہیں اور یہ اس قابل نہیں کہ اپنا علاج معالجہ کر وا سکیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے مزید کہا کہ کرونا وائرس یہ نہیں دیکھتا کہ کون مقامی ہے اور مہاجر یا کون زبردستی بے گھر ہوا ہے۔ یہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

You might also like